نیب قانون کی قلابازی اور ہمارے ادارے

31 اگست 2019

ای میل

شہریوں کے ایک چھوٹے سے حصے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈینینس میں نرمی لانے کا حکومتی منصونہ نہایت ہی باعثِ تجسس بنتا جا رہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مشرف کے بنائے گئے اس قانون میں چند بنیادی خامیوں کو تھوڑے پھوہڑ پن کے ساتھ دُور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت کو اس بات کا خیال صرف چند دن پہلے ہی آیا، حالانکہ اس بارے میں عام شہریوں کو برسوں سے خبر تھی کہ نیب کی جانب سے متاثرین سے شواہد ہتھیانے کا طریقہ کار گورننس، انصاف اور معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ عدلیہ نے بھی اس بااختیار ادارے کے کام کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے لیکن ادارے کو کوئی فرق نہیں پڑا۔

کابینہ کے اجلاس میں اس موضوع پر ہونے والی گفتگو کے بعد اب مشیر برائے اطلاعات نے جن باتوں کے انکشافات کیے ان سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ نیب نے قومی بحران کو جنم دیا ہے۔

مشیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ معیشت کا بُرا حال اس لیے ہوا کیونکہ سرمایہ کار اور کاروباری حضرات نیب سے اس قدر خوفزدہ ہوچکے ہیں کہ وہ اپنی تجارتی سرگرمیوں کو ٹھیک سے انجام ہی نہیں دے پارہے، جبکہ بیوروکریٹس نے فائلوں پر دستخط کرنا بھی بند کردیا۔

مشیر کی بڑھا چڑھا کر کی جانے والی باتوں کی عادت کو درگزر کرنے کے بعد بھی کابینہ کے اجلاس میں زیرِ غور لائی جانے والی باتوں کے بارے میں جو نتیجہ اخذ کیا اس نے عوام کو بہت زیادہ اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔

اگلے دن وفاقی وزیرِ قانون نے چند مزید قابلِ فہم تشریحات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شخصیات اور بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ ان افراد کو بھی نیب کی زیادتیوں سے محفوظ بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہے جو کبھی بھی سرکاری عہدوں پر فائز نہیں رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیب کا جال صرف اور صرف سرکاری عہدوں پر فائز ہونے والے افراد کے لیے ہوگا، اور یہ افراد دراصل وہ سیاستدان ہیں جن کے پاس اس وقت کوئی لابی نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے تاجر برادری کی پرواہ کرنے والی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ خاندانِ پاکستان کا اہم حصہ ہیں اور مارکیٹ معیشت کے اس دور میں ان کی اہمیت کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اب اس بات کو کیا یاد کیا جائے کہ برِصغیر کے سیاسی رہنما، خواہ ان کا تعلق کانگریس سے ہو یا پھر مسلم لیگ سے، وہ کرپشن جیسے بڑے مسئلے سے تقسیم ہند کے وقت اسی لمحے آگاہ ہوگئے تھے جب ان کا سامنا دوسری جنگِ عظیم کے دوران کاروباری شخصیات کی جمع کی ہوئی دولت سے ہوا۔

دونوں سیاسی جماعتوں نے نو دولتیوں کے احتساب کا فیصلہ کیا لیکن جب (47ء-1946ء کی عبوری حکومت کے) وزیرِ خزانہ لیاقت علی خان نے ان افراد پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو طاقتور بزنس لابی نے اپنی ناجائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کا ایک حصہ اگلنے کے بجائے تقسیم کو ترجیح دی۔

ہمیں یہ امید رکھنی چاہیے کہ موجودہ کاروباری برادری ماضی کی طرح اپنے اندر کالی بھیڑیں بالکل بھی نہیں رکھتی، وہ کالی بھیڑیں جنہوں نے ریاست کے حرارت خانے میں افزائش پائی، برآمدی رسیدوں پر پیسے بنائے، ترقیاتی کاموں کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ کیا اور مشینری کی درآمدات کی مد میں زیادہ بڑے بل بنائے۔ پاک دامن کاروباری برادری کو بے رحم نیب کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اسی طرح ہمیں یہ بھی امید رکھنی چاہیے کہ سول بیوروکریسی نے اپنے ان سابقین کی راہ پر چلنا چھوڑ دیا ہے جو فوجی آمروں اور کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ اپنے فرائض سے تجاوز کرتے ہوئے تعاون کرتے رہے، لہٰذا یہ بھی کسی طور پر نیب کی سختیوں کے مستحق نہیں ٹھہرتے۔ (یاد رہے کہ عدالتی اور فوجی بیوروکریسی پر نیب کا قانون لاگو نہیں ہوتا)۔

تاہم اگر نیب کے پاس صرف سرکاری عہدیدار یعنی وہ سیاستدان ہی ڈرانے کے لیے بچ گئے ہیں جو اب بھی احتسابی بُھوت سے خائف نہیں ہیں، تو بھی ان سے قانونی کارروائی اور منصفانہ سماعت کا حق نہیں چھینا جاسکتا۔

ویسے سننے میں آرہا ہے کہ نیب مقدمات میں بھی اب ضمانت ہوسکے گی، اگر ایسا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا، لیکن ایسے کئی مسائل ہیں جن کا حل تلاش کرنا اب بھی باقی ہے۔

مثلاً، سرسری شواہد کی بنا پر لوگوں کو گرفتار کرنا اور پھر انہیں اس وقت تک ٹارچر چیمبرز میں رکھنا جب تک وہ جرم قبول نہ کرلیں یا پھر شریکِ الزام وعدہ معاف گواہ نہیں بن جائیں، ایسے عوامل ایک مہذب ریاست کو زیب نہیں دیتے۔ بلاشبہ یہ عوامل تھرڈ ڈگری کو قانونی حیثیت دینے کے برابر ہیں۔

دوسری بات، کاروباری شخصیات اور بیوروکریٹس کے خلاف شکایتوں کی چھان بین کا کام سپروائزری باڈیز کو دینے کا تصور ناخوشگوار ممکنات سے بھرپور ہے۔ یوں تو وسیع پیمانے پر موجود اتحاد کی مدد سے وسائل سے بھرپور کرپٹ افراد اپنے خلاف قائم کردہ تمام تر کارروائی کو اندرونی طور پر ہی ختم کرنے کے اہل بن سکتے ہیں۔

تیسری بات، سیاستدانوں کے احتساب کے لیے جتنے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، مثلاً 1949ء کا پروڈا، 1959ء کا ایبڈو، 1997ء کا احتساب ایکٹ، ان سب کا انحصار حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر رہا اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کی جاتی رہی۔ نیب قانون بھی آزادی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے اس فیصلے پر منحصر ہونے کی وجہ سے متاثر ہے کہ کسے اور کب نیب کے آگے گھسیٹا جائے۔

پھر تو ظاہر سی بات ہے کہ نیب قانون کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ اسے منصفانہ اور غیر امتیازی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ڈھالا جاسکے۔

اگرچہ اس موضوع پر مقتدرین کو یہ سمجھانا شاید ضروری ہے کہ بھلے ہی ایک ایسا احتسابی عمل موجود ہو جو کرپٹ کو پکڑنے اور انہیں سزا دینے پر ہمہ تن متوجہ ہو تو بھی وہ کرپشن کے متعدد سروں والی عفریت کو زیر کرنے میں آدھے سے بھی کم حد تک مؤثر ثابت ہوگا۔ اتنی ہی ضرورت کرپشن کی روک تھام کی ہے، اگر مناسب سمجھا جائے تو۔ اگر کوئی شخص اس طریقہ فکر پر چل رہا ہے تو وہ اقوام متحدہ کے کنوینشن برائے انسدادِ بدعنوانی کی مدد سے مناسب ہدایات حاصل کرلے گا۔

کنوینشن کا دوسرا باب مکمل طور پر انسدادی اقدامات کے بارے میں ہے۔ اس کے آرٹیکل 5 انسدادِ بدعنوانی کی انسدادی پالیسیوں اور عوامل کا مطالبہ کرتا ہے اور ہر فریق کو ریاست سے انسداد بدعنوانی سے متعلق ایسی مؤثر اور مربوط پالیسیاں ترتیب دینے اور ان کے نفاذ کا تقاضا کرتا ہے جن سے معاشرے کی شراکت داری کو فروغ ملتا ہو اور قانون کی حکمرانی، عوامی معاملات اور املاک کی مناسب منیجمنٹ، سالمیت، شفافیت اور احتساب کے اصول منعکس ہوتے ہوں۔

6 تا 14 آرٹیکل انسدادی باڈیز برائے انسدادِ بدعنوانی کی تشکیل، ’سول سرونٹس کی بھرتی، انہیں نوکری پر رکھنے، عہدوں پر فائز رکھنے، ترقیاں دینے اور ان کی ریٹائرمنٹ کے لیے مضبوط نظام کو بحال رکھنا‘، سرکاری عہدے رکھنے والوں کے لیے ضابطہ اخلاق، پبلک پروکیورمنٹ اور پبلک فنانس، حکومتی اعداد و شمار تک عوامی رسائی، عدالتی اور استغاثہ کی خدمات، نجی شعبہ، سماجی شراکت داری اور منی لانڈرنگ کے انسدادی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

ریاستی ادارے مندرجہ بالا مطالبات سے واقف ہیں، لیکن ریاستی ادارے برسوں سے بدانتظامی اور اپنے متروکہ ہدایت ناموں پر عمل پیرا رہنے کی وجہ سے فرسودگی کا شکار بن چکے ہیں۔

ریاست مسلسل اس حقیقت سے نظریں چراتی رہی ہے کہ کرپشن کی جڑیں ریاست کی جانب سے اپنی من مرضی اور غیر آئینی طریقہ کار کے ساتھ نظام چلانے، ریاست کی سماج کے چند حصوں کے ساتھ کسی ایک یا متعدد جگہوں پر ظاہری اور باطنی امتیاز برتنے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو قانون اور اس کے تحت حاصل ہونے والے تحفظ کے آگے برابر نہ ٹھہرانے کے رجحان میں موجود ہیں۔

ایک ایسے معاشرے میں کرپشن کا خاتمہ ناممکن ہے جس کی نمایاں صفت عدم مساوات ہو۔


یہ مضمون 29 اگست 2019ء کو شائع ہوا۔