افغانستان: طالبان کے خودکش حملے میں دو غیر ملکی فوجیوں سمیت 12 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2019

ای میل

ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا — فوٹو: اے پی
ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا — فوٹو: اے پی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں امریکا اور رومانیہ کے 2 فوجی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق خودکش کار بم دھماکا مصروف سفارتی علاقے میں ہوا جہاں امریکی سفارتخانہ بھی قائم ہے جبکہ ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔

نیٹو ریزولیوٹ مشن کے بیان کے مطابق دو سروس اراکین 'کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے'، بیان میں ہلاک اراکین کے نام یا دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ چوتھا امریکی اہلکار تھا جو گزشتہ دو ہفتے کے دوران افغانستان میں ہونے والے حملوں میں نشانہ بنا۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کہا کہ خودکش دھماکے میں 42 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ 12 گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

چند گھنٹے بعد طالبان نے پڑوسی صوبے لوگر میں افغان ملٹری بیس کے باہر کار بم دھماکا کیا جس میں 4 شہری ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سفیر نے طالبان کے ساتھ معاہدے کا مسودہ افغان صدر کو پیش کردیا

طالبان نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے 'غیر ملکیوں' کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو کابل میں سخت سیکیورٹی والے علاقے شاشدرک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جہاں افغان قومی سلامتی کے حکام کے دفاتر ہیں۔

خودکش کار بم دھماکے میں 12 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں — فوٹو: اے پی
خودکش کار بم دھماکے میں 12 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں — فوٹو: اے پی

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ خودکش بمبار کی گاڑی چیک پوسٹ کی جانب مُڑی اور دھماکے سے اڑ گئی۔

افغان صدارتی ترجمان صادق صدیقی نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'ہم سب نے سیکیورٹی کیمرے میں دیکھا کہ کس کو ہدف بنایا گیا۔'

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب امریکا کے خصوصی نمائندے برائے افغان امن عمل رواں ہفتے افغانستان میں تھے، جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر رہنماؤں کو امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی۔

افغان حکومت نے ممکنہ معاہدے کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام کو اس حوالے سے لاحق خطرات کے بارے میں مزید معلومات جاننے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں، طالبان

امریکا اور طالبان کے معاہدے سے بیشتر افغان شہریوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہیں اس عمل سے علیحدہ رکھا گیا اور وہ اسلامی انتہا پسندوں کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے خوفزدہ دکھائی دیئے۔

افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے کہا کہ جہاں کابل امن عمل میں پیش رفت کی حمایت کرتا ہے وہیں اس کے منفی اثرات بھی روکنا چاہتا ہے۔