پاکستان میں بچوں کے لیے خصوصی ٹی وی پروگرام کیوں نہیں بنتے؟

اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2019

ای میل

’یہ ایک ایسا کام ہے جس میں بڑوں کو ایک بچے کے ذہن اور خیالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے معقول فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔‘— خاکہ: لیئہ
’یہ ایک ایسا کام ہے جس میں بڑوں کو ایک بچے کے ذہن اور خیالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے معقول فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔‘— خاکہ: لیئہ

’بچوں کے لیے ٹی وی پروگرامز بنانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے‘، یہ جملہ تھا فاروق قیصر کا جنہوں نے مجھے ایک شام فون پر بات کرتے ہوئے کہا۔ قیصر کو اگر آپ نہیں جانتے تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے انکل سرگم، مائی مصیبتے اور رولا جیسے پروگرام بنائے، صرف یہی نہیں بلکہ وہ دیگر ان پپٹس کے میزبان بھی رہے ہیں جو 3 دہائیوں پہلے پاپ کلچر کی علامت بن گئے تھے۔

وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ ایک ایسا کام ہے جس میں بڑوں کو ایک بچے کے ذہن اور خیالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے معقول فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔‘ یہ کام اپنے جوتے کے سائز کے مقابلے میں 5 گنا چھوٹے رنگ برنگے جوتے میں پیر ڈالنا جیسا ہی ہے۔

قیصر کہتے ہیں کہ ’پھر ان پروگراموں کو کارآمد بنانے کا تو معاملہ ہی الگ ہے اور یہ کام 70 کی دہائی کے مقابلے میں آج اور بھی زیادہ مشکل بن چکا ہے۔‘

انکل سرگرم پہلی بار پی ٹی وی پر بچوں کے ایک پروگرام کلیاں میں جلوہ گر ہوئے تھے، پھر برسوں بعد انہوں نے ڈان نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام سیاسی کلیاں میں اپنی توجہ کا مرکز بالغین کو بنایا۔ آج انکل سرگرم بیتے وقت کی بچی کچھی نشانی اور سادہ اور کم کمرشل دور کی یاددہانی ہیں۔

قیصر کے مطابق جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے، ویسے ویسے ٹی وی پروگرامز سے متعلق بچوں کی پسند، ناپسند اور ان کے مزاج میں بھی تبدیلی آتی جارہی ہے۔ پھر پرانے وقتوں کی طرح بچوں کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دینے کا سلسلہ تو تقریباً ختم ہی ہوگیا ہے۔

ایک وقت تھا جب سرکاری ٹی وی ہی ٹی وی تفریح کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ پورے دن کی نشریات میں الگ الگ مواد پر مشتمل پروگرام کے لیے وقت مقرر ہوتا تھا۔ کامیڈی، ڈراموں، انفوٹینمنٹ (اس زمانے میں اسے ڈاکومینٹری پکارا جاتا تھا) اور بچوں کے پروگرام کے لیے خاص وقت مختص ہوتا تھا۔

ہفتے میں ایک دن عام طور پر 4 سے 5 بجے کے دوران پی ٹی وی پر بچوں کے لیے کارٹون، ڈرامے (بہادر علی، عینک والا جن) اور میوزک (مثلاً سنگ سنگ چلیں) و مختلف نوعیت کے پروگرام نشر ہوا کرتے تھے۔ ان پروگراموں کا مقصد سیدھا سادہ تھا: بچوں کو ہلکے پھلکے انداز میں تعلیم و آگہی دینا۔

جیسے ہی 80 کی دہائی کے بعد 90 کی دہائی کی ابتدا ہوئی اور (ایس ٹی این پر نشر ہونے والے) پاکستان کے پہلے نیم نجی نیٹ ورک این ٹی ایم کی آمد ہوئی تو تخلیقی (یا برآمد شدہ) مواد کے حوالے سے خیالات اگلے کم از کم چند برسوں تک تو ویسے ہی رہے۔ لیکن پھر مارکیٹنگ کے دور کا آغاز ہوا، جو بچوں کے خصوصی پروگراموں کو کھا گیا۔

دنیا میں یہ عام رواج ہے کہ بچوں اور بڑوں سے متعلق پروگراموں کے لیے وقت تقسیم ہوتا ہے۔ بھارت کے سرکاری چینل دور درشن نے بھی یہی طریقہ اپنایا ہوا ہے، جبکہ میچور مارکیٹ ہونے کے باوجود امریکی ٹی وی نے بھی بچوں کے لیے ایک خاص وقت مختص کر رکھا ہے۔ اگرچہ امریکی ٹی وی کو چلڈرن ٹیلی وژن ایکٹ (جسے کڈ وِڈ رولز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کی صورت میں سخت ضابطوں کا سامنا تھا مگر بدلتے وقت نے امریکی ٹی وی صنعت کو بھی بدل کر رکھ دیا۔

آج تو معاملہ یہ ہے کہ کارٹون نیٹ ورک اور نکلوڈین جیسے چینلوں، یوٹیوب، نیٹ فلکس یا موشن پکچرز جیسے دیگر انٹرنیٹ پلیٹ فارمز پر 24 گھنٹے بچوں کے لیے مواد دستیاب ہے۔

ممکن ہے یہ آپ کو کامیابی نظر آئے لیکن اتنی جلدی جشن مت منائیے۔ اگر آپ صنعت سے وابستہ سینئر شخصیات یا پھر ایسے افراد جنہوں نے 3 دہائیوں قبل اپنے بچپن کے دن دیکھے ہیں، ان سے پوچھیں گے تو آپ کو ناکامی کا صدمہ محسوس ہوگا۔

سینئر پروڈیوسر و ہدایت کار اور بچوں کے لیے اصلی پروگرام مرتب کرنے سے متعلق زور دینے والی مصباح خالد کو شکایت ہے کہ ملک میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے ایسے مواد کی شدید کمی ہے کہ جس سے بچوں کے لیے تعلق بنانا آسان ہو۔

انہوں نے اسپین سے بھیجے گئے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہمیں بچوں کے لیے ایسے پروگرام بنانے ہوں گے جو ان کی توجہ حاصل کرسکیں۔ ایسا بہت سارا مواد دستیاب ہے جس کی نہ صرف تعلیم دی جاسکتی ہے بلکہ دلچسپ اندز میں انہیں بہت کچھ سیکھایا بھی جاسکتا ہے۔‘ ٹی وی پر نظر آنے والے اینیمیٹڈ کردار ہماری حساس طبیعت اور مزاج سے تعلق قائم ہی نہیں کرپاتے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ایک بچے کے طور پر آپ ایسی بہت سی باتیں سیکھتے ہیں جو آپ کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بڑے ہوکر ذمہ دار اور تعلیم یافتہ فرد بنیں تو ہمیں اس کی تیاری ان کے بچپن سے ہی شروع کرنی ہوگی۔ اسی عمر میں ہمیں انہیں صحیح اور غلط میں تمیز، اخلاقیات، اچھی باتوں اور دیگر عوامل کا درس دینا ہوگا تاکہ وہ دنیا میں ایک بہتر شہری کے طور پر زندگی گزار سکیں۔‘

خالد انعم کہتے ہیں کہ ’کون سا مواد تیار کیا جانا ہے اس کا فیصلہ نجی چینلوں میں تو بالخصوص مارکیٹنگ اور سیلز کا شعبہ ہی کرتا ہے، جبکہ یہاں ان ملٹی نیشنل کاروباری اداروں کی جانب سے بھی بچوں کے پروگراموں کو ترتیب دینے سے متعلق کوئی زور نہیں ڈالا جاتا جن کے اشتہارات ان چینلوں کو بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مصباح خالد کی طرح خالد انعم بھی بچوں کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دینے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے فون پر آئی کون (Icon) کو بتایا کہ ’(پی ٹی وی کے زمانے کے بعد سے) ہمیں اب یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ٹی وی اسٹیشن پر انچارج کون ہے؟ جب سے 24 گھنٹے نشریات کا بازار گرم ہوا ہے تب سے صورتحال اب مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے۔ اب اسکرین پر دکھائے جانے والے مواد سے زیادہ اہمیت کاروبار اور انتظامیہ کو حاصل ہوچکی ہے۔‘

خالد انعم کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر تو جیو اور اے آر وائے نے بچوں کے لیے خصوصی پروگرام نشر کیے لیکن پھر انہوں نے یکایک یہ سلسلہ بند کردیا۔

دنیا بھر میں بچوں کے لیے پروگراموں کو ترتیب دینے کا کام اربوں ڈالر کی صنعت کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی تنگ نظری کے باعث اس سے فائدہ ہی نہیں اٹھا پا رہے۔‘

مصباح خالد اور خالد انعم کے مطابق حکومت نے بچوں کے لیے خصوصی چینل کے آغاز کی پیش کش تو کی لیکن یہ اب تک محض زبانی کلامی باتیں ہی ثابت ہوئی ہیں۔

جیو انٹرٹینمنٹ کے گروپ منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ کدوانی سے ہونے والی تفصیلی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’ٹی وی چینلوں سے لے کر انفرادی حیثیت میں لوگ بچوں سے متعلق پروگرامات کو مرتب کرنے کی کوشش کرچکے ہیں، لیکن اس حوالے سے سب سے پریشان کن بات پروگرام کو ترتیب دینا یا اس کی تخلیق نہیں بلکہ اس کا معیار ہے۔‘

پی ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام کلیاں کے کردار انکل سرگم اور ماسی مصیبتی
پی ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام کلیاں کے کردار انکل سرگم اور ماسی مصیبتی

کدوانی کا کہنا ہے کہ ’آج کل کے بچے زیادہ متحرک اور زیادہ سوچتے ہیں۔ وہ اب 20 سال پرانے ٹی وی پروگرام دیکھنے کے عادی نہیں رہے۔ اِس دور میں وہ عینک والا جن یا کلیاں نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ ان کی سوچ و تخیل کا دائرہ کافی وسیع ہوچکا ہے، اب بچے یوٹیوب، غیر ملکی چینلز اور فلمیں دیکھتے ہیں۔ اب تو ہر تفریحی و معلوماتی پلیٹ فارم بچوں کی دسترس میں ہے، خواہ وہ پلیٹ فارم ڈیجیٹل ہو یا کوئی دوسرا۔‘

وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اگر میں نے بچوں کے پروگرام بنانے کی کوشش کی تو مجھے 2 مسائل کا سامنا ہوگا۔ نمبر ایک، اگر مجھے ٹی وی پر بچوں کا کوئی پروگرام تیار کرنا پڑا تو مجھے بین الاقوامی معیار کی پروڈکشن کو یقینی بنانا ہوگا، اور اس کام کے لیے مجھے ایسے لوگ درکار ہوں گے جنہیں یہ کام بخوبی آتا ہو، کیونکہ میں چاہوں گا کہ وہ پروگرام بچے بھرپور دلچسپی کے ساتھ دیکھیں۔ جبکہ دوسرے مسئلے کا تعلق بجٹ سے ہے۔ میں بچوں کے پروگرام پر 20 یا 30 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری نہیں کرسکتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہمارے پاس ایسا کوئی طریقہ کار رائج نہیں جس کے تحت اشتہار دینے والوں سے پیشگی رقم حاصل کی جاسکتی ہو، کیونکہ عام طور پر اشتہار دینے والے اسی وقت اشتہار دیتے ہیں جب پراڈکٹ کامیابی کی منزل کو طے کرلیتا ہے۔‘

اگر کدوانی کسی نہ کسی طرح پروڈکشن اور مواد کی مشکل کا کوئی حل نکال بھی لیتے ہیں تو بھی ایک تیسری پریشانی اب بھی ان کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہوجائے گی، اور اس پریشانی کا تعلق خواتین ناظرین سے ہے۔

کدوانی کا کہنا ہے کہ، ’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خواتین ہی وہ بڑا طبقہ ہیں جو ہمیں ریٹنگ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور پھر یہی ریٹنگ آمدنی کا ذریعہ بنتی ہے۔ لہٰذا اشتہار دینے والی کمپنیاں ہمیشہ انہی پروگراموں کی تیاری میں تعاون کرتی ہیں جو انہیں زیادہ ریٹنگز دلواسکتا ہو۔‘

تاہم بطور پروڈیوسر انہیں جب کبھی موقع ہاتھ آیا ہے تو انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’چونکہ ہمارے لیے سب سے اہم بچوں کو تعلیم فراہم کرنا اور صحیح اور غلط میں فرق بتانا ہے اس لیے ہم روایتی ڈراموں میں مختصراً واقعات یا کہانیوں کے ٹکڑے شامل کردیتے ہیں۔ ہم جان بوجھ کر ڈراموں میں ایسی کہانیاں شامل کرتے ہیں جن میں ایک بچہ غلط فیصلہ کر بیٹھتا ہے اور پھر رہنمائی کے حصول کے لیے اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم لائیو پروگرامات میں بھی بچوں کے لیے خصوصی سیگمنٹس شامل کرتے ہیں۔‘

اگر کدوانی چینل کی نشریات میں بچوں کے لیے ایک گھنٹہ مختص کرتے، (واضح رہے کہ جیو انٹرٹینمنٹ نے اپنے ابتدائی دنوں میں ایک گھنٹہ بچوں کے لیے مختص رکھا تھا جس میں بھارت کے ڈزنی چینل کے ڈب شدہ مواد کو نشر کیا جاتا تھا) اور اگر ان کا یہ خیال ناکامی سے دوچار ہوا ہوتا تو ٹی وی چینل کو زبردست مالی نقصان پہنچ سکتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا ایک ہی حل ہے، اور وہ یہ کہ پوری صنعت اکھٹا ہوجائے اور اگلے چند برسوں تک مقامی سطح پر تیار ہونے والے تفریحی مواد کی حمایت کا سنجیدگی کے ساتھ فیصلہ کرے۔‘ کدوانی سمجھتے ہیں کہ یہ کام ایک اکیلا ادارہ انجام نہیں دے سکتا۔

تاہم کدوانی کے مطابق وہ جیو کے آئندہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لیے بچوں پر مشتمل پروڈکشنز پر غور کر رہے ہیں۔ پروڈکشن اگرچہ مہنگی تو ہے لیکن اس پلیٹ فارم پر موزون ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ویب کا استعمال کرنے والے ناظرین میں کافی زیادہ گونا گونیت پائی جاتی ہے۔

دی ڈونکی کنگ کے ہدایت کار و پروڈیوسر عزیز جندانی کہتے ہیں کہ 'انٹرنیٹ ہی مسئلے کا سب سے بہترین حل ہے۔ یوٹیوب پاکستان میں بچوں کے تفریحی مواد کا سرِفہرست ذریعہ ہے۔ میری فلم کے گانے ڈونکی راجہ کا یوٹیوب پر 3 کروڑ 30 لاکھ بار دیکھا جانا اس ذریعہ ابلاغ کی طاقت کی گواہی ہے۔‘

اور وہ درست بھی ہیں۔ کیونکہ حال ہی میں عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم کے مقبول ترین گانے کو یوٹیوب پر تاوقتِ تحریر 70 لاکھ سے کچھ کم لوگ دیکھ چکے تھے۔

جندانی کہتے ہیں کہ، ’ڈونکی راجہ پاکستانی تاریخ کا مقبول ترین گانا ہے۔ اب اگر یہ گانا بچے نہیں دیکھ رہے تو پھر اور کون دیکھ رہا ہے؟‘

جندانی اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کے پروگراموں کی کمی اب نہیں رہی کیونکہ یوٹیوب حتیٰ کہ کارٹون نیٹ ورک پر بھی بچوں کے لیے بے تحاشا مواد دستیاب ہے۔ ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے مواد کی کمی ہے۔ یہاں پر لفظ ’مقامی‘ پر زور ڈالنا اہم ہے کیونکہ ملکی سطح پر بننے والے مواد سے نہ صرف کمسن ناظرین کی ایک وسیع تعداد خود کو باآسانی منسلک کرلیتی ہے بلکہ یہ مقامی مواد مقامی ثقافت اور تاریخ کو مقبول بنانے اور آگے لے جانے میں بھی اہم کردار کرتا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک کو ہی دیکھ لیجیے، اور دیکھیے کہ کس طرح انہوں نے بچوں میں اپنے اقدار کو منتقل کرنے کے لیے ہم عصر دیومالائی ہیروز کے اوتاروں کے کرداروں کو کارٹون کی صورت دی۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو پھر مغربی اور دیگر ثقافت غالب آجائے گی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ٹی وی پر بچوں کے مواد کا مستقبل صرف اس وقت ہی بدل سکتا ہے جب ریاست اس کی ذمہ داری لے، کیونکہ نجی چینلز تو پہلے ہی مالی طور پر پریشان ہیں اور یوں وہ کسی بھی تجربے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر اس کام کو نجی شعبے پر چھوڑ دیا جائے تو یوٹیوب چینل بنائے جاسکتے ہیں جس کے ذریعے ناظرین تک رسائی اور کمائی دونوں کا حصول ممکن ہے اور ساتھ ہی اس ذرائع ابلاغ سے جڑے کچھ نئے چیلنجز کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔‘

دراصل یہی وہ راستہ ہے جو مصباح خالد، خالد انعم اور فاروق قیصر اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جندانی کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں مقامی سطح پر بچوں کے مواد کی تیاری میں سرمایہ کاری نہ کرکے ہم نہ صرف تفریح بلکہ اپنی قومی شناخت اور ثقافت کو فروغ دینے کے راستے کو بھی بند کررہے ہیں۔‘


یہ مضمون 8 ستمبر 2019ء کو ڈان اخبار کے ایؤس میگزین میں شائع ہوا۔