’کاش میری بیماری بھی بیت المال کی امداد کی طرح قسطوں پر آتی‘

18 ستمبر 2019

ای میل

فائل فوٹو: رائٹرز
فائل فوٹو: رائٹرز

فروری کا مہینہ اور صبح کا وقت تھا۔ شدید درد سے اس کے جسم میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ گلٹیوں سے گردن اس حد تک اکڑ گئی تھی کہ سانس لینے سے بھی تکلیف ہوتی تھی، ایسے میں کینسر ہسپتال سے وکٹوریہ اور پھر بیت المال کے دفتر تک جانے کا خیال ہی روح فرسا تھا لیکن جان بچانے کے لیے ٹیکہ درکار تھا اور ٹیکے کے لیے رقم۔

بہرحال کسی نہ کسی طرح ہمت مجتمع کرکے وہ وکٹوریہ ہسپتال پہنچ گیا۔ درخواست لکھی، مہریں لگوائیں اور پھر بمشکل بیت المال کے دفتر تک خود کو گھسیٹ ہی لیا۔

سارے دن کی دوڑ دھوپ کے بعد اس کا جسم بخار میں پھنک رہا تھا۔ قدم اٹھانا دوبھر تھا۔ ایسے میں جب اسے کہا گیا کہ بھاگ کر محلے کے چند لوگوں اور ناظم کی تصدیق کروا لاؤ تو اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ دھاڑیں مار مار کے رونے لگا، مگر دفتر میں موجود کوئی بھی اس کے آنسوؤں سے نہ پگھلا۔ روزانہ سیکڑوں سائلین کو روتا دیکھتے دیکھتے انسان بے حس ہو ہی جاتا ہے۔

خیر تصدیق کراتے کراتے اسے کئی دن لگ گئے۔ کاغذ مکمل ہوئے تو امید بندھی کہ اب تو امداد مل ہی جائے گی مگر اس امید پر اس وقت گھڑوں اوس پر گئی جب افسر نے اسے بتایا کہ کیس تیار ہوکر ملتان بھیجا جائے گا۔ ملتان سے فائل اسلام آباد جائے گی اور پھر بیت المال کینسر کے علاج کے لیے 8 لاکھ روپے تک کی رقم فراہم کرے گا، جو منظوری کے بعد گورنمنٹ کینسر ہسپتال بہاولپور منتقل کردی جائے گی۔ اس سارے عمل میں وقت لگے گا۔ کتنا؟ یہ بار بار پوچھنے پر بھی کسی نے نہ بتایا۔

اتنا طویل طریقہ کار سن کر اس کا سر چکرا گیا۔ دوسری طرف کینسر ہسپتال کے ڈاکٹر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ جان بچانے کے لیے فوری ٹیکہ لگوانا ہوگا، لیکن ان ڈاکٹرز کو بھلا کون بتائے کہ بیت المال والوں کا نظام کتنا سست ہے۔

اور پھر اپنے تمام جاننے والوں اور دوسرے خیراتی اداروں سے مایوس ہوکر تو وہ بیت المال آیا تھا۔ غریب آدمی کو لاکھوں روپے دیتا کون ہے؟ شوکت خانم کے ڈاکٹر بھی معذرت کرچکے تھے کہ اس کی بیماری کے لیے ہسپتال مفت علاج فراہم نہیں کرتا اور اب بیت المال کے جواب نے بھی اسے نڈہال کردیا۔ گھر آکر وہ چارپائی پر گرگیا۔

ڈیڑھ مرلے کے بوسیدہ مکان میں ہوش اور بے ہوشی کے درمیان لڑھکتے جاوید اختر کے چھوٹے سے کمرے کی در و دیوار سے دکھ اور مایوسی ٹپک ٹپک کر اس کی روح میں سرایت کرنے لگی۔

مریض جاید اختر
مریض جاید اختر

رات میں کسی وقت آنکھ کھلی تو قریب لیٹی بیوی پر نظر پڑی۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی تھی جب وہ اسے بیاہ کر گھر لایا تھا۔ چھوٹے سے گھر میں بوڑھے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہوئے اسے تو بیوی کے ساتھ وقت بتانے کا موقع ہی نہ ملا تھا۔ پھر بچوں کی پیدائش کے بعد تو جیسے ایک مشینی زندگی تھی۔

صبح سویرے اٹھ کر بچوں کو اسکول بھیج کر بیوی سلائی میں جت جاتی اور وہ کام پر نکل جاتا۔ 21 سال کی ازدواجی زندگی کا کوئی دن دوسرے سے مختلف نہ تھا۔ نہ کوئی چھٹی تھی اور نہ تفریح۔ بچوں کے خرچوں سے فرصت ملے تو انسان کو کچھ سوجھے۔ بیماری کے بعد سے تو پورے کنبے کا بوجھ بیوی پر تھا جسے وہ پرانی سلائی مشین کے ننھے سے پہیے پر اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔

40 سال کوئی عمر نہیں ہوتی۔ لیکن چند ہی مہینوں میں اس کی کمرجھک گئی تھی اور جھریاں گہری ہوگئی تھیں۔ زندگی کی تلخیاں سلوٹوں کی شکل میں اس کے پورے چہرے پر پھیل گئی تھیں۔

میں نے تو کبھی سگریٹ تک نہیں پیا۔ پھر مجھے یہ مہلک بیماری کیوں ہوئی؟ وہ تقدیر سے شکوہ کر رہا تھا کہ بیٹی پر نظر پڑگئی۔ فاطمہ 20 سال کی ہونے کو آئی تھی اور 14ویں کا امتحان پاس کرچکی تھی۔ اس کی شادی کیسے ہو پائے گی؟ یہ سوچ کر وہ مزید دل گرفتہ ہوگیا۔ پھر چھوٹے بیٹے احمد کاخیال آیا تو اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کے دل پر زور سے گھونسا دے مارا ہو۔

بیت المال سے رقم کے حصول کی خاطر بھرا جانے والا بیان حلفی
بیت المال سے رقم کے حصول کی خاطر بھرا جانے والا بیان حلفی

تمام تر کسمپرسی کے باجود احمد نے گزشتہ سال آٹھویں جماعت کے امتحان میں بہاولپور بورڈ میں پوزیشن لی تھی۔ سرکاری اسکول والوں نے خوب چکر لگوائے کہ بچے کو وظیفہ ملے گا لیکن ایک سال کے بعد کہنے لگے کہ سرکار نے انعام کا ارادہ ترک کردیا ہے۔ یہ سن کر اسے بڑا دکھ ہوا تھا کہ 20 ہزار کی رقم احمد کی مزید تعلیم میں مددگار ہوسکتی تھی۔ تعلیمی اخراجات کے لیے احمد کو چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے محنت مزدوری کرتے دیکھ کر اس کا دل تو بہت کڑہتا تھا، لیکن وہ مجبور تھا۔ کاپی پنسل بھی آج ہزاروں میں آتی ہے اور بیماری کی وجہ سے تو وہ کب کا بے روزگار تھا۔ غریب کو بھلا کون وظیفہ دیتا ہے۔

ان سارے غموں کو سوچتے ہوئے وہ اکثر سوچتا کہ اس مستقل کرب سے تو مرنا یقیناً آسان ہوگا۔

ابھی کل کی ہی بات تھی جب وہ سارے شہر میں سائیکل دوڑاتے پھرتا تھا۔ پہلے ایک ٹانگ پر روڑی نکلی۔ چلنے پھرنے میں درد ہونے لگ گیا۔ مولوی صاحب سے مکھن پڑھوایا لیکن جب افاقہ نہ ہوا تو پھر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے دوائی لی۔ انہوں نے کہا کہ فکر کی بات نہیں ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ مطمئن ہوگیا۔ پھر بخار رہنے لگا، کمزوری بڑھتی گئی، وزن 90 کلو سے گرتا گرتا 50 سے بھی نیچے آگیا۔ بغل میں بھی گلٹیاں نکل آئیں جو رفتہ رفتہ جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل گئیں۔

ہر وقت نقاہت رہنے لگی، سانس لینا ایک مشقت بن گیا۔ بھوک تو پہلے ہی نہیں لگتی تھی پھر کھانا کھانے کے خیال سے ہی تھکن ہونے لگی۔چہرہ تاریک ہوگیا۔ ہڈیاں مزید نکل آئیں۔ اب بیماری اس کے تمام وجود پر لکھی تھی۔ جو دیکھتا اسے ٹیسٹ کا مشورہ دیتا۔ اگر ٹیسٹ پر رقم خرچ کردوں تو بچوں کو کھلاؤں گا کیا؟ یوں وہ علاج کے خیال کو ہی جھٹک دیتا۔

ایک سال تک بیماری کو ٹالنے کے بعد جب اس کے جسم میں ہلنے جلنے کی بھی سکت باقی نہ رہی تو گھر والے اسے بہاولپور کے سرکاری کینسر ہسپتال لے آئے۔ مگر اس وقت تک کینسر پھیل چکا تھا۔

شروع میں ٹیسٹ اور علاج کے لیے تو جاننے والوں نے مدد کردی، مگر جب مہنگا علاج شروع ہوا تو کسی نے بیت المال جانے کا مشورہ دیا۔ ہفتوں کی طویل کاغذی کارروائیوں کے باوجود امداد کا کچھ پتہ نہیں تھا۔

’امداد درخواستوں سے نہیں ملتی، ہزاروں مستحق افراد روزانہ درخواستیں دیتے ہیں۔ کوئی سفارش ہے تو لگواؤ‘، کسی نے کان میں پھونکا۔ غریب آدمی کی سفارش کون کرے گا؟ اس نے مایوسی سے سوچا۔

بیت المال کی پرچی جس پر رقم سے متعلق تفصیلات موجود ہیں
بیت المال کی پرچی جس پر رقم سے متعلق تفصیلات موجود ہیں

پھر کسی طرح اس نے اپنے ایک جاننے والے کا کھوج لگایا جو نوکری کے لیے اسلام آباد میں مقیم تھا۔ مشرف نے مدد کی حامی بھر لی۔ اتنے مہینوں میں پہلی دفعہ اسے امید کی کرن نظر آئی۔ مشرف کی کوششیں رنگ لے آئی اور ملتان سے اسے فون آیا کہ فنڈز کی قلت کے باعث ایک دوسرے سرکاری ادارے سے ایک ٹیکے کا انتظام کیا گیا ہے جسے وہ بس اڈے سے وصول کرلے۔ ٹیکہ لیکر جب وہ ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹروں نے جھڑک دیا کہ چونکہ ٹیکہ ان کی ڈسپینسری سے نہیں خریدا گیا لہٰذا وہ دو نمبر ہوسکتا ہے۔ ثبوت لاؤ کہ یہ ٹیکہ اصلی ہے ہم کسی دوسرے سرکاری ادارے کو نہیں مانتے۔

اس نے مشرف سے رابطہ کیا جس نے کئی گھنٹوں کی مغز ماری اور مختلف جگہوں سے سفارشی فون کروا کر بالآخر ڈاکٹروں کو اس بات پر آمادہ کر ہی لیا کہ وہ چند لمحوں کے لیے پرائیوٹ دوا فروش کی سرپرستی کو بھول کر ایک مسیحا بن کر کینسر کے مریض کی جان بچا لیں۔

اب یہ مشرف کی کوشش تھی یا کچھ اور کہ مہینوں کے انتظار کے بعد ایک لاکھ اور چند ہزار کا امدای رقم کا پہلا چیک بھی ہسپتال پہنچ گیا۔ جس کے بعد کیمو تھراپی کا آغاز ہوا اور یوں طبیعت سنبھلنا شروع ہوگئی۔ لیکن اب یہ رقم کتنے دن چلتی؟ دو ٹیکوں اور کیمو تھراپی کے ایک کورس میں ہی پوری ہوگئی۔

وہ تیزی سے روبصحت ہو رہا تھا کہ ڈاکٹروں نے ایک اور مہنگے ٹیکے کی فرمائش کردی۔ مشرف کو صورتحال سے آگاہ کیا تو اس نے کہا کہ ہیڈ آفس والے دوسری قسط کے لیے ایک یوٹیلیٹی رپورٹ کا تقاضا کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کینسر کے مریض اس طرح کا سخت علاج نہیں جھیل پاتے اور کئی علاج کے دوران ہی فوت ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے بیت المال کے پیسے سرکاری ہسپتالوں میں پھنس جاتے ہیں۔ اس لیے رقم چھوٹی چھوٹی قسطوں میں اس اطمینان کے بعد مہیا کی جاتی ہے کہ مریض زندہ ہے۔

لیکن کون ہمارے سرکاری اداروں کو سمجھائے کہ اس طرح قسط وار پیسے دینے کی وجہ سے مریض کو کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، مگر سرکاری افسران کو کسی کے مرنے یا جینے سے بھلا کیا لینا دینا؟ ان کا کام تو طریقہ کار پر عمل درآمد کروانا ہے۔

بیت المال کی پرچی جس پر رقم سے متعلق تفصیلات موجود ہیں
بیت المال کی پرچی جس پر رقم سے متعلق تفصیلات موجود ہیں

بہرحال مشرف رپورٹ کے حصول کی خاطر کئی دن تک چکر لگاتا رہا اور ہسپتال والے مستقل ٹال مٹول کرتے رہے، لیکن جب وہ بار بار رپورٹ کا مطالبہ کرنے لگا تو رمضان کے مہینے میں عید کی چھٹیوں کے قریب آخر کار اسے رپورٹ مل ہی گئی، جسے اس نے فوری طور پر بیت المال ملتان بھجوا دیا۔

پہلے اسے بتایا گیا کہ بجٹ کے بعد وزارتِ خزانہ نے فنڈز ریلیز نہیں کیے اور مئی سے ہزاروں کیس پھنسے ہوئے ہیں، لہٰذا 2 مہینے یوں ہی گزر گئے۔ پھر اسے پتہ چلا کہ فنڈز آگئے ہیں اور اب اس کا کیس ملتان سے اسلام آباد بھیجا جائے گا۔ منظوری کے بعد فائل ملتان آئے گی اور کارروائی کے بعد اسے دوبارہ اسلام آباد بھیجا جائے گا جہاں تمام تر منظوری ملنے کے بعد دوسرا چیک فراہم کیا جائے گا، جو اسلام آباد سے براستہ ملتان آفس ہسپتال کے اکاونٹ میں جمع کروادیا جائے گا۔ جون 2019ء سے لے کر اگست کی 25 تاریخ تک وہ آج بھی اپنے دوسرے چیک کا منتظر ہے۔

یہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں۔ ہزاروں مریض کم و بیش انہی حالات سے گزرتے ہیں جو کینسر کا مہنگا علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتے اور امداد کے لیے سرکار یا پھر کسی خیراتی ادارے کی طرف دیکھتے ہیں۔

کئی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے مریضوں کو نہایت اعلیٰ درجے کے مفت علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن مریضوں کے مقابلے میں یہ سہولیات بہت کم ہیں۔

پاکستان میں کینسر کے حوالے سے مستند اعداد و شمار میسر نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد اس مہلک بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ جدید طب میں کینسر کا علاج تو موجود ہے مگر اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

سرکاری طور پر اس جان لیوا بیماری کے علاج کے لیے نہ تو مناسب فنڈز مختص کیے جاتے ہیں اور نہ ہی اس کی سنگینی کی مناسبت سے دوسرے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی ادارے کی ضرورت تو 100 روپے ہو مگر آپ اسے 10 روپے دیکر نہ صرف کام چلانے کا مطالبہ کریں، بلکہ تشہیر کی امید بھی لگائیں تو اچنبھا کیسا۔

اگر ہر سال کینسر کے ڈیڑھ لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں اور صرف 8 لاکھ روپے کے حساب سے 50 ہزار افراد کو بھی امداد فراہم کرنی ہو تو حساب لگانا مشکل نہیں کہ یہ کتنی بڑی رقم بن جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ان 50 ہزار افراد میں پرانے مریضوں کو شامل نہیں کیا گیا، جن کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔

مریضوں کی صحیح داد رسی کے لیے خیراتی اداروں کے بجٹ کو ان کی ضرورت کے مطابق بڑھاتے ہوئے امداد کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہوگا۔ شفا خانوں، خاص کر کینسر ہسپتالوں میں دستیاب مہنگی ادویات کی کوالٹی اور قیمتوں پر نظر رکھے بغیر تبدیلی محض نعرہ ہی رہے گی۔