براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 2 ماہ میں 58 فیصد تک کمی

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2019

ای میل

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی، اگست میں ایف ڈی آئی گزشتہ سال کے 37 کروڑ 69 لاکھ کے مقابلے میں 15 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہی — اے ایف پی/فائل فوٹو
اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی، اگست میں ایف ڈی آئی گزشتہ سال کے 37 کروڑ 69 لاکھ کے مقابلے میں 15 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہی — اے ایف پی/فائل فوٹو

کراچی: ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ (جولائی اور اگست) میں 58.4 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست کے درمیان مجموعی ایف ڈی آئی کم ہوکر 15 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 37 کروڑ 69 لاکھ ڈالر تھی۔

اس کے علاوہ ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو اگست میں ایف ڈی آئی میں 57.8 فیصد کمی آئی جو اگست 2018 میں 19 کروڑ 79 لاکھ ڈالر تھی تاہم رواں سال اسی ماہ صرف 8 کروڑ 34 لاکھ رہی۔

مزید پڑھیں: براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 4 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

توانائی کے انفرا اسٹرکچر اور سیکیورٹی کی صورتحال میں واضح بہتری کے باوجود حکومت ملک میں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہی جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے پہلے مرحلے کے مکمل ہونے کی وجہ سے بھی ایف ڈی آئی کے بہاؤ میں کمی آئی۔

اس کے علاوہ دو ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں مجموعی طور پر 6.7 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال 24 کروڑ 64 لاکھ ڈالر تھی تاہم اس سال 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق چین سے سرمایہ کاری کے بہاؤ میں سست روی کی وجہ سے اعداد و شمار میں کمی واقع ہوئی کیونکہ بیجنگ سے جولائی اور اگست کے درمیان بہاؤ گزشتہ سال کے 21 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 2 کروڑ 89 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

برطانیہ، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا دوسرا بڑا ملک قرار پایا، جس نے ایک کروڑ 17 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جبکہ متحدہ عرب امارات سے ملک میں 59 لاکھ ڈالر اور ملیشیا سے 54 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 50 فیصد کمی

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے آئل اینڈ گیس کی تلاش کا شعبہ توجہ کا مرکز رہا جس میں 2 ماہ کے دوران 2 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری دیکھی گئی جبکہ ٹرانسپورٹ میں ایک کروڑ 49 لاکھ ڈالر اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایک کروڑ 53 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سامنے آئی۔

براہ راست سرمایہ کاری کے اعداد و شمار حکومت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوئے کیونکہ ادائیگیوں میں توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے موجودہ انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ کی قیادت میں 6 ارب ڈالر کا اصلاحاتی پروگرام جاری ہے۔

حکومت نے درآمدات کو کم کرنے کے لیے تو متعدد اقدامات اٹھائے تاہم روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی کے باوجود وہ برآمدات میں اضافے میں ناکام رہی۔