تو چلیے، خلا سے ہو کر آتے ہیں

20 ستمبر 2019

ای میل

بھارتی خلائی گاڑی کے مشن چندریان 2 سے جڑی جب خبریں پڑھیں تو مجھے 1999ء میں ریلیز ہونے والی ہولی وڈ فلم ’اکتوبر اسکائے‘ کا پہلا سین یاد آگیا۔

اس سین میں سویت یونین کی جانب سے زمین کی مدار میں چھوڑے جانے والے انسانی ہاتھوں سے بنے پہلے مصنوعی سیارے اسپوتنک کی خبریں سن کر امریکی باشندے مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔

اسپوتنک مصنوعی سیارہ یونائیٹڈ اسٹیٹس نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے قیام سے ایک سال قبل 1957ء میں خلا میں چھوڑا گیا تھا۔ اس لحاظ سے 1961ء میں خلا میں بھیجا جانے والا پہلا انسان یوری گاگرین تھا۔ تاہم سویت کو 1969ء میں یہ خبر ملی کہ 10 برس قبل وجود میں آنے والے خلائی ادارے ناسا نے چاند پر پہلا انسان اتار دیا ہے۔

اگرچہ چندریان 2 مشن کا آغاز جس مقصد کے لیے کیا گیا تھا وہ اسے حاصل کرنے میں تو ناکام رہا لیکن اس مشن نے اتنی کامیابیاں ضرور حاصل کرلی ہیں جو ہم میں سے چند کو بے چین کرنے اور پاکستان کے خلائی پروگرام پر قومی بحث چھیڑدینے کے لیے کافی ہیں۔

اگرچہ یہ اپنے آپ میں ایک بُری بات نہیں ہے، بس ہمیں صورتحال کا جائزہ لینے اور پھر صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے کام انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے آہستہ آہستہ مگر پختگی کے ساتھ قدم بڑھانے ہوں گے۔

کم از کم ہمارے حالات دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یا امریکا کے حالات جیسے نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خلائی مشن پر جانا بہت زیادہ مہنگا ثابت ہوتا ہے اور ہماری جیسی معیشت میں محض عزت و وقار اور قومی فخر کی خاطر یہ کام کرنا بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ خلائی کھوج کو صرف اسی صورت میں درست قرار دیا جاسکتا ہے جب اس کا مقصد غیر معمولی سائنسی پیش رفت کرنا ہو جبکہ قومی فخر کی حیثیت اضافی پہلو جتنی ہو۔

مثال کے طور پر، سائنسدان اس جستجو میں لگے ہوئے ہیں کہ چاند میں اتر کر چاند کی برف سے آکسیجن الگ کرکے سانس لینے کے قابل ہوا اور ہائڈروجن الگ کرکے وہاں سے مزید کھوج لگانے کے لیے درکار ایندھن کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔

اگر اس مقصد میں کامیابی مل جاتی ہے تو اس منصوبے سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے جہان کی راہ ہموار ہوگی جس کا پوری دنیا کو فائدہ ہوگا۔ اگر ہم کوئی مشن خلا میں بھیجنا چاہیں گے بھی تو سائنسی ترقی اور قومی مفاد کے منصوبے کا حصہ ہی اس کا اولین مقصد ہونا چاہیے۔

حالیہ وقتوں میں کئی خلائی معرکے سر کیے جاچکے ہیں اور یوں ان کے ہم پلّہ آنے کے لیے بلند و بالا معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ ناسا کے ہبل ٹیلی اسکوپ نے شاندار پیچدار کہکشاں این جی سی 3147 کے عین مرکز پر موجود بلیک ہول کی تصویر کھینچھی جسے چند ماہ قبل ہی جاری کیا گیا تھا۔

یہ بلیک ہول ہم سے 13 کروڑ نوری سال دُور واقع ہے اور ایک نوری سال کا فاصلہ تقریباً 6 کھرب میل بنتا ہے۔ بلیک ہول کی یہ تصویر جس معلومات کا انکشاف کرتی ہے وہ بلیک ہول کے حوالے سے ہماری موجودہ مفروضاتی فہم سے متضاد ہے اور اسی وجہ سے اس نئی معلومات نے ہماری کائنات کو مزید دریافت کرنے اور کھوجنے کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔

رواں سال کی ابتدا میں اسپیس ایکس نے انسانی گروہ کو خلا میں لے جانے اور واپس لانے کی صلاحیت رکھنے والے اپنے کمرشل خلائی جہاز ڈریگن 2 کا پہلا تجربہ انجام دیا۔

ٹیکنالوجی سے متعلق ترقی کے اعتبار سے خلائی کھوج عمومی طور پر ایک ایسا میدان تصور کیا جاتا ہے جس میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنا ہوتا ہے لیکن دوسری جنگِ عظیم کے دوران خلا میں پہلی چیز بھیجے جانے کے بعد سے اس شعبے میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔

اور اگرچہ کائنات کو سمجھنے، نئے ری نیوایبل وسائل کی تلاش اور دیگر اہم دریافت و کھوج کے علاوہ ہماری زمین کو لاحق ممکنہ غیر زمینی خطرات کے حوالے سے تحقیق کا کہہ کر خلائی مشنز کو معمول کے مطابق اور سیاسی اعتبار سے درست توجیہات دینا ایک جگہ لیکن یہ ایک حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کارمن لائن (زمینی فضا اور بیرونی خلا کے درمیان موجود ایک تصوراتی خط) کے پار جانے والی پہلی چیز دوسری جنگِ عظیم میں استعمال ہونے والا گائیڈڈ جرمن بلیسٹک وی 2 میزائل تھا۔

یہ وہ دور تھا جب مخالفین کو فوجی طاقت میں پیچھے چھوڑنا عظمت کا پیمانہ ہوا کرتا تھا اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک بار پھر یہی فوجی طاقت کا کھیل اور قومی فخر سوویتوں اور امریکا کے درمیان شروع ہونے والی خلائی دوڑ کا شاخسانہ بنے۔ چنانچہ خلائی کھوج بڑی حد تک قومی فخر کی دوڑ کا نتیجہ رہی۔ تاہم اس کے بعد سے ان خلائی مشنز کی بدولت انسانیت کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔

خلائی سائنس ایک سے زائد شعبوں پر مشتمل ہے اور اس کا تعلق اس نکتے سے ہے جہاں انجینئرنگ اور سائنس کے شعبے آپس میں ملتے ہیں۔ خلائی کھوج کے کامیاب مشن کی پہلی شرط یہ ہے کہ زمینی ٹیکنالوجی کے میدان میں بہتری لائی جائے اور انجینئرنگ اور سائنس کے تقریباً تمام ہی شعبوں میں مناسب تحقیقی انفرااسٹرکچر اور تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں۔

داخلی اور غیر ملکی شراکت داروں کی معاونت کے ساتھ نت نئے سائنسی منصوبے مرتب دینے کے لیے صف اول کے بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے تعاون سے اعلیٰ معیار کی حامل خلا پر مبنی تحقیق انجام دینے کے لیے ہمارے تعلیمی اداروں کو ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہونی چاہئیں۔

چاہے تحقیق زمینی ہو یا خلائی، غیر ملکی لیڈران کے ساتھ شراکت داری اہم ہے کیونکہ پاکستان میں سائنس اور انجینئرنگ کا تحقیقی ماحول کچھ خاص متاثر کن نہیں ہے۔ ان شعبوں کے تحقیقی کاموں کا معیار بہتر کرنا ہوگا تاکہ دنیاوی/خلائی مسائل کے حل کے لیے یہاں کی تحاقیق اپنا کردار ادا کرسکیں اور دنیا کے دیگر محققین بھی انہیں کارآمد قرار دیں۔

جب بات پاکستان میں سرگرم تحقیقی پروگراموں میں خرابیوں کی آتی ہے تو اس کے پیچھے چند نمایاں وجوہات میں طویل المدت تحقیقی پروگرام کی عدم موجودگی، فنڈز نہ ہونے کے باعث مختلف موضوعات پر تحاقیق کی دعوت نہ دے پانا، ہماری اسٹیم STEM (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھامیٹکس) ایجوکیشن اور ٹریننگ نصاب میں تحقیقی حصوں کے فقدان کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور صنعت کے درمیان حائل خلیج شامل ہیں۔

ہمیں سب سے پہلے تحقیقی کلچر کو اپنانا ہوگا اور اسے فروغ دینا ہوگا۔ اس کام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں، صنعتوں اور ان سمندر پار پاکستانیوں کی فہرست مرتب کی جائے جو اپنے اپنے میدان میں مہارت رکھتے ہیں۔

تحقیق اور جدت کی فضا کو پیدا کرنے اور فروغ دینے سے اعلیٰ معیار کے حامل تحقیقی کاموں کی تیاری اور اس سلسلے کو جاری رکھنے میں معاونت حاصل ہوگی، جس کے نتیجے میں ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی عالمی برادری میں نمایاں جگہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

ان بنیادی سہولیات کے حصول کے بعد ہی ہم مستقبل میں اپنے کسی نہ کسی مشن کے ذریعے خلا میں موجود انسانیت کو لاحق چیلنجز پر پُرمعنی انداز میں جائزہ لینے کے قابل بن سکیں گے جو ہمیں سائنس کے میدان میں آگے بڑھنے کے ہمارے مقصد کے حصول اور اس کے ساتھ ساتھ بطور ایک قوم ہم نے جس سنگِ میل کو عبور کیا ہوگا اس پر ہمیں اپنا سر فخر سے اونچا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔


یہ مضمون 19 ستمبر 2019ء کو ڈان ڈاٹ کام پر شائع ہوا۔