شیطان مدد کرے یا وفاق مداخلت کرے، مجھے کراچی دوبارہ صاف چاہیے!

23 ستمبر 2019

ای میل

1947ء میں جب میرا خاندان بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تو اس وقت میری عمر 3 برس تھی، اس لیے شہرِ کراچی کی ابتدائی یادوں کا پٹارہ خالی ہے۔

تاہم 1950ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں یہ شہر قدرے چھوٹا، صاف اور محفوظ ہوا کرتا تھا۔ بچپن کے دنوں میں ہم آسمان پر سیاہی ڈھلنے تک گھر سے باہر کھیلا کودا کرتے اور اس دوران والدین کو ہماری فکر بھی نہ ستاتی۔ ان دنوں نہ تو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر تھے، نہ رات کو فائرنگ کا واقعہ ہوتا تھا اور اسٹریٹ کرائم کے واقعات تو نہ ہونے کے برابر تھے۔

اب تو شہر اپنی پیدا کردہ گندگی میں ہی جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح رافعہ ذکریہ نے بھی اپنے حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ جب قابلِ رہائش شہروں کی درجہ بندی کے لیے دنیا کے 140 شہروں کا سروے کیا گیا تو کراچی کا نام تقریباً سب سے نیچے نظر آیا۔

جمالیات، زندگی کی تمام آسائشوں اور فنِ تعمیرات کے اعتبار سے کراچی ہمیشہ سے پیچھے رہا۔ تاہم برسوں پہلے پھلتے پھولتے سینما گھروں، بارونق راتوں اور بہترین کتاب گھروں کے ساتھ یہ ایک بڑا ہی خوشگوار شہر تھا۔

جب مرحوم ڈاکٹر اقبال احمد (جن کی یادیں آج بھی ستاتی ہیں) 1990ء کی دہائی میں لبرل آرٹس یونیورسٹی کے قیام کی خواہش لیے امریکا سے پاکستان پہنچے تھے تب میں نے ان سے پوچھا کہ رہائش اختیار کرنے کے لیے کون سا شہر اچھا رہے گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کی پہلی پسند کراچی ہوگی کیونکہ یہ پاکستان کا اکلوتا سیکولر شہر ہے۔

اسی لیے مجھے بڑے رنج و غم کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ میں بڑھتی عمر کے ساتھ اس شہر کا زوال دیکھ آیا ہوں۔ اس کی ایک واضح وجہ تو یہ کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) دونوں نے اس شہر کو قابلِ فخر شہر بنانے کے بجائے اسے اے ٹی ایم مشین سمجھ رکھا۔ ایم کیو ایم نے چند اہم انفرااسٹریکچر کے منصوبوں کی تعمیرات میں کردار تو ادا کیا مگر آخر میں دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے جو ایک سرگرمی دل کے قریب رہی اس کا نام تھا ’چائنہ کٹنگ‘ یعنی سرکاری زمین کے ٹکڑے کاٹ کر انہیں ذاتی مفاد میں فروخت کرنے کا عمل۔

زوال کی طرف جاتے اس شہر کو واپس پروان چڑھانے کے لیے حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کی ممکنہ مداخلت کے حوالے سے کافی زیادہ باتیں ہو رہی ہیں۔ اس تجویز پر کافی زیادہ برہمی کا اظہار کیا گیا، بالخصوص پیپلزپارٹی نے اس پر شدید تنقید کی۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والے اداریہ میں اس خیال کا اظہار کیا گیا کہ شہر میں بگڑے معاملات کو ٹھیک کرنے میں کافی زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاہم اس کی ذمہ داری صوبائی اور شہری حکومت کے کاندھوں پر ہونی چاہیے۔ وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم کا کیس مضبوط بنانے کے لیے آئین کا بھی حوالہ دیا گیا۔

بے تکلفی سے کہوں تو اگر راتوں رات صفائی کے لیے شیطان بھی آجائے تو مجھے اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ بطور ایک شہری یہ میری زندگی کا سوال ہے اور میں اس کبھی نا آنے والے وقت کا مزید انتظار نہیں کرسکتا کہ جب سیاستدان اور بیوروکریٹس مل کر یہ کام شروع کریں گے۔ میں صرف یہی چاہتا ہوں کہ کوئی بھی ہو کہاں سے بھی ہو بس اس شہر کو صاف کردے، پانی فراہم کردے اور نکاس آب سے جڑے مسائل حل کردے۔

چند برس قبل ایک دن جب اپنے انگلستانی دوستوں کو کراچی کی سیر کروا رہا تھا، تب اچانک سے انہوں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔ دراصل بس کی چھت پر بیٹھے درجنوں مسافر کے نظارے نے ان کی توجہ حاصل کی تھی۔ بس کی تصاویر لینے کے بعد ان دوستوں نے بتایا کہ دنیا کے کسی دوسرے حصے میں انہوں نے اس سے پہلے ایسا نظارہ نہیں دیکھا تھا۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جلد ہی شہر میں سیکڑوں نئی بسیں متعارف کروائی جائیں گی۔ میں اس بات پر تب یقین کروں گا جب اپنی آنکھوں سے بسوں کو سڑکوں پر چلتا دیکھوں گا۔ برسوں سے سیاستدانوں نے صرف وعدے کیے جو کبھی وفا نہ ہوئے ہیں، لہٰذا میرے نک چڑھے پن کو معاف کیجیے۔

چونکہ پراسیسنگ پلانٹس غیر فعال بنے ہوئے ہیں اس لیے خام ٹریٹمنٹ سے عاری گندا پانی سمندر کا راستہ ناپ لیتا ہے۔ یوں ہم جو زیادہ تر سمندری خوراک کھاتے ہیں وہ زہریلی دھاتوں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اسی طرح سے زیرِ سطحی زمین (subsoil) بھی آلودگی کا شکار ہے، اور کراچی کے قرب و جوار میں اُگائی جانے والی سبزیاں بڑی حد تک فیکٹریوں سے خارج ہونے والے کیمیکل سے آلودہ ہوتی ہیں۔

چند ماہ قبل میں نے شہر کے ان پسماندہ ترین علاقوں میں قیام پذیر لوگوں کے صبر و تحمل کے امتحانوں پر دل اداس کردینے والی ڈاکیومنٹری دیکھی جہاں روزمرہ استعمال کے پانی کا حصول کسی کٹھن امتحان سے کم نہیں ہے۔

وہ لوگ عوامی نلکوں سے پانی بھرنے کے لیے برتنوں کے ساتھ گھنٹوں قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ڈاکیومنٹری میں ان مناظر کے ساتھ ساتھ ان امرا کے باغیچے اور سوئمنگ پولز کی جھلکیاں بھی دکھائی جاتی رہیں، جو پانی کے ٹینکروں کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔ چونکہ ’ٹینکر مافیا‘ نے پانی کی تقسیم پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے اس لیے چند علاقوں میں تو بذریعہ پائپ بھی پانی پہنچایا جاتا ہے۔

رافعہ ذکریہ نے اس حالیہ برساتی سیلاب کی دل خراش کہانی بھی سنائی جس کی وجہ سے کوڑا لوگوں کے گھروں تک بہہ آیا۔ پھر سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر گلی محلوں میں قربانی کے جانوروں کی اوجھڑیاں پھینک دی گئیں۔ اوجھڑی اور گندے پانی کے امتزاج سے مکھیوں کی بہتات ہوگئی جس کے باعث شہریوں کی صحت متاثر ہونے لگی۔

مختلف تھیوریز میں سے ایک تھیوری جو کراچی میں بکھرے کوڑے کے معاملے پر پورا اترتی ہے وہ یہ ہے کہ ری سائیکلینگ کا کام چند بڑے ٹھگوں کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے سیکڑوں ملازمین صفائی اور دوبارہ فروخت کیے جانے کے قابل خالی بوتلوں اور کینز اکھٹا کرنے کے لیے کچرا اٹھنے ہی نہیں دیتے۔ یہ بدمعاش اپنی بدمعاشی رکھنے کے لیے شہری افسران اور سیاستدانوں کو پیسہ کھلاتے ہیں، یوں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر جمع ہوجاتے ہیں۔ جن غیر ملکی سرمایہ کاروں نے شہر کی صفائی کا ٹھیکا حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ان کی خوب حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

ان مسائل کا حل نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی اس کے لیے بھاری وسائل درکار ہیں۔ اگر سیاستدانوں کو پانی کے لیے قطاروں میں کھڑا کردیا جائے، اپنے علاقوں کی کچرا کنڈیوں کی صفائی کروائی جائے اور بس کے ذریعے سفر کروایا جائے تو میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کراچی کے مسائل کو حل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے لگی۔

مگر چونکہ ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا اس لیے میں وفاقی حکومت کی مداخلت کا خیر مقدم کروں گا۔

یہ مضمون 21 ستمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔