'افغانستان میں تشدد کی نئی لہر پاکستان میں مزید مہاجرین کی آمد کا باعث بن سکتی ہے'

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

شہریار آفریدی کے مطابق یو این ایچ سی آر کو پناہ گزینوں کی مدد کرنی چاہیے—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی
شہریار آفریدی کے مطابق یو این ایچ سی آر کو پناہ گزینوں کی مدد کرنی چاہیے—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی

اسلام آباد: وزیر برائے انسداد منشیات اور سیفرون شہریار آفریدی نے افغانستان میں خونی واقعات کی نئی لہر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں تشدد میں اضافہ پاکستان کی جانب مہاجرین کی نئی لہر کا باعث بن سکتا ہے۔

شہریار آفریدی نے اپنے ان تحفظات کا جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) فلپو گرانڈی سے ملاقات میں کیا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کو پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، ساتھ ہی شہریار آفریدی نے فلپو گرانڈی کو کہا کہ وہ افغان مہاجرین کی میزبانی میں پاکستان کو درپیش چینلنچز پر کام کریں۔

مزید پڑھیں: افغان مہاجرین کے بینک اکاؤنٹ کھلوانے کا وعدہ شرمندہ تعبیر ہوگیا

شہریار آفریدی نے کہا کہ وہاں اس چیز کی ضرورت ہے کہ یو این ایچ سی آر کی ٹیمیں پناہ گزین کیمپس میں رہنے والے افغان مہاجرین کے پاس آئیں اور انہیں بنیادی صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات فراہم کریں۔

مہاجرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ افغان مہاجرین کے لیے یو این ایچ سی آر کی مختص رقم میں کمی تشویش کا باعث تھی کیونکہ کیمپوں میں موجود مہاجرین کو پہلے ہی مزید امداد کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں افغان مہاجرین کا قیام ’ طویل پناہ گزینوں کا بحران‘ قرار

وزیر برائے سیفرون نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کو بتایا کہ پاکستان آئندہ برس فروری میں 40 سال سے افغان مہاجرین کے ساتھ اپنی مہمان نوازی پر ایک کانفرنس کا انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لہٰذا یو این ایچ سی آر اس ایونٹ کے لیے حمایت کرے۔

دوران گفتگو شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خود کے لیے کوئی مدد کی ضرورت نہیں لیکن یو این ایچ سی آر کو بنیادی ضروریات کے ساتھ مہاجرین کی مدد کرنی چاہیے۔


یہ خبر 14 اکتوبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی