نئی نسل تیزی سے ڈپریشن کا شکار کیوں ہورہی ہے؟

15 اکتوبر 2019

ای میل

پاکستان میں عام طور پر ڈپریشن سے دوچار افراد کو پاگل سمجھا جاتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
پاکستان میں عام طور پر ڈپریشن سے دوچار افراد کو پاگل سمجھا جاتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

چار برس پہلے تک زاریہ عمیر او لیول کی ایک ذہین طالبہ تھیں اور مستقبل میں میڈیکل پروفیشن میں جانے کے لیے پوری طرح پر عزم تھیں مگر پھر اچانک جیسے ان کی زندگی سے خوشیاں، امنگیں اور مستقبل کے خواب سب کچھ ختم ہوتا چلا گیا، او لیول میں ناکامی کے بعد زاریہ نے والد کے اسرار پر جیسے تیسے ایف ایس سی کیا، ڈاکٹر بننے کا خواب بکھر تے ہی وہ شدید مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہوئیں جس کا نتیجہ ڈپریشن کی صورت میں نکلا۔

گزشتہ 2 سال سے زاریہ (فرضی نام) لاہور اور کراچی کی کوالیفائڈ سائیکا ٹرسٹ اور تھراپسٹ کے زیر علاج ہیں اور ان کی سست ریکوری کو دیکھتے ہوئے ان کے والد عمیر مرزا انہیں علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کی تیاریوں میں ہیں۔

مگر یہ صرف ایک 20 سالہ زاریہ کی کہانی نہیں ہے اس جیسی دیگر درجنوں لڑکیاں بھی اس پریشانی سے گزر رہی ہیں، آغا خان یونیورسٹی کراچی کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ڈپریشن اور اینزائٹی پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والے امراض یا مسائل میں شامل ہیں جن کا سب سے زیادہ شکار نوجوان نسل ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈپریشن کے مریضوں کی شرح 22 سے 60 فیصد تک نوٹ کی گئی ہے جو زیادہ آبادی والے شہروں جیسے کراچی اور لاہور میں بلند ترین ہے، ایک اندازے کے مطابق ذہنی امراض کی شرح اگر اسی طرح بڑھتی رہی تو 2050 تک پاکستان ذہنی مسائل و بیماریوں کے حوالے سے عالمی ریکنگ میں چھٹے نمبر پر ہوگا۔

اگرچہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں ابھی تک جوائنٹ فیملی سسٹم کا راج ہے اور کسی بھی طرح کی بیماری کی صورت میں مریض کو فیملی و عزیز و اقربا کی مکمل سپورٹ حاصل ہوتی ہے، مگر ہمارا فرسودہ سماجی نظام نفسیاتی و ذہنی عوارض کو پاگل پن قرار دے کر مریض کو علاج و ریکوری میں سپورٹ کرنے کے بجائے اسے مزید تنہا کردیتا ہے۔

تاہم اگر دیکھا جائے تو ڈپریشن اور اینزائٹی دراصل پاگل پن نہیں بلکہ ایک ذہنی دباؤ جیسا مسئلہ ہیں جو عالمی سطح پر بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

اس مضمون میں ہم یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ آخر ڈپریشن، ذہنی دباؤ یا اینزائٹی کیا ہے اور اس سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے۔

پاکستانی معاشرے میں ذہنی امراض کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی ایک بڑی وجہ ہمارا فرسودہ سماجی نظام ہے جہاں اولاد یا رشتوں سے زیادہ روایات، رسوم اور باہر والوں کی آرا کو اہمیت دی جاتی ہے اور معمولی سے لے کر شدید نوعیت کے نفسیاتی امراض کو گھروں میں ہی دبادیا جاتا ہے اور ایسے مسائل سامنے نہ لانے کی ایک وجہ "لوگ کیا کہیں گے" بھی ہے۔

ڈپریشن کیا ہے؟

ڈپریشن ایک مخصوص کیفیت کا نام ہے جس میں مریض خود کو تنہا، اداس اور ناکام تصور کرتا ہے، یہ مرض واقعات کے منفی رخ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اس کیفیت میں اگر مریض کو فیملی یا دوست و احباب کی طرف سے مناسب مدد نہ ملے اور بروقت علاج پر توجہ نہ دی جائے تو مریض کی ذہنی حالت بگڑنے لگتی ہے جو اس کی سوشل اور پروفیشنل زندگی دونوں کے لیے مہلک ہے۔

اینزائٹی کو ڈپریشن کی جڑواں بہن کہا جاسکتا ہے، ڈپریشن مریض کو ایک ناکام انسان کے طور پر پیش کرتا ہے تو اینزائٹی ان منفی خیالات و تصورات کو بڑھا کر مریض میں مسلسل خوف اور اندیشوں کی کیفیت کو پروان چڑھاتی ہے یوں زندگی میں ترقی کا سفر رک کر جمود کا باعث بنتا ہے اور یہ جمود رفتہ رفتہ انسان کی صلاحیتوں کے ساتھ اس کے خوشیوں، خوابوں، رشتوں اور محبتوں کو کسی دیمک کی طرح چاٹ کر مریض کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔

اگرچہ ڈپریشن کا مرض ہر عمر کے افراد میں نوٹ کیا گیا ہے مگر عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق 2011 کے بعد 18 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اس مرض کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ رہی ہے۔

نئی نسل "ڈپریسڈ جنریشن" کیوں بنتی جارہی ہے؟

اس کی کئی اور مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے درج ذیل وجوہات بھی ہیں۔

1-انٹر فیملی میرج اور جینیٹکس

اگرچہ آج ہم 21 ویں صدی کے ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں مگر پھر بھی پاکستان میں ایسے پڑھے لکھے خاندانوں کی کمی نہیں ہے جو ذات پات کے معاملے میں بہت سخت ہیں اور خاندان سے باہر شادی کے خلاف ہیں، ایسی زبردستی کی شادیوں کی صورت میں شوہر اور بیوی میں شاذ و نادر ہی ذہنی ہم آہنگی ہو پاتی ہے اور گھر کے ماحول کے ساتھ ہی ان کے بچے بھی شروع سے ایک تناؤ یا کھچاؤ کا شکار رہتے ہیں، ایسے بچوں میں 18 سال کی عمر کے بعد ذہنی امراض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان میں مسائل کو خود حل کرنے کی صلاحیت اور خود اعتمادی کم ہوتی ہے اور وہ یونیورسٹی یا بعد ازاں ملازمت میں جلد ذہنی دباؤ لے کر ڈپریشن کا شکار ہوجا تے ہیں۔

اسلام آباد کی ایک معروف کلینیکل سائیکاٹرسٹ ذوفشاں قریشی کے مطابق ڈپریشن اور اینزائٹی وراثتی امراض ہیں اور یہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ خواتین کے حمل کے دوران ماں اگر شدید دباؤ والے ماحول میں رہی ہو تو خاص طرح کے ہارمون ’کارٹیسال‘ پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے بچے کے دماغ پر منفی اثر پڑتا ہے اور مستقبل میں بچے کے کسی ذہنی مرض کے شکار ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر پیدائش کے بعد 2 سے تین سال کے ابتدائی عرصے میں والدین سے بچوں کی پرورش میں کوئی غفلت یا کوتاہی سر زد ہو انہیں لاڈ پیار میں بگاڑا جائے یا حد سے زیادہ سختی کی جائے تو ایسے بچے نوجوانی میں ڈپریشن یا دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں جو بعد ازاں شادی کے بعد تعلقات پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

2 - معاشی مسائل

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ڈپریشن کی شرح تیزی سے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ معاشی مسائل بھی ہیں، بڑے شہروں میں آبادی کے پھیلاؤ اور پر تعیش لائف اسٹائل کو اختیار کرنے کے جنون میں چیلنجز بڑھ گئے ہیں، اسٹیٹس کو کی دوڑ میں ہر کوئی جائز و ناجائز طریقے سے زیادہ سے زیادہ کما کر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے جنون میں اچھائی اور برائی میں تمیز بھولتا جا رہا ہے جس کے باعث نہ صرف سماجی نظام زوال کا شکار ہے بلکہ خونی رشتوں میں بھی خود غرضی اور مفاد پرستی بڑھتی جارہی ہے۔

ایسے میں حساس فطرت اور درد مند دل رکھنے والے افراد تیزی سے ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ ہر موڑ پر انسان کے روپ میں ایک بھیڑیا اسے نوچنے کو بیٹھا ہے، اس کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور آفس میں سینئر افراد یا باس کے خراب رویوں کے باعث بھی نوجوان نسل تیزی سے ڈپریشن کا شکار ہو رہی ہے اور فی الوقت 100 میں سے 10 نوجوان اپنے نفسیاتی مسائل کے باعث تھراپسٹ کے زیر علاج ہیں۔

3 - جنریشن گیپ

گزشتہ چار، پانچ دہائیوں کے دوران انسان نے سائنس و ٹیکنالوجی خصوصا مصنوعی ذہانت کے میدان میں جو سنگ میل عبورکیے ہیں وہ پچھلی 2 صدیوں کی مجموعی ترقی پر بھاری ہیں, الیکٹرانکس آلات اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں جو انقلاب آیا ہے وہ کسی سے ڈکھا چھپا نہیں ہے مگر دیکھا جائے تو اس تیز ترقی کے فوائد کے ساتھ شدید نقصانات بھی سامنے آئے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے بعد اب ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بھی سماجی و معاشرتی نظام تیزی سے زوال کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈپریشن کے بارے میں لوگوں میں پائی جانے والی غلط فہمیاں اور توہمات

آج کی نسل ایک ڈیجیٹل دور میں جی رہی ہے جو ایک کلک یا موبائل پر چند پنچز سے ہر چیز کا ححصول چاہتی ہے جبکہ والدین ابھی تک پرانی اقدار و روایات کے حامل ہیں, اس وجہ سے والدین اور بچوں میں فاصلے بہت بڑھ گئے ہیں, نہ تو والدین بچوں کے رجحانات کو دیکھ کر خود کو بدلنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی اولاد ان کے پرانے طور طریقوں اور روایات کو قبول کرنا چاہتی ہے، نتیجتاً ہر گھر میں ایک باغی یا احساسات سے عاری بچہ جنم لے رہا ہے جن کی زندگی کا واحد مقصد صرف اور صرف اپنی خواہشات کی تسکین ہے۔

3 - سوشل میڈیا

سوشل میڈیا کا ہر وقت استعمال بھی ڈپریشن کا ایک سبب ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
سوشل میڈیا کا ہر وقت استعمال بھی ڈپریشن کا ایک سبب ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

سوشل میڈیا نے گزشتہ ایک سے ڈیڑھ دہائی میں ہماری سماجی زندگی کو اپنی آہنی پنجوں میں جکڑ لیا ہے، اسمارٹ فونز کی آمد کے بعد سوشل میڈیا کا استعمال پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھتا گیا اور فی الوقت پاکستان اسمارٹ فونز در آمد کرنے والے صف اول کے ممالک میں سے ایک ہے، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر نئی ایجاد کے دیوانے ہو کر اس کے منفی استعمال کو ہی فروغ دیتے ہیں۔

فیس بک،ٹوئٹر، انسٹا گرام اور سماجی رابطے کی دیگر تمام ویب سائٹس بنانے کا مقصد دنیا بھر کے افراد کو آپس میں جوڑ کر عالمی امن کو فروغ دینا تھا مگر ہماری نوجوان نسل نے انہیں ایک 'پیرالل لائف"کے طور پر لیا، جہاں ہر کوئی اپنی اصل شخصیت کو چھپائے، ماسک ڈالے مسٹر و مس پرفیکٹ بنا بیٹھا ہے، جس سے نئی نسل میں نفسیاتی و ذہنی عوارض بڑھ گئے ہیں کیونکہ لوگ اپنے نقائص کے ساتھ خود کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں، اسی لیے اپنوں اور قریبی رشتوں سے فاصلے بہت بڑھ گئے ہیں اور گھروں میں لوگ ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے بجائے اسمارٹ فونز پر مصروف رہتے ہیں۔

موبائل فونز کے بہت زیادہ استعمال سے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، قوت برداشت کم ہونے سے نوجوان نسل میں ڈپریشن و اینزائٹی کی شرح تیزی سے بڑھی ہے مگر ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کے نشے میں اس طرح مبتلا ہیں کہ ان کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے۔

دوسری جانب نئی نسل کے والدین بھی اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے اور بچوں کو توجہ دینے کے بجائے سوشل میڈیا اور موبائل پر وقت گزارنا پسند کرتے ہیں جو آنے والی نسل میں ڈپریشن اور اینزائٹی سے بھی سنگین نفسیاتی عوارض کا ریڈ سگنل ہے۔


صادقہ خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں اور نیشنل سائنس ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ، بلاگر اور دو سائنسی کتب کی مصنفہ ہیں۔ صادقہ آن لائن ڈیجیٹل سائنس میگزین سائنٹیا کی بانی اور ایڈیٹر بھی ہیں۔ ۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔