ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت پر پیپلزپارٹی، جے یو آئی (ف) سے ناخوش

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2019

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: حکومت کے خلاف لانگ مارچ سے قبل ہی اپوزیشن کی صفوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) سے لاڑکانہ میں سندھ اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت کرنے پر وضاحت مانگ لی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے وفاق میں پی ٹی آئی کی مخالفت اور صوبے میں حمایت پر جے یو آئی کی پالیسی پر حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پالیسی مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

لاڑکانہ کے حلقہ (پی ایس 11) سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ جے یو آئی (ف) سندھ کے اتحاد کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے یہ سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ آپ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف؟'

مزید پڑھیں: تحریک انصاف اور ان کے سہولت کاروں کو گھر بھیجیں گے، بلاول

واضح رہے کہ لاڑکانہ کے اس حلقے میں 17 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہونا ہے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ 'یہ جے یو آئی (ف) کی دہری پالیسی ہے کہ وہ مرکز میں پی ٹی آئی کے مخالف ہیں اور سندھ میں ان کے اتحادی ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ میں 'آزادی مارچ' کے لیے جے یو آئی (ف) کی حمایت کررہی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) اپنے 'آزادی مارچ' کے لیے سندھ حکومت سے تمام ممکنہ مدد حاصل کر رہی لیکن ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کے خلاف مہم چلارہی۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'مولانا فضل الرحمٰن کی دہری پالیسی پر پی پی پی جیالے کو غصہ اور مایوسی ہے'۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو جواب دینا چاہیے کہ آیا لاڑکانہ کی مقامی قیادت نے اپنی طرف سے یہ قدم اٹھایا یا پارٹی کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی یا پارٹی پالیسی کے مطابق کام کیا۔

علاوہ ازیں پی پی پی قیادت کے بیانات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر جے یو آئی (ف) سے موقف لینے کے لیے متعدد مرتبہ رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی کے درمیان تعلقات گزشتہ ماہ اس خط کے بعد خراب ہوئے تھے جس میں حکومت مخالف مارچ میں شرکت سے انکار کیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر اس معاملے پر سیاست کھیلنے کے الزامات لگائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ کو کامیاب بنایا جائے، نواز شریف کا شہباز شریف کو خط

تاہم اس میں جے یو آئی (ف) نے پہلے پیپلزپارٹی پر لانگ مارچ کے معاملے پر دہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ایک طرف پیپلزپارٹی لانگ مارچ کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دے رہی جبکہ دوسری طرف یہ اخلاقی اور سیاسی حمایت کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے 25 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا ارادہ رکتھی ہے، جس کا مقصد اکتوبر میں 'جعلی حکومت' کو گھر بھیجنا ہے۔

بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو ہوگا لیکن اس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ 31 اکتوبر کو مارچ کے شرکا اسلام آباد میں داخل ہوگا۔