دنیا کا منفرد زمین کا ٹکڑا جس کے مالک ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتے ہیں

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

دریا کے بیچ میں درختوں کے جھگٹے میں واقع آئی لینڈ کی مالکی اسپین اور فرانس میں تبدیل ہوتی ہے—فوٹو: فیس بک
دریا کے بیچ میں درختوں کے جھگٹے میں واقع آئی لینڈ کی مالکی اسپین اور فرانس میں تبدیل ہوتی ہے—فوٹو: فیس بک

اگرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام طور پر زمین کے مالکانہ حقوق 90 سے 100 سال تک دیے جاتے ہیں۔

تاہم دنیا میں ایک ایسا زمین کا ٹکڑا بھی ہے، جس کے مالک ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مالک عام افراد نہیں بلکہ 2 ریاستیں ہیں۔

جی ہاں، یورپ میں واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ نامی 7 ہزار اسکوائر میٹر سے بھی کم رقبے پر پھیلا ہوا آئی لینڈ وہ واحد زمین کا ٹکڑا ہے، جس کی ملکیت ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتی ہے۔

’دبئی پوسٹ‘ کے مطابق اس چھوٹے مگر انتہائی اہم اور تاریخی آئی لینڈ کی مالکی تبدیل ہونے کا یہ سلسلہ 350 سال سے جاری ہے۔

آئی لینڈ سیاحت کے حوالے سے یورپ بھر میں مشہور ہے—فوٹو: امیوزنگ پلانل
آئی لینڈ سیاحت کے حوالے سے یورپ بھر میں مشہور ہے—فوٹو: امیوزنگ پلانل

اس آئی لینڈ کی ملکیت ہر 6 ماہ فرانس اور اسپین میں تبدیل ہونے کا سلسلہ 1669 میں اس وقت شروع ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلی آرہی جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ ہوا۔

جنگ کو ختم کرنے کے معاہدے میں یہ بات بھی شامل کی گئی کہ اسپین اور فرانس کی سرحد کو ملانے والی جگہ پر واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے انتطامات اور مالکانہ حقوق دونوں ممالک کے پاس ہوں گے۔

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر 6 ماہ بعد ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے مالکانہ حقوق ایک دوسرے کو فراہم کریں گے اور تب سے آج تک اس زمین کے ٹکڑے کے مالکانہ حقوق دونوں ممالک میں تبدیل ہوتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق ’فزنٹ آئی لینڈ‘ دراصل اسپین اور فرانس کی زمینی سرحد کو ملانے والی جگہ پر موجود ایک زمین کا ٹکڑا ہے جو دونوں ممالک کی سرحد پر واقع دریا کے کنارے موجود ہے۔

اس آئی لینڈ کے ابتدائی 6 ماہ کے مالکانہ حقوق اسپین جب کہ سال کے آخری 6 ماہ کے مالکانہ حقوق فرانس کے پاس رہتے ہیں۔

اگرچہ اس آئی لینڈ کی مقامی آبادی کوئی نہیں، تاہم اسی آئی لینڈ کے آس پاس اسپین اور فرانس کی شہریت والے افراد بستے ہیں اور مقامی افراد میں اس آئی لینڈ کو انتہائی خاص اہمیت حاصل ہے۔

آئی لینڈ کے ہر 6 ماہ بعد تبدیل ہونے والے مالکانہ حقوق کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی مدت کے دوران آئی لینڈ کی دیکھ بھال، صفائی اور اسے سیاحوں کے لیے مزید بہتر بنانے کے انتطامات کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی آئی لینڈ کے پر موجود بنے ہوئے پُل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے اور ان پُلوں کے تحت ہی لوگ آسانی سے دونوں ممالک کی جانب سفر کرتے ہیں۔

دریا کے دامن میں موجود آئی لینڈ پر پہنچنے کے لیے بنائے گئے پل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
دریا کے دامن میں موجود آئی لینڈ پر پہنچنے کے لیے بنائے گئے پل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

59