مقبوضہ کشمیر میں جشن عید میلادالنبیﷺ پر پابندی، پاکستان کی مذمت

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2019

ای میل

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 سے پابندیاں ہیں—فائل/فوٹو:اے پی
مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 سے پابندیاں ہیں—فائل/فوٹو:اے پی

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جشن عیدمیلاد النبیﷺ کی مناسبت سے اجتماعات پر بھارتی حکام کی جانب سے عائد پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے دفعہ 144 سمیت دیگر پابندیوں کو فوری ختم کرنے کا ایک بار پھر مطالبہ کردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘بھارتی قابض فورسز نے سری نگر میں حضرت بل اور دیگر مقدس مقامات اور مساجد کی طرف جانے والے راستوں کو بند کردیا ہے اور اس مبارک موقع کی مناسبت سے نکلنے والے جلوسوں کو جبری طور پر روکا گیا ہے حالانکہ کشمیری روایتی انداز میں اس موقع کو مناتے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:زندگی کا رول ماڈل نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہونا چاہیے، وزیراعظم

ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر جشن منانے اور دیگر اجتماعات پر پابندیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے جذبات کا احترام نہیں کیا جاتا اور یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے’۔

کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی برادری سے اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کو کشمیریوں کے مذہبی حقوق اور ان کی آزادی کو دبانے کا نوٹس لینا ہوگا جو عالمی قوانین اور کنونشز کی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفتر خاجہ کا کہنا تھا کہ ’14 ہفتوں سے زائد عرصے سے 80 لاکھ کشمیری 9 لاکھ بھارتی فورسز کے غیر انسانی لاک ڈاؤن کے زیر اثر ہیں’۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت فوری طور پر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کو بحال کرے اور سول سوسائٹی سمیت تمام زیر حراست شہریوں کو رہا کردے۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی طور پر لاتعداد سیاسی کارکن اور رہنما گرفتار ہیں ان سب کو رہا کر دیا جائے اور ‘خاص کر کم عمر لڑکوں کو رہا کر دیا جائے’، دفعہ 144، پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ قوانین کو ہٹا دیا جائے۔

مزید پڑھیں:ملک میں یوم ولادت رسولﷺ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے

مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ آزاد میڈیا اور انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کو مقبوضہ خطے میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ آزادانہ طور پر کشمیریوں کی حالت زار کا جائزہ لے سکیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے اظہار کی خواہشات کو دبا نہیں سکتی’۔