توہین مذہب، پورنوگرافی سے متعلق فیس بک اکاؤنٹ معطل کرنے کی درخواست

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2019

ای میل

ملک میں جنوری سے جون 2019 تک سب سے زیادہ مواد پر پابندی لگی—فائل فوٹو: رائٹرز
ملک میں جنوری سے جون 2019 تک سب سے زیادہ مواد پر پابندی لگی—فائل فوٹو: رائٹرز

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے توہین مذہب، پورنوگرافی، بے حیائی، توہین آمیز اور ریاست مخالف مواد سے متعلق تمام فیس بک اکاؤنٹس معطل کرنے کی درخواست کردی۔

پی ٹی اے نے اعلامیے میں کہا کہ ’مذکورہ اقدام کا مقصد سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ صارفین کو دستیاب آن لائن نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا ہے‘۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

اس ضمن میں مزید کہا گیا کہ ’پی ٹی اے کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے تحت انٹرنیٹ پر غیر قانونی مواد کو بلاک کرے یا ہٹائے‘۔

واضح رہے کہ حال ہی میں فیس بک نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان میں مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں 2 ہزار 203 سے زائد پوسٹس یا ویڈیوز بلاک کردی تھیں، جو کسی بھی ملک میں جنوری سے جون 2019 تک سب سے زیادہ مواد پر پابندی تصور کی گئی۔

اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 15 ہزار 337 چیزوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

پی ٹی اے نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کہ سیاسی پوسٹس کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جعلی خبروں کو فیس بک نے بھی ایک چیلینج اور حساس مسئلہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک کی ‘غلطی سے پوسٹ بلاک‘ کرنے پر ڈان ڈاٹ کام سے معذرت

ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کے مطابق ’فیس بک کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ سمجھنا غلط ہے کہ مقامی قوانین کو مخالف سیاسی آواز کو خاموش کرنے یا آن لائن آزادی کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا گیا'۔

پی ٹی اے نے مزید کہا کہ اس نے تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کی تائید کی ہے اور اس کی ضمانت آئین پاکستان اور متعلقہ قوانین نے دی۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی اے اور فیس بک دونوں جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے کام کر رہے ہیں، جس میں ان گمنام اکاؤنٹس اور صفحات کو ہٹانا شامل ہے جو جعلی خبریں یا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔

دریں اثنا فیس بک کے ایک عہدیدار نے ریاستی اداروں کے کہنے پر سیاسی عناصر اور میڈیا کو محدود کرنے کی خبروں کو مسترد کیا۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

تاہم فیس بک پر عدلیہ مخالف اور ملک کی آزادی سے متعلق مذموم مواد پر پابندی لگائی گئی۔

پی ٹی اے نے کہا کہ فیس بک کی پالیسی ہے کہ نہ صرف اداروں یا تنظیموں بلکہ افراد کے خلاف بھی جعلی خبروں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔


یہ خبر 20 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی