مسلم لیگ (ن) کے رانا تنویر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی منتخب

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2019

ای میل

رانا تنویر حسین نے کہا کہ میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کو غیر جانبداری سے چلاوں گا—فائل فوٹو: ڈان
رانا تنویر حسین نے کہا کہ میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کو غیر جانبداری سے چلاوں گا—فائل فوٹو: ڈان

قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا تنویر حسین کو متفقہ طور پر چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی منتخب کرلیا۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ رانا تنویر حسین کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن سردار نصر اللہ دریشک، مسلم لیگ (ن) کے مشاہد حسین سید اور پاکستان پیپلز پاٹی (پی پی پی) کے راجہ پرویز اشرف نے نامزد کیا۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب

رانا تنویر حسین کو شہباز شریف کی جگہ چیئرمین منتخب کیا گیا۔

خیال رہے کہ 20 نومبر کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شہباز شریف کا پی اے سی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ منظور کیا تھا۔

اس ضمن نومنتخب چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ’میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کو چلانے میں غیر جانبدار رہوں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی پبلک اکاونٹس کمیٹیاں بہتر کام کرتی رہی ہیں۔

رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ سابق وزیر داخلہ اور سینئر سیاست دان چوہدری نثار علی خان نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو صحیح معنوں میں متحرک کیا۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ نامزد

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ دوستوں کو اعتراض تھا کہ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے پیراز زیر غور نہ لائے جائیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر جو بھی ہوگا مشاورت سے کریں گے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مئی میں حیران کن طور پر قومی اسمبلی کی طاقتور ترین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب لاہور ہائیکورٹ نے 16 نومبر کو ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

بعدازاں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد شبہاز شریف بھی اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ روانہ ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: 'چیئرمین 'پی اے سی' کے معاملے پر اپوزیشن نے بلیک میل کیا'

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ برس 21 دسمبر کو قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف بلا مقابلہ پی اے سی کے چیئرمین منتخب ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی کے قیام کے بعد شہباز شریف کو پی اے سی کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا لیکن حکومت نے انہیں یہ عہدہ دینے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے اس معاملے پر سخت ڈیڈ لاک تھا۔

قانون کے تحت قائد ایوان (وزیر اعظم) کے انتخاب کے بعد 30 روز میں اسپیکر اسمبلی تمام قائمہ اور فعال کمیٹیاں قائم کرنے کے پابند ہوتے ہیں‘۔

لہٰذا 18 اگست 2018 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد اسپیکر اسمبلی کو 17 سمتبر 2018 تک پارلیمنٹ کی 3 درجن سے زائد کمیٹیوں کا قیام عمل میں لانا تھا۔

مذکورہ معاملے پر اپوزیشن اور حکومت کے ٹھوس موقف کے باعث تاحال قومی اسمبلی کے اجلاس قائمہ کمیٹیوں کے قیام کے بغیر ہورہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کی پیشکش مسترد کردی

اپوزیشن نے دھمکی دی تھی کہ ’پارلیمانی روایت‘ کو برقرار رکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو اگر پی اے سی چیئرمین شپ نہیں دی گئی تو وہ تمام کمیٹیوں کا بائیکاٹ کردے گی، جس کے باعث اسپیکر اسد قیصر نے کمیٹیوں کے قیام کا عمل روک دیا تھا۔

بعد ازاں سخت ترین ڈیڈ لاک اور اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوششوں کے بعد بالآخر حکومت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار اپوزیشن کے حوالے کردیا تھا۔

قبل ازیں حکومت کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بھی پی اے سی کا چیئرمین بننے کی پیشکش کی گئی تھی جس کو بلاول بھٹو نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ وہ مذکورہ معاملے پر اپوزیشن کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔