آرمی چیف کی توسیع کے فیصلے پر پارٹی اجلاس، وزیراعظم کی اپوزیشن پر تنقید

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2019

ای میل

28 نومبر کوسپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 ماہ کی مشروط توسیع دی— فائل فوٹو: ڈان
28 نومبر کوسپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 ماہ کی مشروط توسیع دی— فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے اپوزیشن پر تنقید کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شریک شخصیت نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے دہرایا کہ اداروں کے تصادم کے توقع رکھنے والے اور مافیاز سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوس ہوئے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی رہنماؤں کو کوئی مخصوص ہدایات نہیں کیں اور زیادہ تر وقت آرمی چیف کی توسیع سے متعلق کیس کی 3 روز تک ہونے والی سماعت کے احوال پر بات کرتے ہوئے گزارا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی اور کہا کہ عدلیہ نے کبھی آرمی چیف کی تعیناتی اور توسیع جیسے معاملے کو نہیں اٹھایا تھا۔

اجلاس میں شریک شخصیت نے بتایا کہ حکومت کی قانونی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن حکومت کی قانونی ٹیم نے قابلِ ذکر کام کیا‘۔

بعدازاں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے حکومت اور اپوزیشن اتفاق رائے کے ساتھ آرمی چیف کی تعیناتی اور عہدے کی مدت سے متعلق قانون پاس کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم اتفاق رائے سے قانون سازی کریں گے، وزیراعظم عمران خان نے سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے جو مطلوبہ قانون سازی کا معاملہ دیکھے گی‘۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ قوم کا فخر ہیں اسی لیے کوئی نہیں یہاں تک کہ اپوزیشن میں کوئی ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فروغ نسیم کی 2 روز بعد وفاقی کابینہ میں واپسی

مطلوبہ قانون سازی میں اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت کے باوجود وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن پر تنقید کے سوال میں معاون خصوصی نے کہا کہ ’ ہمیشہ قومی اور سیاسی بیانیے ہوتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے اور ایسی صورتحال میں حکومت کا ماننا ہے کہ قانون نہ صرف قومی اسمبلی (جہاں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت ہے) بلکہ سینیٹ ( جہاں اپوزیشن کی اکثریت) سے بھی منظور ہوگا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ترمیم کی ہدایت کسی فرد سے متعلق نہیں ہے بلکہ ایک قانونی معاملہ ہے جسے قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبے سے حل کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ رواں سال 19 اگست کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی تھی۔

وزیراعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کیا۔

خیال رہے کہ منگل 26 نومبر کو ہونے والی پہلی سماعت میں ہی سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف، وفاقی حکومت اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کردیے تھے۔

28 نومبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 6 ماہ کی مشروط توسیع دے دی تھی۔