ڈان تحقیقات: پاکستان میں ہیش ٹیگز اور ٹرینڈنگ کی اندرونی کہانی

پاکستان کے ہیش ٹیگ مرچنٹس تربیت یافتہ پیشہ ور لوگ نہیں ہیں، یہ طلبہ ہیں جو دن رات ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہیں۔
اپ ڈیٹ 04 دسمبر 2019 07:09pm

4 جولائی کو صحافیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والا ہیش ٹیگ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ (رجحان) بن گیا تھا۔

صحافیوں کی گرفتاری سے متعلق مہم ArrestAntiPakjournalists# میں نامور صحافیوں اور ٹی وی اینکر کی جامع تصویر گردش کررہی تھی جن میں سے کچھ وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور فوج پر باقاعدہ تنقید کرتے ہیں۔

‘ان سب کو پھانسی دیں ArrestAntiPakJournalists#’ کا ہیش ٹیگ ‘آئی کے واریئرز’ نامی مربوط سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ایک رکن نے پوسٹ کیا، یہ گروپ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرواتا ہے۔

چھوٹے نیٹ ورک کی جانب سے شروع کی گئی مہم سے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا، جس پر زیادہ فالوونگ رکھنے والے صارفین نے مذمت کرنے کے لیے اس ہیش ٹیگ کا استعمال کیا۔

درحقیقت وسیع پیمانے پر ردعمل کی وجہ سے ٹرینڈ کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔

مذکورہ ہیش ٹیگ کو اصل میں 2 ہزار 493 صارفین نے ٹوئٹ میں استعمال کیا تھا لیکن 44 ہزار سے زائد مرتبہ ری ٹوئٹ ہونے کی وجہ سے یہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔

ڈان کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں اثرات مرتب کرنے والی ایسی مہمات کو مصنوعی طور پر بڑھایا جاتا ہے جہاں حامی گروہ سوشل میڈیا صارفین کی بہت ہی کم تعداد سے ہیش ٹیگز کو ‘ٹرینڈنگ یا رجحانات’ پینل میں لانے کے لیے مادی صورت میں ٹوئٹر ٹریفک میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔

پاکستان میں ٹرینڈ کرنے والی سیاسی مہمات میں سے تقریباً 95 فیصد کو عوام کو گمراہ کرنے کے لیے مصنوعی طور پر فروغ دیا جاتا ہے جس سے ایک غلط تاثر جاتا ہے کہ حقیقت میں عوامی سطح پر کسی مخصوص گروہ یا بیانیے کی حمایت یا مخالفت موجود ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ ٹرینڈز مصنوعی جبکہ ان ہیش ٹیگز کے مرچنٹ (انہیں چلانے والے) حقیقی افراد ہوتے ہیں۔

تحقیقات سے علم ہوا کہ پاکستان میں اثر انداز مہمات بوٹس نہیں بلکہ انسان چلاتے ہیں، بوٹس خودکار یا نیم خودکار اکاؤنٹس ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر متواتر وقفوں کے بعد مخصوص امور میں مصروفِ عمل رہنے کے لیے پروگرام کیا جاتا ہے۔

ہیش ٹیگ مرچنٹس وہ افراد ہوتے ہیں جو حقیقی اور مصدقہ اکاؤنٹس چلاتے ہیں، جو روزانہ ٹوئٹر صارفین اور ذیلی نیٹ ورکس کے لیے ایک مہم یا تجویز کرتے ہیں تاکہ اس میں اضافہ کریں، ری ٹوئٹس کے ذریعے حمایت حاصل کریں اور جب ان کے ہیش ٹیگز میں کوئی ٹرینڈنگ پینل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائے تو اس کا جشن منایا جائے۔

ڈان کی تحقیق کے نتائج کے مطابق ایک متاثر کن مہم میں بظاہر ایک دوسرے سے منسلک اکاؤنٹس (جو بائیوگرافی، نظریہ اور مواصلات سے منسلک ہوتے ہیں) کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے جو کسی مخصوص مسئلے پر کسی تفریق کے بغیر اور ایک جیسے نکات کو بارہا، جارحانہ انداز سے زیادہ تعداد میں ٹوئٹ کرتے ہیں۔

پاکستان میں ٹوئٹر کا ٹرینڈنگ کے موضوعات کا سیکشن پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، جہاں اثر انداز ہونے والے نیٹ ورکس ٹوئٹر پر کچھ پیغامات پھیلانے یا ایک سیاسی جماعت کے اہم سنگِ میل یا کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے روزانہ ایک ہیش ٹیگ شروع کرتے ہیں۔

یہ نیٹ ورکس سر عام بلکہ فخر سے کام کرتے ہیں اور ہر ایک کے منفرد ٹیم لیبلز ہیں جیسا کہ ‘آئی کے واریئرز’ اور ‘ٹیم پاکستان زندہ باد’، وہ خود کو انفلوینسر (اثر انداز ہونے والے) نہیں بلکہ سرگرم کارکن، پروپیگنڈا کرنے والے نہیں بلکہ محب وطن، کسی سیاسی یا فوجی گروہ کے رکن نہیں بلکہ ان کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ وہ سائبر فوجی ہیں جو پاکستان کی اطلاعات کی جنگ لڑرہے ہیں۔

‘ٹماٹروں کا بائیکاٹ کریں’

ایک ہیش ٹیگ کی ٹرینڈنگ کا طریقہ کار سمجھنے اور اس میں شامل جوڑ توڑ کی حد تک تجزیہ کرنے کے لیے ڈان نے پاکستان کے ٹرینڈنگ پینل میں مکمل طور پر بے ترتیب ہیش ٹیگ کو شامل کرنے سے متعلق معروف مرچنٹ فرحان وِرک سے بات کی۔

واٹس ایپ کے ذریعے ہیش ٹیگ منتخب کرنے سے متعلق مذاکرات کے ایک طویل سلسلے کے بعد فرحان وِرک نے ٹماٹروں کے بائیکاٹ سے متعلق ہیش ٹیگ BoycottTomatoes# ٹرینڈ کروانے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ اثر کو یقینی بنانے کے لیے ہیش ٹیگ کے خیال کو اردگرد میں جاری بات چیت سے جوڑنا اہم ہے۔

فرحان ورک نے کہا کہ ‘قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے ہمیں ٹماٹروں کا استعمال روکنے کی ضرورت ہے’۔

انہوں نے 18 نومبر 2019 کو یہ مہم ٹرینڈ کرنے کی تجویز دی تھی جب ملک میں ٹماٹروں کی قیمت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔

فرحان ورک کے مطابق مہم کے پہلے ٹوئٹ کا مقصد ہیش ٹیگ کے آئیڈیا سے متعلق عوام کے ردعمل دیکھنا تھا۔

ان کے اکاؤنٹ کو 2 لاکھ 60 ہزار افراد فالو کرتے ہیں جس پر انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ‘دوستوں اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو آج رات 11 بجے ہم ٹماٹر بائیکاٹ کرنے پر ٹرینڈ کریں گے، اگر ہم قیمتوں میں اضافہ کرنے والی مافیا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے تو جو مصنوعی مہنگائی کررہے ہیں انہیں شکست ہوجائے گی، آپ ٹرینڈ کرنے کے لیے تیار ہیں تو جواب دیں’۔

فرحان ورک نے بتایا تھا کہ ‘پہلے ٹوئٹ کے تاثرات (5 منٹ میں) 211 ہیں، اگر وہ 15 منٹ میں 5 ہزار سے زیادہ بڑھ جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ عوام مہم چلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں’۔

اس دوران فرحان ورک نے گوگل پر ٹماٹروں کی تصاویر دیکھیں اور میم کے قابل ٹماٹروں کی تصاویر کے ساتھ انہوں نے قیمتوں میں اضافے کی خبر سے متعلق ڈان نیوز کے ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ بھی سیو کیا، ‘ہم مہم شروع کریں اس سے قبل ہمیں مواد تیار چاہیے، عام طور پر ہم ماضی کی ٹوئٹر مہمات سے تصاویر جمع کرتے ہیں یا کبھی کبھار ہماری ٹیموں میں موجود گرافک ڈیزائنرز سے انہیں بنانے کے لیے کہتے ہیں’۔

رات 11 بجے ٹماٹروں کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہوئی۔

اس حوالے سے فرحان ورک نے ‘ٹماٹر بائیکاٹ موومنٹ’ کے پوسٹر کے ساتھ ٹوئٹ کیا کہ ‘دوستوں، اپنے کی بورڈز تھام لیں اور ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنا شروع کریں اگر ہم سستے ٹماٹر چاہتے ہیں تو ہمیں ٹماٹروں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے’۔

اس ٹوئٹ کو 75 مرتبہ ری ٹوئٹ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ رات 11 بجے 2 ہزار افراد پر مشتمل نیٹ ورک میں سے صرف 350 اراکین ایکٹو تھے، فرحان ورک کی زیر قیادت ‘ٹیم آئی کے’ کئی واٹس ایپ گروپس سے رابطے میں ہیں اور ہر گروپ کا انفلوئینسرز ذاتی نیٹ ورک (جو 10 ہزار سے زائد صارفین کی فالوونگ رکھنے والے اکاؤنٹس پر مشتمل ہے)۔

فرحان ورک نے ڈان کو بتایا کہ ‘عام طور پر ہم رات 11 بجے ٹرینڈ نہیں کرتے ہیں، رات میں ٹرینڈز گھرے ہوئے ہوتے ہیں، صبح کے پینلز سب سے زیادہ آسان ہوتے ہیں’۔

رات ساڑھے 11 بجے تک BoycottTomatoes# صرف 2000 ٹوئٹس/ری ٹوئٹس کے باوجود ہیش ٹیگ پاکستان میں ٹرینڈنگ پینل میں شامل ہوگیا، اور اس ہیش ٹیگ نے ٹرینڈنگ پینل پر JusticeForSaleinPakistan# کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا، یہ مہم بڑے پیمانے پر جاری تھی اور اس وقت تک اس ہیش ٹیگ کے ساتھ 16 ہزار کے قریب ٹوئٹس کیے گئے تھے۔

کسی ٹرینڈ کے لیے دوسرے ٹرینڈ سے آگے بڑھنے کے لیے، جس کے ٹوئٹس بھی کہیں زیادہ ہوں، یہ کئی عناصر پر انحصار کرتا ہے جن کی تفصیلات اس رپورٹ کے ذیل میں بتائی گئی ہے۔

فرحان ورک نے کم از کم 5 انفلوئینسر اکاؤنٹس کی نشاندہی کی، جن میں سے 4 ان کی اپنی ٹیم کے تھے، جنہوں نے مہم کی ٹریفک بڑھانے میں کردار ادا کیا تھا۔

فرحان ورک نے کہا کہ ’ ان 1900 ٹوئٹس میں سے 600 کے قریب ٹوئٹس میری ٹیم نے کی ہیں جبکہ باقی ان افراد کی ہیں جو صرف میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ فالو کرتے ہیں’، صرف فرحان ورک کے ٹوئٹ سے 660 کے قریب ری ٹوئٹس ہوئے تھے۔

ڈان کے تجزیے نے مذکورہ مہم کے حوالے سے تصدیق کی کہ مجموعی طور پر 594 صارفین نے ہیش ٹیگ کے ساتھ 1،120 ٹوئٹس کیے جبکہ زیادہ ٹریفک 6،277 ری ٹوئٹس کے ذریعے بڑھا۔

کسی ٹرینڈ کی کامیابی کا اہم عنصر ہیش ٹیگ کا ممکنہ اثر اور اس کی رسائی (reach) ہے، ممکنہ رسائی ان منفرد صارفین کی تعداد ہے جو ہیش ٹیگ دیکھ سکیں گے، ممکنہ اثر یہ ہے کہ کوئی کتنی مرتبہ ہیش ٹیگ دیکھ سکتا ہے۔

فرحان ورک نے بتایا کہ ‘ٹرینڈز پینل میں داخل ہونے کے لیے ہمیں ایک خاص رکاوٹ ختم کرنی ہوتی ہے، رات 11 بجے تاثر کی حد (threshold) ممکنہ رسائی کم از کم 6 لاکھ پر تھی اور BoycottTomatoes# ہیش ٹیگ کی ممکنہ رسائی 7 لاکھ صارفین تھی’۔

ٹاپ ٹرینڈز چلانے والے نیٹ ورک کا حصہ ہونے سے عارضی توثیق ملنے کے علاوہ ہیش ٹیگ مرچنٹس اس کوشش کو ذاتی طور پر فائدہ مند جانتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی پروفائل کو آگے بڑھنے کا موقع بھی تصور کرتے ہیں۔

فرحان ورک نے بتایا کہ ‘بائیکاٹ سے متعلق ٹرینڈ میں 5 ہزار 408 فالوورز رکھنے والے صارف نے انفرادی طور پر 6 لاکھ تاثرات بنائے، اسی طرح ہیش ٹیگز متحرک ہوتے ہوئے پروفائل کی مصروفیت کو بہتر کرتے ہیں، اس طرح صارفین کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کیونکہ اس سرگرمی سے انہیں آگے بڑھنے کے لیے ایک پلیٹ فارم ملتا ہے’۔

آدھی رات تک عام صارفین نے ہیش ٹیگ سے متعلق پوسٹ کرنا شروع کردی تھی، جن میں سے اکثر تجسس یا مضحکہ خیز ٹرینڈ کی مذمت کے لیے پوسٹ کررہے تھے، اس سے مربوط اکاؤنٹس کے چھوٹے سیٹ سے مہم کو مزید بڑھانے کے لیے اپنی جانب متوجہ کیا۔

ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈز کا تعین کیسے کرتا ہے؟

ٹوئٹر کے ٹرینڈز کی فہرست ریئل ٹائم پیمائش کا آلہ ہے کہ لوگ سماجی رابطے کے نیٹ ورک پر کس موضوع سے متعلق بات کررہے ہیں۔

ٹرینڈنگ (رجحانات) کی فہرست میں جو کچھ چلتا ہے وہ الگورتھم کے زیر اثر ہوتا ہے جو نہ صرف مقبولیت (ٹوئٹس کی مجموعی تعداد) بلکہ رفتار کی بھی پیمائش کرتا ہے، دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ کچھ موضوع کس تیزی سے ٹوئٹر پر سامنے آرہے ہیں۔

کسی ہیش ٹیگ کی ٹرینڈنگ میں شامل لوگ یہ کنجی جانتے ہیں: مختصر دورانیے میں حجم اور اثر مرتب کرنے کے درمیان ہم آہنگی برقرار کیسے رکھی جاتی ہے۔

ٹوئٹر کا الگورتھم آہستہ آہستہ مستحکم کے بجائے تیز اتار چڑھاؤ کی حمایت کرکے تعین کرتا ہے کہ کیا ٹرینڈ کررہا ہے، زیادہ استعمال ہونے والی اصطلاح کے مقابلے میں کوئی اصطلاح جو کبھی دیکھی نہ گئی ہو اس کے لیے ٹوئٹر ٹرینڈ بننا بھی زیادہ آسان ہے۔

ٹوئٹر 3 اشاروں کی جانچ کرتا ہے: فی صارف ٹوئٹس (بشمول ری ٹوئٹس) کی اوسط تعداد، مجموعی ٹریفک کے تناسب سے ری ٹوئٹ کی شرح اور ان 50 اکاؤنٹس کی جانب سے پیدا ہونے والی ٹریفک کا تناسب جنہوں نے کثرت سے مذکورہ اصطلاح کا استعمال کیا۔

یہ تینوں عناصر بتاتے ہیں کہ ٹوئٹر ٹریفک صارفین کی بڑی تعداد سے آیا یا کسی مختصر تعداد کی وجہ سے ایسا ہوا، اس کے علاوہ یہ بھی جانچ کرتا ہے کہ اصل پوسٹس کے تناسب سے زیادہ ٹریفک آیا یا بڑے پیمانے پر ری ٹوئٹس سے اور صارفین کے چھوٹے گروپ یا بڑے پیمانے پر کسی تحریک سے ٹریفک آیا۔

کسی مہم کی منصوبہ بندی کے وقت خطے میں یا ٹوئٹر نیٹ ورک پر اردگرد کی گفتگو پر غور کرنا انتہائی اہم ہے، کبھی کبھار کم پوسٹس والے ہیش ٹیگز ٹرینڈنگ پینل پر ٹاپ میں پہنچ جاتے ہی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹوئٹس کی مجموعی تعداد چاہے کم ہو، مذکورہ ہیش ٹیگ، ٹرینڈز پینل پر موجود دیگر موضوعات کے مقابلے میں جلد گفتگو کے قابل ہوگیا۔

کمپنیاں ٹرینڈنگ میں آنے کے لیے ٹوئٹر کو ادائیگی کرسکتی ہیں لیکن ان ‘پروموٹڈ ٹرینڈز’ کو واضح طور پر ایڈور ٹائزنگ قرار دیا جاتا ہے جبکہ مصنوعی ٹوئٹر ٹرینڈز میں ایسا نہیں ہوتا۔

ہیش ٹیگ مِلز چلانا

ہیش ٹیگ مرچنٹس سے انٹرویوز میں انکشاف ہوا کہ ٹوئٹر پر کسی مہم کو ٹرینڈ کرنا آسان ہے جبکہ اصل مشقت ٹوئٹر پر ہم آہنگی اور نیٹ ورک بنانے میں صرف ہوتی ہے۔

ٹرینڈ بنانے والے متاثر کن مہم میں مدد کے لیے مستند اور بااثر اکاؤنٹس کا حصول یقینی بناتے ہیں، اس کا نظریہ زیادہ زیادہ فالوورز کی تعداد رکھنے والے کئی اکاؤنٹس کے ساتھ مل کر کام کرنا اور ایک دوسرے کو آگے بڑھانا ہے، ساتھ ہی دیگر کم معروف اکاؤنٹس کو آگے لانا ہے جو ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہیں۔

ڈان کو ان نیٹ ورکس کے درمیان گہرے روابط کا علم ہوا جنہیں اس بات کی واضح سمجھ بوجھ ہے کہ معلومات شرکا کے پاس کیسے پہنچائی جاسکتی ہیں، ان گروپس میں موجود صارفین نہ صرف ایک دوسرے کو عام ٹوئٹر صارف کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ شرح میں فالو کرتے ہیں بلکہ واضح طور پر جانتے بھی ہیں کہ کون اصل مرکز ہے، مرکز وہ ہوتا ہے جو معلومات کے بہاؤ میں تیزی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


ٹوئٹر پر اردو میں ‘فالو کریں’ کی اصطلاح کو سرچ کریں تو ایسے درجنوں اکاؤنٹس سامنے آئیں گے جو ‘فالو کرنے پر فالو بیک’ ڈیل کی پیش کرتے ہیں، یہ فالو-نیٹ ورکس مختلف جماعتوں کے حامیوں میں تقسیم ہیں، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حامیوں ‘ایم این ایس فالوورز ٹیم’ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں ‘پی ٹی آئی فالو ٹیم 50 کے’ شامل ہیں۔

ان میں سے 34 ہزار سے زائد صارفین کی فالوونگ رکھنے والے ایسے ایک اکاؤنٹ کی بائیو میں درج ہے ’میرے نوٹیفکیشنز آن کریں، میں آپ کو نئے ایکٹو فالوورز، ری ٹوئٹس اور لائکس حاصل کرنے میں مدد کروں گا۔

فرحان ورک نے ڈان کو بتایا کہ ‘400 لوگ کو یومیہ فالو کرنے سے آپ کو بدلے میں 400 فالووز ملیں گے، اس طریقے سے چھوٹے نیٹ ورک بڑھتے ہیں’۔

ٹیمیں اپنے اثر و رسوخ میں توسیع کے لیے بھی تعاون کرتی ہیں، مثلاً عمران خان کے حامی ‘ٹرینڈ پر مبنی تعاون’ کے لیے متحد ہوسکتے ہیں تاکہ ان کے نیٹ ورک بڑھیں اور فالوورز کی تعداد میں اضافہ ہو۔

تاہم ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ٹرینڈ بنانے کی کوششوں کی اجازت نہیں دیتا۔

ٹوئٹر کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ ‘ہم اظہار کیے گئے سیاسی نظریات سے قطع نظر اپنی سروس پر ساز باز کی اجازت نہیں دیتے، اس کا مطلب ہے کہ ہم آہنگی سے کیا جانا والا غلط استعمال، نفرت انگیز رویہ، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ٹرینڈ بنانے کی کوششیں اور گمراہ کن معلومات کو بڑے پیمانے پر پھیلانا یہ سب ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے’۔

جہاں ٹرینڈ سیٹنگ ایک بڑھتی ہوئی انڈسٹری نظر آتی ہے جبکہ نیٹ ورک کے رہنماؤں سے انٹرویو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کے خلاف پالیسیوں کو سخت کرنا اور بھارت-مخالف مہمات کے خلاف کریک ڈاؤن سے ان کے ہیش ٹیگ آپریشنز بری طرح متاثر ہوئے تھے۔

فرحان ورک نے بتایا کہ ‘ہم اپنے آپریشنز میں 50 فیصد کمی لاچکے ہیں، بھارت کے خلاف یا کشمیر کی حمایت میں کی جانے والی ہر مہم کے دوران ہمیں 15 سے 20 بڑے اکاؤنٹس کے نقصان کا سامنا ہوتا ہے، یہ اب سنگین مسئلہ بن گیا ہے’۔

دوسرے انتہائی قومی قوم پرست گروہوں نے بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا، ٹیم ‘آئی کے واریررز’ کے رکن اسحق نے ڈان کو بتایا کہ ‘ہمارے 50 ہزار ٹوئٹس والے ٹرینڈز، ٹرینڈ ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے کیونکہ وہ چھوٹے اکاؤنٹس پر مشتمل تھے جبکہ بھارت ہمارے بڑے انفلوئنسرز کو رپورٹ کرنے میں سرگرم ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس حوالے سے غیر تصدیق شدہ رپورٹس بھی ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر پی ٹی آئی مخالف گروپس، ٹوئٹر پر ہمارے اکاؤنٹس کی معطلی کے لیے بھارتی ٹیم میں شامل ہوئے، یہ صرف ایک افواہ ہے لیکن آپ دیکھیں صرف پی ٹی آئی کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا’۔

ایک اور گروپ کے رہنما نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ففتھ جنریشن وار حقیقت ہے، ہم روزانہ اس کا سامنا کررہے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم ہمت نہیں ہاریں گے، وہ جتنے بھی اکاؤنٹ چاہیں معطل کرسکتے ہیں لیکن ہم نئے بناتے رہیں گے، مجھے 15 مرتبہ معطل کیا گیا ہے، یہ معلومات کی جنگ ہے اور ہم اس کے سپاہی ہیں’۔

ماس رپورٹنگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے یہ ان نیٹ ورکس نے ٹوئٹر ہیش ٹیگز اور ٹوئٹس کو رپورٹ کرنا بھی شروع کردیا ہے جنہیں وہ ‘وطن دشمن’ سمجھتے ہیں۔

ٹیم پاکستان زندہ باد کے ایک رکن نے بتایا کہ ‘اگر 100 صارفین پر مشتمل گروہ کا ہر رکن اسپیم کے لیے ٹوئٹر کو کم از کم 200 ٹوئٹس رپورٹ کرتا ہے تو یہ ٹرینڈز پینل میں شامل نہیں ہوگا’۔

رپورٹنگ صرف ہیش ٹیگز تک محدود نہیں ہے، حال ہی میں منظم گروپس تنقید کرنے والے صحافیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس رپورٹ کررہے ہیں، نومبر میں چھوٹے اکاؤنٹس کے گروپس کی جابب سے پروفائل ٹوئٹر کو رپورٹ کرنے کے بعد عمر چیمہ کے اکاؤنٹ پر رسائی بند ہوگئی تھی۔

فرحان ورک کے مطابق ان کی ٹیم کی جانب سے UnfollowHamidMir# ٹرینڈ کرنے کے بعد صحافی حامد میر کے 25 ہزار کے قریب فالوورز کم ہوگئے تھے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی پریس سنسرشپ سے متعلق حامد میر کے بیان پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے انہیں اَن فالو کرنے کے بعد مہم شروع کی تھی۔

پاکستان کے ہیش ٹیگ مرچنٹس تربیت یافتہ پیشہ ور لوگ نہیں ہیں، یہ طلبہ ہیں جو دن اور رات ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ‘وقت کی ضرورت’ ہے۔

ففتھ جنریشن وار فیئر کی تعریف بیان کرنے کا کہا گیا تو ان نیٹ ورکس کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ ‘قومی فریضہ’ ہے، اسحٰق نے کہا کہ ‘ہمارے دوست اور خاندان والے سوشل میڈیا پر منفی جعلی خبروں اور گمراہ کن معلومات کا شکار ہوتے ہیں، انہیں گمراہ کیا جارہا ہے، وہ حقیقت نہیں جانتے، ہم انہیں سچ دکھانا چاہتے ہیں’۔

نیٹ ورکس کے رہنماؤں کے مطابق غیر ملکی اور پاکستان مخالف عناصر اسلامی برادری اور ملک میں تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں، ‘منفی جذبات میڈیا پر بِکتے ہیں، ہر کوئی ایک دوسرے کے خلاف ہے، ہم چاہتے کہ قوم پاکستان کے لیے متحد ہو’۔

اسحٰق نے مزید کہا کہ ‘مہنگائی کی وجہ سے لوگ عمران خان کے خلاف ہوگئے ہیں اور صرف میڈیا یہ رپورٹ کررہا ہے، اسی لیے ہم روزانہ ان کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے عمران خان کی حمایت میں ہیش ٹیگز چلاتے ہیں، ہم عمران خان کے حامی ہیں، ہم عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی پر یقین نہیں رکھتے، معلومات کی جنگ جاری ہے لہذا ہم اپنا کردار ادا کررہے ہیں’۔

’ ٹرینڈز سب کے لیے ہیں’

حیران کن طور پر ہیش ٹیگ آپریشنز اعلانیہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ مرتب کرنے کے عرصے کے دوران ڈان نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گیے واٹس گروپ انوائٹ لنکس کی بڑی تعداد دیکھی جو آپ کو نیٹ ورکس میں شامل ہونے کی اجازت دیتے ہیں، ٹوئٹر پر اکثر انوائٹ لنکس مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والے گروپس، خاص طور پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے شیئر کیے گئے ہیں۔

پرو-ٹی ایل پی ہیش ٹیگز استعمال کرنے والے صارف نے کہا کہ ‘ہم یہ اسلامی امہ کے لیے کررہے ہیں، آن لائن توہین مذہب کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا اجتماعی فرض ہے’۔

یہاں تک کہ قوم پرست گروپس واٹس ایپ انوائٹ لنکس کے ذریعے بڑے پیمانے پر تعاون حاصل کرتے ہیں۔

‘ٹیم پاک زندہ باد’ کے سربراہ یاسف نے ڈان کو بتایا کہ ‘ہم ٹوئٹر پر اپنے لنکس پوسٹ کرتے ہیں، جو بھی ہمارے مہم کو سپورٹ کرنا چاہے اس میں شامل ہوسکتا ہے، وینا ملک ہماری بہت مدد کرتی ہیں’، ہم ان سے کہتے ہیں کہ ہمارا ہیش ٹیگ پوسٹ کریں اور وہ ہمیں اچھی ‘ایٹریکشن’ دیتی ہیں۔

دوسری جانب ادائیگی حاصل کرنے والے ٹرینڈ سیٹرز مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔

پیسوں کے عوض کام کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حذیفہ نے ڈان کو بتایا کہ ‘بلاگرز جانتے ہیں کہ کیا مواد چلانا ہے، عوامی مہمات کے برعکس ہم کاپی-پیسٹ نہیں کرتے، ہم 5 منٹ میں 1100 سے 1200 ٹوئٹس کے ساتھ ٹرینڈ کرتے ہیں’۔

حذیفہ ایک ٹرینڈ کے لیے 50 سے 60 ہزار روپے لیتے ہیں، حذیفہ نے دعویٰ کیا کہ ‘بحریہ ٹاؤن کے لیے ہم نے 90 ہزار روپے وصول کیے’۔

اثر ڈالنے والی مہمات

Anti_Islam_PTI_NoMore#

3 دسمبر 2018 کو تحریک لبیک پاکستان کے حامی [email protected] کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘پیغمبر کی سپاہ! ہم پر وقت آگیا ہے کہ اسلام کے دشمنوں کو شرمندہ کرنے کے لیے جہاد کا آغاز کریں، آج جمعرات کو رات 8 بجے، ہر چیز کو چھوڑیں اور اس ہیش ٹیگ AntiIslamPTI_NoMore# کے ساتھ اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ میں شامل ہوں’۔

ہیش ٹیگ کا اعلان کرنے والے شخص کا اکاؤنٹ 26 دسمبر 2018 کو بنایا گیا تھا، اس کے فالوورز 200 سے کم تھے اور اس نے 371 کے قریب اکاؤنٹس کو فالو کیا ہوا تھا۔

مذکورہ صارف کے اکاؤنٹ کے اکثر ٹوئٹس 26 دسمبر 2018 سے 11 جنوری 2019 کے درمیان سامنے آئے جب ہیش ٹیگ کی مہم شروع ہوئی اور کافی سرگرم تھی۔

گزشتہ برس دسمبر میں توہین مذہب کیس میں سپریم کورٹ کے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں پر پرتشدد مظاہرے کرنے، عدلیہ اور وزیراعظم کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے اور ساتھ ہی فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف اور ٹی ایل پی قیادت کے حق میں مہم چل پڑی تھیں، اسی نیٹ ورک کی جانب سے استعمال کیے گئے دیگر ہیش ٹیگز میں سے MyProphetMyPride# کے (1،490 ٹوئٹس)، ReleaseKhadimRizvi# کے (1،207 ٹوئٹس)، ReleaseTLPLeaders# کے (346) اور HangBlasphemerAsia# کے (280 ٹوئٹس) شامل ہیں۔

ڈان کو معلوم ہوا کہ ایسی مہمات سے مذہبی گروہ انتہاپسند مواد اور نفرت انگیز تقاریر پھیلاتے ہیں اور حکام کی نگرانی پر نہیں۔

سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد اور نفرت انگیز تقاریر پھیلانے والے مذہبی گروہ پر حکومت کے کریک ڈاؤن کے باوجود گزشتہ برس 27 دسمبر سے 31 دسمبر تک پاکستان میں پی ٹی آئی کے خلاف ہیش ٹیگ 24،288 ٹوئٹس کے ساتھ ٹرینڈ کررہا تھا، اس میں اگست 2019 تک تیز رفتار سرگرمی دیکھی گئی تھی۔

اس مہم کا کلیدی جزو یہ تھا کہ اس میں شریک اکاؤنٹس نے ایک ہی مواد کو بارہا شائع اور شیئر کیا، جب ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا تھا تو ایک ہی مواد 50 مرتبہ مختلف اکاؤنٹس کی جانب سے زیر گردش رہا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مہم منظم اور منصوبہ بندی کے تحت تھی۔

پارٹی کے حامی اس وابستگی پر فخر کرتے ہیں اور ان کی اکثریت کے ٹوئٹر ہینڈل یا بائیو میں ٹی ایل پی درج ہے اور ہیڈر یا پروفائل امیجز کے طور پر خادم حسین رضوی کی تصاویر موجود ہیں۔

ٹی ایل پی نیٹ ورک وسیع ہے لیکن چھوٹے اکاؤنٹس کے مرکز کے زیر قیادت ہے، فالوورز کی کم تعداد کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے نیٹ ورکس کی جانب سے چلائے جانے والے ہیش ٹیگز ٹرینڈز پینل پر بھی کامیاب ہوئے ہیں، یہ مذہبی حمایت کے جذبات کے وسیع اثر کی وجہ سے ہوسکتا ہے جس پر وہ انحصار کرتے ہیں، اس کی وجہ وہ مذہبی حامی جذبات کے وسیع اثرات ہوسکتے ہیں جس میں وہ جکڑے ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی مخالف ہیش ٹیگ کو 2،480 اکاؤنٹس نے بڑھاوا دیا تھا، جن میں سے کچھ صارفین نے 1000 سے زائد ٹوئٹس کیں۔

ایک اکاؤنٹ [email protected] نے اس ہیش ٹیگ میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا اور اس مہم میں 1،059 ٹوئٹس اور 961 ری ٹوئٹس کیے تھے۔

ڈان نے پروفائل کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ 2018 میں بنایا گیا اور بننے کے بعد سے 5،411 ٹوئٹس کیے گئے جن میں صرف پی ٹی آئی مخالف مہم کے لیے 1000 سے زائد ٹوئٹس کیے گئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مہم میں ملک چوہان کے وسیع کردار کے باوجود ان کے زیر اثر گروہ انتہائی مختصر معلوم ہوتا ہے، تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ MalikChohan26 کے فالووز کی فالوونگ 100 سے 499 صارفین تک ہے، ان کے صرف 19 فالوورز کے 10 ہزار سے 50 ہزار فالوورز ہیں اور صرف 2 اکاؤنٹس کے فالوورز 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان ہیں۔

ان کے نیٹ ورک کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا اکاؤنٹ [email protected] ہے جس کے ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد فالوورز ہیں، یہ اکاؤنٹ 2 سال سے قبل بنایا گیا۔

ٹی ایل پی کی مہمات میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں میں شہیر سیالوی شامل ہیں اور انہیں 46 ہزار صارفین فالو کررہے ہیں، [email protected] نے اپنی پروفائل پر یوٹیوب لنکس 40 مرتبہ شیئر کیے ہیں، ان یوٹیوب اکاؤنٹ کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مواد (638 ویڈیوز) توہین مذہب، فوج مخالف، ‘غداروں’ اور مذہبی تعصب پسندی کی شناخت پر مبنی ہیں۔

شہیر سیالوی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو وکیل جبران ناصر، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا اکاؤنٹ اور سینیٹر سرفراز بگٹی بھی فالو کرتے ہیں۔

BringBackTraitors#

190 صارفین سے زائد پر مشتمل واٹس ایپ گروپ الرٹ میں کہا گیا کہ ‘آج ہم حکومت سے غداروں کو گرفتار کرنے پر زور دینے کے لیے BringBackTraitors# ٹرینڈ کرنے جارہے ہیں، ابتدائی ہدایات: غداروں کو بے نقاب کریں، حکومت سے گرفتاری، غداروں کے لیے قانون اور انہیں سزاؤں کے لیے اپیل کریں’۔

واٹس گروپ تک ‘ٹیم پاکستان زندہ باد’ کے ارکان کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے انوائٹ لنک کے استعمال سے رسائی حاصل کی گئی تھی۔

‘BringBackTraitors 3 p.m’ کے عنوان سے بنے واٹس ایپ گروپ کے ارکان کو کم از کم 30 سے 50 ٹوئٹس اور 300 سے زائد ری ٹوئٹس کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، انہیں ٹوئٹس کا ڈرافٹ اسی دوران تیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ وہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنانے کے لیے دیے گئے وقت میں بھیجے جاسکیں۔

دوپہر 2 بج کر 45 منٹ پر ہیش ٹیگ کے لیے اعلانیہ ٹوئٹ اداکارہ وینا ملک کے آفیشل اور تصدیق شدہ اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا تھا۔

انہوں نے لکھا تھا کہ ‘آج دوپہر 3 بجے میں BringBackTraitors# ٹرینڈ کروں گی، یہ غدار ملک سے فرار ہوگئے ہیں اور باہر جاکر پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں، انہیں واپس لانا چاہیے اور سر عام سزا دینی چاہیے، میں انہیں بے نقاب کروں گی، جو بھی میرے ساتھ ہے BringBackTraitors# ٹائپ کرے اور اس ٹوئٹ کا جواب دے’۔

اس ٹوئٹ پر 2000 کے قریب ری ٹوئٹس موصول ہوئے تھے جو اس ٹرینڈ میں سب سے زیادہ تھے۔

17 اکتوبر کی سہ پہر مذکورہ مہم کے ٹوئٹس کی رسائی سب سے کم رہی جس میں ایک گھنٹے کے اندر 1،675 ٹوئٹس کیے گئے تھے، ایک ایکٹویٹی کے علاوہ ٹرینڈ عام طور سست تھا اور اس میں کم ایکٹویٹی دیکھی گئی تھی، زیادہ رفتار کی وجہ سے ٹرینڈ بننا آسان ہوتا ہے۔

نیٹ ورک کے سربراہ نے گروپ میں کہا تھا کہ ‘آپ ہیش ٹیگ کے نام کو گروپ کے عنوان کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، آپ کو صرف ہیش ٹیگ کو کاپی–پیسٹ کرنا ہوگا اور کوئی بھی چیز پوسٹ کرنی ہے جو آپ سوچ سکتے ہیں، ایک یا 2 الفاظ بھی ہوسکتے ہیں، پوسٹنگ کرتے رہیں’۔

اس وقت کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی کہ مہم کی قیادت ان اکاؤنٹس نے کی تھی جو ایک جیسا مواد پوسٹ کررہے تھے، 700 ٹوئٹس کا کیا جانے والا تجزیہ بتاتا ہے کہ ان میں کسی قسم کا مواد نہیں تھا اور انہیں صرف ہیش ٹیگ سے ٹوئٹ کیا گیا تھا۔

اعلان کے ساتھ وینا ملک کے ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ہیش ٹیگ کو 100 سے زائد مرتبہ ٹوئٹ کیا گیا تھا۔

ہیش ٹیگ کو ایک علیحدہ مہم VeenaSlappedTraitors# کے ساتھ بھی استعمال کیا گیا تھا، کم از کم 32 ٹوئٹس کسی مواد کے بغیر صرف 2 ہیش ٹیگز کے ساتھ کیے گئے تھے۔

واٹس ایپ گروپ پر موجود انسٹرکٹر نے کہا کہ ‘آج ہم نئے اور پرانے اراکین کے مابین مقابلہ کروائیں گے، نئے ممبر تعداد میں زیادہ ہیں جبکہ پرانے ممبرز کا تجربہ زیادہ ہے، ہم دیکھیں گے ٹاپ ٹرینڈ کون بناتا ہے’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘آج ہم تجربہ کررہے ہیں کہ ایک ہی وقت میں 2 ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرسکتے ہیں، اگلی مرتبہ ہم ایک وقت میں 3 ٹرینڈز کی کوشش کریں گے، آپ کو صرف ہیش ٹیگ تبدیل کرنا ہے باقی کاپی-پیسٹ کیا جاسکتا ہے، آپ کل کے ہیش ٹیگز سے مواد بھی استعمال کرسکتے ہیں، اگر ہر شخص 50 سے 100 ٹوئٹس کرے گا تو 3 منٹ میں ٹرینڈ پینل پر آجائے گا’۔

سہ پہر ساڑھے 3 بجے ٹیم پاکستان زندہ باد کی جانب سے شروع کیے گئے دونوں ہیش ٹیگز ٹرینڈ کررہے تھے۔

ڈان کے ڈیٹا سے دونوں ہیش ٹیگز کے درمیان لنک ظاہر ہوتا ہے، دوسرے ہیش ٹیگ سے کیے جانے والے اعلان سے ظاہر ہوتا یے کہ وینا ملک نے مہم کی قیات کی اور وہ کامیاب ہوگئیں۔

[email protected]

[email protected] اکاؤنٹ اپریل 2019 میں بنایا گیا تھا، نومبر تک اکاؤنٹ نے 303 ٹوئٹس بھیجے تھے اور اس کے 8،462 فالوورز ہیں، یہ اکاؤنٹ صرف 7 اکاؤنٹس کو فالو کررہا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان، پاک فوج کے ترجمان آصف غفور کے آفیشل اور ذاتی اکاؤنٹس اور وینا ملک شامل تھیں۔

اکاؤنٹ کی بائیو میں لکھا ہے ‘ہم مادرِ وطن کے محافظ ہیں، ہم پاکستان کے لیے اپنی آخری سانس تک لڑیں گے، TeamPakistanZindabad# کا آفیشل اکاؤنٹ’۔

‘ٹیم پاکستان زندہ باد’ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دیگر ہیش ٹیگز میں WeStandWithPakArmy# #BoycottIndianProducts، HangRapistsPublicld ،#MediaAccountability شامل ہیں۔

ڈان نے ایسے 130 اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات حاصل کیں جن کی ٹوئٹر بائیو میں TeamPakistanZindabad# لکھا تھا۔

ان 130 اکاؤنٹس کے مجموعی طور پر 264،452 فالوورز اور 1،439،713 ٹوئٹس ہیں۔

ان 130 اکاؤنٹس میں سے 5 کے یو آر ایل سیکشن میں پی ٹی آئی کی آفیشل ویب سائٹ میں insaf.pk لکھا ہے۔

#MaryamBilawal_Pashteen/#ArrestAntiPakJournalists

ڈان کو ان 2 مہمات کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں ہی ‘ٹیم آئی کے واریرز’ کی جانب سے چلائی گئیں تھیں۔

تاہم نیٹ ورک کا پہلا اکاؤنٹ [email protected] ٹوئٹر نے رواں برس کے آغاز میں معطل کردیا تھا، بعد ازاں گروپ کی جانب سے بنایا گیا دوسرا اکاؤنٹ _ [email protected] بھی معطل کردیا گیا تھا۔

ان کے بائیو میں کم از کم ایسے 32 اکاؤنٹس شامل تھے جن کے ٹوئٹر ہینڈل کو معطل کیا جاچکا ہے۔

اس وقت نیٹ ورک [email protected] کے اکاؤنٹ سے آپریٹ کررہا ہے اور اس کے ایک ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔

ٹیم آئی کے واریرز عمران خان، پاک فوج اور کشمیر کی حمایت میں ٹوئٹ کرتا ہے، ان ہیش ٹیگز کے علاوہ نیٹ ورک LeKarRahenGeKashmir، #IAmPakArmy# اور ImranKhanVoiceOfKashmir# کے ہیش ٹیگز سے بھی ٹرینڈ کرچکا ہے۔

[email protected]

اس اکاؤنٹ کے 62 ٹوئٹس اور مجموعی طور پر 2،218 ری ٹوئٹس تھے۔

یہ مذکورہ درج ہیش ٹیگ کے لیے سب سے زیادہ ایکٹو اکاؤنٹس میں سے ایک ہے، اکاؤنٹ کی بائیو میں لکھا ہے کہ یہ شخص IK_Warriors کا سینئر ایڈمن ہے (بائیو میں معطل کیے گئے اکاؤنٹ کا ٹوئٹر ہینڈل شامل ہے)

نیٹ ورک کے ٹاپ معاونین میں سے [email protected] ایک ہے۔

اس ٹوئٹر ہینڈل کی ٹائم لائن کے مجموعی 3،164 ٹوئٹس میں سے 2،739 ری ٹوئٹس اور صرف 251 ٹوئٹس تھے، یہ اکاؤنٹس 2 سال کے دوران ہی بنایا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شخص ایک اور اکاؤنٹ [email protected] بھی چلاتا ہے اور وہ بھی اتنا ہی ایکٹو ہے۔

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ‘رواں برس کے آغاز میں ہمارے بہت سے اکاؤنٹس معطل ہوگئے تھے لیکن شکر ہے کہ اس میں سست روی آگئی ہے اور ہم دوبارہ پھیل رہے ہیں’۔

طریقہ کار

اس خبر کے لیے مختلف اثر و رسوخ والے نیٹ ورکس کے تجزیے کے لیے سیاسی الائمنٹ کے 5 ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز شامل کیے گئے تھے، ہیش ٹیگز میں #MaryamBilawal_Pashteen, #ArrestAntiPakJournalists, #Anti_Islam_PTI_NoMore, #BringBackTraitors, and #VeenaSlappedTraitors شامل ہیں۔

رپورٹنگ کی مدت دسمبر 2018 سے نومبر 2019 کے درمیان ہے، ہر ہیش ٹیگ کے لیے ڈیٹا ایک کسٹم ڈیٹا اسکریپر کے استعمال سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا جو آپ کو درکار ڈیٹا ایک اسپریڈ شیٹ پر منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہر ہیش ٹیگ کے لیے ہم نے یہ ڈیٹا جمع کیا:

ابتدائی تجزیے میں ہر ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ کے لیے مجموعی ٹوئٹس، ری ٹوئٹس اور صارفین کو شامل کیا گیا، سادہ تجزیے کے استعمال سے ہم نے اکثر ری ٹوئٹ کیے گئے ٹوئٹس، ہیش ٹیگ کے عروج کا دورانیہ، مخصوص ہیش ٹیگ کے لیے زیادہ ٹوئٹس کے صارفین اور نقل شدہ مواد دیکھا۔

پھر ابتدائی تجزیے کو مذکورہ پیراگراف میں دیے گئے نکات میں شامل اکاؤنٹس کو مزید گہرائی میں دیکھنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

صارفین کے گہرائی سے کیے گئے تجزیے میں اکاؤنٹ بنانے کی تاریخ، سادہ ڈیٹا کے استعمال سے صارف کی جانب سے اکاؤنٹ بننے سے لے کر دیگر ہیش ٹیگز کا استعمال، ان کے سب سے ‘اہم’ ٹوئٹس یا سب سے زیادہ ریچ والے ٹوئٹس (ری ٹوئٹس+ فیورٹس) کا مشاہدہ کیا گیا۔

ہم نے ان اکاؤنٹس کے لیے فالوور اور فالوونگ ڈیٹا بھی دیکھا اور فالوورز کے اکاؤنٹ کی عمر اور جو اکاؤنٹس وہ فالو کرتے ہیں ان کی عمر، ٹوئٹر بائیوز میں سب سے عام الفاط اور جن اکاؤنٹس سے وہ سب سے زیادہ بات چیت کرتے ہیں (جنہیں وہ ری ٹوئٹ کرتے ہیں یا سب سے زیادہ حوالہ دیتے ہیں) ہیں انہیں بھی دیکھا۔


رمشا جہانگیر ڈان کی اسٹاف ممبر ہیں، وہ ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق، گمراہ کن معلومات اور انٹرنیٹ سنسرشپ پر لکھتی ہیں، ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ[email protected] ہے

شہریار پوپلزئی ڈان میڈیا گروپ کے ڈیجیٹل اسٹریٹجی کنسلٹنٹ ہیں، ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ[email protected] ہے۔

ہیڈر گرافک کریڈٹ: لیا کانٹریکٹر


مترجم: ایمن محمود

اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔