دنیا کے بہترین کرکٹ میوزیم میں سے ایک پاکستان میں!

05 دسمبر 2019

ای میل

ایک کمرے پر مشتمل کرکٹ میوزیم— یحییٰ غزنوی
ایک کمرے پر مشتمل کرکٹ میوزیم— یحییٰ غزنوی

محفوظ شو کیس میں خالص چاندی کی ٹرافی کے برابر میں سونے کے پانی سے آراستہ گلاب کی طرز پر بنا چمکتا ہوا نہرو کپ رکھا ہوا ہے، اور ان دونوں کی آمد تاریخ ساز لمحات کے ساتھ ہوئی تھی۔

بھارت کو بھارت کی سرزمین پر چت کرنے کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے اور یہ ٹرافیاں انہی خوابوں کی مجسم تعبیریں ہیں۔

1989ء میں جواہر لال نہرو کی 100ویں سالگرہ کے موقعے پر نہرو کپ کا انعقاد کیا گیا تھا، اور پاکستانی ٹیم نے کلکتہ میں کھیلے جانے والے اس کپ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر یہ اعزاز اپنے نام کیا اور فاتحانہ جشن کے ساتھ نہرو کپ کو پاکستان لایا گیا۔

نہرو کے لیے مشہور تھا کہ وہ اپنے کوٹ پر گلاب لگایا کرتے تھے شاید اسی لیے نہرو کپ کو گلاب کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔

دوسری ٹرافی اس وقت کی ہے جب 2007ء میں انڈین ٹیسٹ کرکٹ کو 75 برس مکمل ہونے کی خوشی منانے کے لیے بھارت نے پاکستان کو اپنے وطن آنے کی دعوت دی۔

اس سے بالکل بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان ٹرافیوں کو بھارتی فتح کی توقعات کی بنا پر ہی قوم پرستانہ جذبات سے سرشار ہوکر ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ آج یہ دونوں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے کرکٹ میوزیم میں سجی ہوئی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ہیڈکوارٹر قذافی اسٹیڈیم کے وسیع و عریض میدان سے ملحق اس اکلوتے کمرے پر مشتمل میوزیم میں ٹرافیوں کا خزانہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ محققین کے لیے قابلِ رساں مشہور لائبریری بھی ہے جہاں وزڈن کے تمام شمارے دستیاب ہیں، (جسے عرفِ عام میں بائبل آف کرکٹ کہا جاتا ہے)۔

میوزیم کا اصل مقامِ فخر وہ مقام ہے جہاں آسٹریلوی واٹرفورڈ کرسٹل ورلڈ کپ ٹرافی سجی ہوئی ہے، جسے 1992ء میں عمران خان اور ان کی ٹیم وطن لائی تھی۔

میوزیم کا رخ کرنے والوں میں سے شاذ و نادر کو ہی اس ٹرافی کو چھونے کا اعزاز نصیب ہوتا ہوگا کیونکہ یہاں موجود یحییٰ غزنوی اکثر اوقات خود اس ٹرافی کی کڑی نگرانی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ یحییٰ غزنوی کون ہیں تو جناب یحییٰ غزنوی 2013ء سے پی سی بی اور نشینل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) کے ساتھ بطور جنرل منیجر آرکائیوز اینڈ گیم ایجوکیشن سے منسلک ہیں۔ وہ اپنی خوشی سے اس ٹرافی کو بنانے والی کمپنی، جو اب آئرلینڈ منتقل ہوچکی ہے، سے اس کی نقل منگوانے کی کوششوں کی وجوہات بتاتے ہیں۔ دراصل یحییٰ غزنوی کو یہ فکر لاحق ہے کہ جس طرح 1966ء میں فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کو ویسٹ منسٹر کے میتھوڈسٹ سینٹرل ہال سے چُرا لیا گیا تھا کہیں ویسا ہی واقعہ یہاں رونما نہ ہوجائے۔

دہلی کے فیروز شاہ کوتلہ میدان میں پاکستان کے خان محمد نے پنکج رائے کو کلین بولڈ کرکے پاکستان کو پہلی ٹیسٹ وکٹ دلوائی
دہلی کے فیروز شاہ کوتلہ میدان میں پاکستان کے خان محمد نے پنکج رائے کو کلین بولڈ کرکے پاکستان کو پہلی ٹیسٹ وکٹ دلوائی

یحییٰ غزنوی جس باریک بینی کے ساتھ میوزیم میں رکھی یادگاروں کے پس منظر کو مفصل انداز میں بیان کرتے ہیں، اس سے کرکٹ کی تاریخ کو محفوظ رکھنے سے متعلق ان کا ذاتی جذبہ ظاہر ہوتا ہے۔

تصاویر، تاریخ ساز میچوں سے جڑی یادگاریں اور ٹیم کی شرٹس دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ خود ان قیمتی چیزوں کو دنیا کے کونے کونے سے ڈھونڈ کر یہاں لائے ہیں۔ انہوں نے ان یادگار چیزوں کو نجی کلیکشنز، کرکٹرز کی اولادوں، ڈونرز سے لے کر اور راولپنڈی میں اپنے ہوم میوزیم سے اٹھا کر اس میوزیم کی زینت بنایا ہے۔

پی سی بی کے دفتر میں کام کرتے ہوئے یحییٰ غزنوی نے پوری دنیا میں لوگوں کو اپنے پغامات کے ذریعے میوزیم پروجیکٹ کی اہمیت کو سمجھنے اور انہیں اس طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کا ردِعمل کافی حوصلہ افزا رہا ہے۔

یحییٰ غزنوی کی اپنے کام سے لگن کا ثبوت اس وقت ملتا ہے جب وہ میوزیم آنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوکر انہیں یادگار لمحات کی تصاویر کے نیچے درج تفصیل کو پڑھ کر سناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کرکٹ سے جڑے 100 سال سے بھی پرانے واقعات و حقائق بتارہے ہوتے ہیں۔

برِصغیر میں کرکٹ سے جڑی ان کی دلچسپ کہانیاں بھی اپنے آپ میں خزانہ ہیں۔ ہار اور جیت سے متعلق کہانیاں ہوں، مختصر اور محفوظ کیریئر کا پس منظر ہو، کھلاڑیوں کی کرکٹ زندگی، یا پھر اس خاندان کی کہانی ہو جس نے ہیڈلیز (Hadlees) کے ساتھ مسلسل 3 نسلوں سے کرکٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا، لاہور کرکٹ اسٹیڈیم کی ڈیزائنز کی تفصیلات ہوں یا پھر ماضی کی یہ باتیں ہوں کہ کب اور کون سی تمباکو کمپنی نے کرکٹ کی اسپانسرشپ سافٹ ڈرنکس کے حوالے کی۔

یحییٰ غزنوی صاحب کو سب پتا ہے، یہی نہیں بلکہ وہ آپ کو کھڑے کھڑے 1952ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے پہلے تاریخی ٹیسٹ میچ میں کھیلنے والے ہر کھلاڑی کی پرفارمنس کی تفصیلات بھی بتاسکتے ہیں۔

تاریخی تصاویر میں ایک تصویر فاتحانہ انداز میں نظر آنے والے انتخاب عالم کی ہے جو 1967ء میں نکالی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک تصویر پہلے افغان کرکٹر سلیم درانی کی ہے۔ ایک تصویر حب الوطنی سے بھرپور پاکستان کے واحد گورے کھلاڑی ڈنکین شارپ کی ہے، ساتھ ہی ساتھ ایک تصویر میں لمبی لمبی کلموں والے پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹکسی ڈوز اور بیل باٹم ٹراؤزر میں مبلوس دیکھا جاسکتا ہے۔ یحییٰ غزنوی کہتے ہیں کہ ’بعض اوقات ان میں سے چند تصاویر یا یادگاروں کی تحقیق اور ان کے تاریخی پس منظر کی تصدیق کرنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں‘۔

وکٹ کیپر وسیم باری کے مخصوص انداز کے حامل گلوز، چار مینار ٹرافی (جو بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی پہلی فتح کی یادگار ہے) چیمپئن ٹرافی، ٹی 20 ٹرافی کو لکڑی کی محفوظ الماری میں رکھا گیا ہے۔ یہ تنہا کمرہ نہ صرف کھیلوں کی تاریخ کو محفوظ بنانے کے یحییٰ غزنوی کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے بلکہ محدود جگہ کے معقول و باکمال استعمال کا بھی ثبوت ہے۔

ہال آف فیم
ہال آف فیم

میوزیم میں ٹرافیوں اور قیمتی تصاویر کے علاوہ آپ کو پاکستان کرکٹ سے جڑی دیگر یادگاریں بھی نظر آجاتی ہیں۔ مثلاً یہاں 12 ٹیسٹ ٹیموں کے ممالک کے پرچم آویزاں ہیں جن کے نیچے ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی پہلی فتح کی تاریخ اور میدان کا نام درج ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان میچوں کا مختصر جائزہ اور کھلاڑیوں کی انفرادی پرفارمنس کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔

میوزیم میں یادگار ڈاک ٹکٹوں کا ذخیرہ بھی محفوظ کیا گیا ہے۔ آن لائن رابطوں کے ابھار کے پیش نظر یادگار ٹکٹ جاری کرنے کا سلسلہ تو جیسے ترک کردیا گیا ہے، لہٰذا یہ ٹکٹوں کا قیمتی ذخیرہ بھی یہاں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی شاہین اور چاند ستارے کی علامت سے مزین جیکٹ بھی آپ کو وہاں سجی ہوئی نظر آجائے گی اور یحییٰ غزنوی کے پاس آپ کو بتانے کے لیے اس ڈیزائن کے پیچھے کی ایک کہانی بھی ہے۔ اس ڈیزائن کو تیار کرنے والی خاتون مرحوم آل راؤنڈر اور قومی ٹیم کے سابق منیجر یاور سعید کی بیٹی تھیں۔ بعدازاں اس خاتون کی شادی کرکٹ آئی کون فضل محمود سے ہوئی۔

اس کے علاوہ میوزیم میں سال 1886ء کی کچھ چیزیں بھی موجود ہیں کہ جب انڈین کلب ٹیم نے انگلینڈ کا پہلا دورہ کیا تھا۔ شاید کم ہی لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ بڑی حد تک پارسی برادری کے زیرِ سایہ تربیت پانے والی اس غیر معمولی ٹیم کے 12 کھلاڑیوں کا تعلق ممبئی اور 3 کا تعلق کراچی سے تھا۔ شاید کم لوگ ہی یہ بات جانتے ہوں گے کہ اس ٹیم نے 20 میچ کھیلے جن میں سے صرف ایک ہی میں کامیابی حاصل کی لیکن یہی وہ ٹیم تھی جس نے دنیا کے اس حصے میں کرکٹ کی بنیادیں رکھی تھیں۔ دی کراچی پارسی انسٹیٹیوٹ برِصغیر کے ابتدائی کرکٹنگ سینٹر میں سے ایک تھا۔

یادگار تصاویر سے آراستہ میوزیم کے برآمدے کی گیلری سے گزرا جائے تو یہ گمان ہوتا ہے جیسے وژؤل ٹائم مشین کے ذریعے حال میں ماضی کا سفر کیا جا رہا ہے۔ یہ گیلری پاکستان کی ورلڈ کلاس اسپورٹ میں حُسنِ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کرکٹ سے جڑے قومی اور بین الاقوامی سطح کے بڑے ناموں کے عروج کے دور کی تصاویر اور کرکٹ کو جینٹل مینز اسپورٹ بنانے والے پیشہ ورانہ وقار اور کھیل کے ضابطہ اخلاق کا دستاویزی ثبوت دیکھنا کسی بڑے ایڈوینچر سے کم نہیں۔

اس میوزیم کی دیواروں پر کھلاڑیوں کے ساتھ دنیا کی بڑی بڑی سیاسی شخصیات کی تصاویر بھی آویزاں کی گئی ہیں۔ ایک تصویر میں قائدِاعظم محمد علی جناح نظر محمد کو 1942ء میں رُول آف آنر دے رہے ہیں۔ ایک تصویر 1952ء کی ہے جس میں پاکستان دنیا کا ساتواں ٹیسٹ کھیلنے والا ملک بننے پر وزیرِاعظم ناظم الدین نے ٹیم کو داد دینے کے لیے اپنے ہاتھ بلند کیے ہوئے ہیں۔ ایک تصویر میں امریکی صدر آئزن ہاور نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیکٹ پہنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بھٹو کے دورِ عروج میں نکالی گئی تصاویر بھی یہاں آویزاں ہیں۔

یحییٰ غزنوی نے ضرور دل پر پتھر رکھ کر

این سی اے میں کھلاڑیوں کے ہاسٹل کے برآمدوں میں تصاویر رکھنا یقینی طور پر یحییٰ غزنوی کے لیے آسان کام نہیں رہا ہوگا، ایک ایسے آدمی کے لیے جنہوں نے کرکٹ کی تاریخ کو قریب قریب عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے اپنی زندگی اور زندگی کے وسائل نذر کردیے۔ لیکن جب وہ اسٹیڈیم کی کسی سرسبز و شاداب زمین کے ٹکڑے پر بننے والے مجوزہ خصوصی میوزیم کا خاکہ کھینچتے ہیں تب ان کی چال میں عزم و حوصلہ اتر آتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجوزہ کمپلیکس میں ہال آف فیم بنایا جائے گا، ایک حصے میں پاکستان کرکٹ سے متعلق تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کی تاریخ کو تصویروں کے ذریعے بیان کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس میوزیم میں ایک لائبریری، سوینئر کی دکان، کرکٹ مقررین اور کھلاڑیوں کی میزبانی کے لیے سیمینار ہال، جم، استقبالیہ، کار پارکنگ اور انتظامیہ کے لیے دفاتر بنائے جائیں گے‘۔


یہ مضمون یکم دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔