تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کرکے تعلیم کو وسعت دینے کا وعدہ کیا کھلا تصاد نہیں؟

15 دسمبر 2019

ای میل

ہر ضلع میں یونیورسٹی کا قیام، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد 6 اور 7 فیصد سے 15 فیصد تک یعنی 100 فیصد تک اضافہ، اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری، ’متعلقہ‘ اعلی تعلیم کے رجحان کو تقویت دینا، دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو ووکیشنل تربیت کی فراہمی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نئی جہتوں کو چُھونا۔

گزشتہ چند برسوں سے حکومتیں انہی ساری باتوں کو اپنے مقاصد اور ترجیحات ٹھہراتی چلی آ رہی ہیں۔ ماضی کے بجائے اگر آج بھی آپ کسی سرکاری افسر سے پوچھیں کہ کیا اعلیٰ تعلیم حکومتی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے؟ تو جواب آئے گا، جی ہاں! بالکل۔

لیکن اس کے باوجود حکومت نے رواں برس اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں نمایاں کٹوتی کی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یونیورسٹیوں کے ری کرنٹ اخراجات کے لیے مختص بجٹ میں 15 سے 20 فیصد تک کٹوتی کردی گئی ہے۔ مجوزہ توسیع کے منصوبوں کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے جتنی رقم مانگی تھی اس کے مقابلے میں تو یہ بہت قلیل رقم ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جو ترقیاتی اخراجات کا حصہ ہے، اس میں تو اور بھی زیادہ گہری کٹوتیاں کی گئی ہیں۔

جتنے فنڈز کی کٹوتی ہوئی ہے وہ ایچ ای سی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے تھے لیکن ان کا ایک نمایاں حصہ خصوصی منصوبوں کے لیے ڈاکٹر عطا الرحمن کو دے دیا گیا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ منصوبے ہیں کیا اور یہ کس طرح اعلیٰ تعلیم اور/یا ملکی ترقی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عطا الرحمن کی اعلیٰ حکام تک رسائی نے ہی اس تقسیم کی راہ ہموار کی ہے اور ایچ ای سی اور اعلیٰ تعلیم کے سرکاری شعبے سے پیسے لیے گئے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے وسائل میں نمایاں کمی لاکر آخر کس طرح اعلیٰ تعلیم میں بہتری لانے اور اسے وسعت دینے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتی ہے؟

ہمیں مالی طور پر دشوار حالات کا سامنا ہے، ایسے میں حکومت نے بحران سے نکلنے کے لیے اپنی تدبیروں اور آئی ایم ایف کے وعدوں کے پیش نظر تمام سرکاری محکمہ جات پر ’کفایت شعاری‘ کی پالیسی لاگو کردی ہے۔ کیا ایچ ای کٹوتیاں اسی کفایت شعاری کے پلان کا حصہ ہیں؟ جب معیشت میں استحکام آئے گا (جو امید ہے کہ جلد ہی آئے گا) تو کیا وسائل میں پھر سے اضافہ کیا جائے گا؟ دیگر لفظوں میں کہیں تو، کیا یہ قلیل المدت تنزلی ہے جس کا ایک آدھ سال میں خاتمہ ہوجائے گا؟

اگر تعلیم اوّلین ترجیح ہے تو اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کیوں؟ حکومت کو ہمیشہ، حتیٰ کہ کفایت شعاری مہم کے دوران بھی، یہ پورا پورا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ کفایت شعاری کا کتنا بوجھ کون سا شعبہ برداشت کرے گا۔ اور اگر کفایت شعاری اتنی ناگزیر تھی تو اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص رقم کو یونیورسٹی کی عام ضروریات اور ایچ ای سی کے اختیار سے باہر متوقع یا ممکنہ منصوبوں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کیوں تقسیم کیا گیا ہے؟

کفایت شعاری کی ضرورت شاید اتنی جلدی ختم نہ ہو جس کی توقع کچھ لوگوں کو ہے۔ یہ سچ ہے کہ میکرو سطح پر اقتصادی حالات میں کچھ بہتری کے آثار نظر آنے لگے ہیں لیکن پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں وقت لگے گا۔

ہم پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے جنہیں اقساط کی صورت میں واپس ادا کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر معیشت بہتر ہو بھی جاتی ہے، یہ ’اگر‘ بہت اہمیت رکھتا ہے، تب بھی ہمارے پاس اتنی مالی گنجائش نہیں ہوگی کہ اخراجات میں فوری طور پر اضافہ کرسکیں، ہر ضلع میں یونیورسٹیاں بنائیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد دگنی کرسکیں۔

اور اگر ہمیں زیادہ مالی گنجائش نصیب ہوجاتی ہے اور حکومت اس کا استعمال اعلیٰ تعلیم کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو کفایت شعاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات کو وسعت دینے کے عمل کو متاثر کریں گے۔

اس پوری صورتحال سے نمٹنے کے لیے یونیورسٹیوں نے کچھ راستے اپنائے۔ جیسے فیسوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا، نئے متعارف کروائے جانے والے پروگراموں کو بند کیا گیا اور نئی فیکلٹی اور عملے کی تعیناتی کافی زیادہ محدود کردی گئی۔ وہ طلبا جو اس وقت کٹوتیوں اور/یا مہنگی فیسوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لیں گے یا پھر بیچ میں پڑھائی چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے وہ چند برسوں بعد شاید ہی اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کریں۔

یہاں ہمیں ایک گہرا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اعلیٰ تعلیم کس لیے ہوتی ہے؟ حکومت کیوں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو سبسڈی فراہم کرتی ہے؟

دراصل ہمیں مختلف شعبوں کے لیے باصلاحیت لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے (مثلاً ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا اور کمپیوٹر کے ماہرین وغیرہ) تاکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور آگے بڑھتا رہے۔

اگر نجی شعبہ انہیں پیدا نہیں کرپاتا، تو ریاست اپنے مفاد کی خاطر مختلف شعبوں کو مناسب تعداد میں انسانی وسائل فراہم کرنے کے لیے سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو فنڈز کی فراہمی اسی وجہ سے ضروری بتائی جاتی ہے۔

اگر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سبسڈی دینے کی یہی اکلوتی وجہ ہے تو پھر گریجویٹ کی ڈگری رکھنے والوں میں بے روزگاری کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست کے زاویہ نظر سے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا، بھلے ہی یہ کٹوتی اعلیٰ تعلیم کو وسعت دینے کے اس عزم سے متضاد کیوں نہ ہو جس کا حکومت نے برملا اظہار کیا تھا۔

عزائم کی تبدیلی ممکنہ طور پر سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے، لہٰذا ممکن ہے کہ حکومت کو بھی قول و فعل میں تضاد کو قائم رکھنا پڑسکتا ہے، یعنی ایک طرف یہ بیانات دیے جاتے رہیں کہ ہم اعلیٰ تعلیم کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور دوسری طرف فنڈز میں کٹوتیاں اور کمیاں کی جاتی رہیں۔

مگر چند مسائل ایسے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ یہ کہ لوگوں تک اعلیٰ تعلیم کی رسائی کا سماجی و اقتصادی خوشحالی سے گہرا تعلق ہے۔ حکومت بار بار اس عزم کا اظہار کرچکی ہے کہ وہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں لانا چاہتی ہے جہاں میرٹ ہو اور سب کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ مگر سرکاری یونیورسٹیوں کی فنڈنگ میں کٹوتی اس عزم سے متضاد ہے۔

امیر تو پاکستان میں ہمیشہ سے نجی یونیورسٹیوں یا پھر باہر سے تعلیم حاصل کرتا رہا ہے، لیکن معاشی طور پر کمزور طبقے کے لوگوں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا بڑی حد تک دار و مدار ریاست کی جانب سے تعلیمی اداروں کو دی جانے والی سبسڈیز پر ہی ہوتا ہے، اور اعلیٰ تعلیم کی فنڈنگ میں کٹوتی سے یہ لوگ براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔

اس کہانی کا ایک صنفی زاویہ بھی ہے۔ صحت، اگلی نسل کی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات، آمدن، دولت مندی و دیگر ایسے معاملات سمیت خواتین کی ملازمت اور تعلیم کے درمیان گہرا تعلق قائم ہے۔ فنڈنگ میں کٹوتیاں ہمیں ان فوائد سے بھی محروم کردیں گی۔

اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کسی بھی طور پر عام مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اسے غیر سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ کٹوتیاں نہ صرف معاشرتی مقاصد بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں اور خوشحال زندگی کی خواہشوں کو زک پہنچاتی ہیں۔

اس حکومت نے اعلیٰ تعلیم کی فنڈنگ میں کٹوتیاں کرکے جو بچت کی ہے اس کا کچھ حصہ ان منصوبوں کے لیے مختص کیا ہے جن کا مرکزی دھارے سے تعلق نہیں۔ یہ معاملہ بھی ایک پُرمغز مباحثے کا متقاضی ہے۔


یہ مضمون 13 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔