انسان کی جان لینے والے مذاق کو ہم کب چھوڑیں گے؟

22 دسمبر 2019

ای میل

مختلف طریقے اپنا کر انسانی زندگی کو فنا کرنے کی لت کی کوئی آخری حد نہیں ہے۔ اس معاملے میں پاکستانی بھی کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں اور اس لت کے چکر میں نت نئے طریقہ کار تخلیق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

تقریباً 46 سال پہلے نور محمد اور ان کی اہلیہ کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام محمد اقبال رکھا گیا تھا۔ محمد اقبال کے 3 بھائی اور 3 بہنیں تھیں۔ کم و بیش ایک دہائی پہلے لڑکیوں کی شادی ہوگئی اور تب سے نور محمد اپنی اہلیہ اور بیٹوں کے ہمراہ لاہور میں فیروزپور روڈ پر واقع قدرے نئے اور گنجان رہائشی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔

بیٹوں میں سے صرف اقبال ہی غیر شدہ تھے۔ چونکہ بچوں میں وہ سب سے بڑے تھے اس لیے جب ان کے 70 سالہ والد نے شہر کی سرکاری ہسپتال میں مالی کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ لی تو والدین کی ضروریات کو پورا کرنے کی ساری ذمہ داری ان پر آگئی۔ مگر ایک مسئلہ تھا۔ اقبال کی معذوری نے انہیں ناکارہ بنا دیا تھا۔ وہ نابینا تھے۔

مزید پڑھیے: کیا پولیس ٹھیک ہوسکتی ہے؟ نوآبادیاتی دور سے پاکستان تک ایک جائزہ

ان کے قریبی شخص نے فون پر بتایا کہ ’میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اقبال کام کرتا تھا۔ وہ بھیک مانگنے کا کام کرتا تھا‘۔ مجھے بتایا گیا کہ اقبال گھر سے باہر کسی نہ کسی طرح راستوں کو تلاش کر ہی لیتا تھا۔ محلے میں گھومتے گھامتے انہوں نے مختلف لوگوں سے دوستیاں کرلی تھیں اور جان پہچان بڑھا لی تھی۔ انہی تعلقات میں سے ایک تعلق انہیں موت کے قریب لے گیا۔

نومبر میں اقبال معمول کے مطابق مدد کی تلاش میں ٹائر کی مرمتی دکان کے اندر چلا گیا۔ بظاہر دکانداروں اور اقبال کی آپس میں جان پہچان تھی، عین اسی موقعے پر ’میزبانوں‘ کے اذہان میں وہ شرارت سوجھ رہی تھی جو ہمیشہ کے لیے ان کی زندگیاں بدل کر رکھ دینے والی تھی۔ بالکل اسی طرح جس طرح محمد اقبال کے غیر مرئی سفر کا دردناک انجام ہوا۔

اس وقت یہ معاملہ پولیس کے پاس ہے۔ میڈیا پر آنے والی تفصیلات کے مطابق اقبال کو دکان کے اندر لے جایا گیا اور وہاں ان کے پیٹ میں پمپ کے ذریعے ہوا بھر دی گئی، اسی پمپ سے جس کی مدد سے ٹائروں میں ہوا بھری جاتی ہے۔

اس مذاق کے نتیجے میں ان کے جسم کا اندرونی نظام کس قدر متاثر ہوا ہوگا اس کا آپ صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ ہمیں موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس نابینا لاچار شخص کو بچانے کی کوششیں کی گئیں مگر ساری کوششیں ناکام رہیں اور اقبال کے والدین کا کہنا ہے کہ اب ان کا اس دنیا میں صرف اللہ ہی سہارا ہے۔ اقبال کے بھائی کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ اپنی پوری استطاعت اور قوت کے ساتھ کیس لڑیں گے۔

وہ افراد جنہوں نے ’حادثاتی طور پر‘ اقبال کو منفرد انداز میں موت کے منہ میں ڈالا ان کے رویوں کا تجزیہ ابھی آنا باقی ہے۔ لیکن ایک بات تو واضح ہے، جب ماہرین اس مہلک تخلیق کے پیچھے مقصد اور جذبات کی چھان بین کرنا شروع کریں گے تو انہیں اقبال کے معاملے جیسے کئی دیگر معاملات بھی بطور ثبوت زیرِ غور لانے کے لیے مل جائیں گے۔

یہ رجحان اب بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جب محمد اقبال کی زندگی کو غیر اہم تصور کرتے ہوئے جان لی گئی تھی تو اس کے چند دنوں بعد ہی کراچی سے خبر موصول ہوئی کہ بلدیہ ٹاؤن میں ’مذاق‘ نے ایک شخص کی جان لے لی۔ خبر کے مطابق ’چند دوستوں نے ٹائر کی مرمتی دکان پر کمپریسڈ ایئر پمپ کے ذریعے اس شخص کے جسم میں ہوا بھر دی تھی جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی‘۔

کراچی میں اس رویے کا شکار ہونے والے نور شیر ولد اعظم خان لاہور میں اپنی جیسی موت پانے والے محمد اقبال سے صرف ایک سال چھوٹے تھے۔ وہ عباسی شہید ہسپتال تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ لاہور کے برعکس کراچی میں پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، کم از کم ابتدائی طور پر تو نہیں کیا، یوں ملک کا سب سے بڑا شہر ’حادثات ہوجاتے ہیں‘ کہہ کر شاید شرارت کرنے والوں کو مزید مواقع دے رہا ہے۔

تفتیش کاروں کو نقل کرتے ہوئے ایک خبر میں بتایا گیا کہ ’اس شخص کے دوستوں نے ٹائروں کے لیے ڈیزائن کردہ کمپریسڈ ایئر پمپ نوزل کو اس کے جسم میں داخل کیا اور یوں جسم میں شدید پریشر والی ہوا بھرجانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی‘۔

رپورٹ کے مطابق، ’متاثر شخص کے دوست حادثے کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے تھے۔ البتہ پولیس کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ حادثاتی طور پر پیش آیا ہے اور اس بیان کے بعد انہوں نے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے‘۔

کیا ہی بات ہے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی۔ دنیا میں کہیں اور ایسا ہوتا ہے بھلا کہ جہاں پولیس ان ملزمان کے تعاقب میں ہو جن پر وہ باضابطہ فرد جرم عائد کرنے کا بھی ارادہ نہیں رکھتی۔

اگر ارادہ صرف وارننگ دینا ہے تو پھر ایسے بہت سے مذاق کرنے والے ہیں جنہیں جھڑکی دینے کی ضرورت ہے۔

آپ کو ایسے کئی واقعات مل جائیں گے جن میں مذاق اور کرتب بازی شدید نقصان کا سبب بنے۔ ایک طویل عرصے سے اس رجحان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 2016ء میں رونما ہونے والے اس واقعے کو یاد کیجیے جب کراچی میں ’خوفناک ماسک‘ پہنے 11 سالہ بچے کو سیکیورٹی گارڈ نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا، اور پھر اس واقعے کو حادثہ قرار دے دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: پولیس ’فورس‘ ہے یا پھر ’سروس‘؟

اگر حال کی بات کی جائے تو لاہور میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ لاہور کے 3 افراد ایک ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے جس میں وہ بھوت بن کر لوگوں کو مذاقاً ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ’مگر جب انہوں نے لائٹن روڈ کے قریب ایک پارک میں موجود فیملی سے مذاق کرنے کی کوشش کی تو صورتحال نے بدترین موڑ لے لیا۔ فیملی کے مردوں کو مذاق پسند نہیں آیا اور انہوں نے ان میں سے ایک کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

’پولیس نے ویڈیو بنانے والی ٹیم کے دیگر 2 ممبران کو اس شک کی بنا پر گرفتار کرلیا کہ ممکن ہے انہوں نے ہی اپنے دوست کو مارنے کی ساری منصوبہ بندی کی ہو۔‘

سازش اور مذاق کا امتزاج نیا نہیں ہے۔ ہمیں ایسے متعدد صدیوں پرانے واقعات سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں جن میں ناخوشگوار عناصر کو ختم کرنے کے لیے مذاقیہ انداز میں دغابازیاں کی گئی۔

اگر حالیہ عرصے کی بات کی جائے تو فروری 2017ء میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس نے بین الاقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ ایک انڈونیشیائی خاتون جو مبیّنہ طور پر شمالی کوریا کی اہم شخصیت کے قتل میں ملوث تھیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ یہی سوچ رہی تھیں کہ یہ سب ٹی وی پرینک کا حصہ ہے۔ ان پر متاثرہ شخص کے چہرے پر زہریلا مواد اسپرے کرنے کا الزام تھا۔ خاتون کے مطابق وہ نہیں جانتی تھی کہ اسپرے میں استعمال ہونے والا مواد زہریلا ہے۔

مگر اس جگہ سے بہت دُور جہاں سازشیں جنم لیتی ہیں، ہمیں سب سے زیادہ خطرہ اس دوڑ سے ہے جس میں مذاق کرنے والے ایک دوسرے کو پچھاڑنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دیوانگی سے بھرا مقابلہ ہے جو لوگوں کو جھٹکا دینے کے لیے پہلے سے زیادہ خطرناک اور بعض اوقات مہلک اسکیموں کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی دیوانگی نے ایک شخص کو مجبور کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر پیشہ ورانہ ٹی وی پرینکسٹر کے بارے میں خبردار کرے۔

’وہ صورتحال کو مزاحیہ بنانے کے بجائے لڑائی شروع کردیتا ہے، کئی بار تو تیز دھار ہتھیار بھی نکال لیتا ہے۔ مثلاً، حال ہی میں وہ غصے سے بھرے ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنتے بنتے رہ گیا تھا۔ لاہور میں پرینکسٹر کی حالیہ موت کے بعد ہمیں اس معاملے کو سنجیدہ لینا ہی ہوگا۔‘


یہ مضمون 20 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔