24 دسمبر کو نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گا، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 23 دسمبر 2019

ای میل

کیا خیبر پختونخوا کے کسی وزیر کو نیب کا نوٹس ملا؟ بلاول بھٹو زرداری — فوٹو: ڈان نیوز
کیا خیبر پختونخوا کے کسی وزیر کو نیب کا نوٹس ملا؟ بلاول بھٹو زرداری — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں 24 دسمبر کو طلبی کا نوٹس بھیجا ہے لیکن وہ پیش نہیں ہوں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'نیب نے طلبی کا غیر قانونی نوٹس بھیجا ہے، 24 دسمبر کو کس بنیاد پر نیب نے طلب کیا ہے؟ سابق چیف جسٹس بھی کہہ چکے ہیں کہ بلاول بےگناہ ہے تو کیوں بلایا جارہا ہے، حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کا لیول یہ ہے کہ ایک بیٹے کو ماں کی برسی منانے نہیں دے رہی، جبکہ 24 دسمبر کو نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گا۔'

انہوں نے کہا کہ 'پہلے بھی نیب کے سامنے پیش ہوتا رہا ہوں اور نیب کے سامنے پیش ہو کر سوالات کے جواب دیے تھے، لیکن کیا خیبر پختونخوا کے کسی وزیر کو نیب کا نوٹس ملا؟ عمران خان کے خلاف نیب کے مقدمات زیر التوا ہیں، ملک میں آمرانہ طرز عمل سے حکومت چلائی جارہی ہے جبکہ ایک جرم بھی ثابت نہیں ہوتا اور کیسز بنائے جاتے ہیں۔'

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'اپوزیشن کی مثبت تنقید بھی برداشت نہیں کی جارہی، ہم سے سیاست کرنے کا حق چھینا جارہا ہے، حکومت اپوزیشن کے خلاف سازش کر رہی ہے اور اپوزیشن کے خلاف جھوٹے کیسز بنائے جارہے ہیں جبکہ حکومت عوام اور اپوزیشن کو ہراساں کرنا چاہتی ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرا دیے

ان کا کہنا تھا کہ 'پیپلز پارٹی قانون کی حکمرانی تسلیم کرتی ہے، وہ پہلے کبھی دباؤ میں آئی نہ آئے گی، کسی کی دھمکیوں کے سامنے پہلے جھکے نہ اب جھکیں گے، 27 دسمبر کو بی بی شہید کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں منائیں گے جبکہ ہمارے ساتھ 72 لوگ ہوں یا 72 ہزار ہم لیاقت باغ جائیں گے۔'

انہوں نے کہا کہ 'نیب آمر کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جسے ہم نہیں مانتے جبکہ ہم پر کیا دباؤ ہے اس کا سب کو علم ہے، کسی ایک معاملے سے متعلق دباؤ نہیں لیکن بےنظیر اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کے فلسفے پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، اگر ہمت رکھتے ہو تو مجھے گرفتار کر لو اور اگر گرفتار ہوا تو زیادہ خطرناک ہوجاؤں گا۔'

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 'گلگت بلتستان کا دورہ کیا تو اگلے دن نیب کا نوٹس آگیا، جب سے سیاست کر رہا ہوں جعلی نیب کی طرف سے نوٹس آنے لگے ہیں لیکن میں اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کٹھ پتلی حکومت کا راج قبول نہیں جس میں عوام پریشان ہیں، حکمرانوں میں عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں جبکہ وہ قانون سازی میں بھی سنجیدہ نہیں، سیاسی یتیموں کو بتا دوں کہ اگلا سال الیکشن کا ہے اور آئندہ الیکشن میں سیاسی یتیموں کا وقت پورا ہو جائے گا۔'

مزید پڑھیں: رئیل اسٹیٹ کیس: نیب نے آصف زرداری، بلاول بھٹو کو طلب کرلیا

واضح رہے کہ نیب راولپنڈی نے بلاول بھٹو زرداری کو 24 دسمبر کو جے وی اوپل کیس میں طلب کر رکھا ہے۔

جمعہ کے روز بلاول کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے نوٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو نیب کا نوٹس موصول ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب چیف جسٹس بھری عدالت میں کہہ چکے ہیں کہ بلاول بھٹو بے قصور ہیں تو نیب کا نوٹس بھیجنا انہیں ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔

بلاول بھٹو کے ترجمان نے کہا کہ حکومت جب بھی بحران کا شکار ہوتی ہے تو مخالفین کو نیب کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔