چین نے مریخ منصوبے کے تحت طاقتور راکٹ خلا میں بھیج دیا

اپ ڈیٹ 28 دسمبر 2019

ای میل

2000 سیکنڈز کے بعد  شیجیان 20 سیٹلائٹ کو اپنے پہلے سے طے شدہ مدار میں بھیج دیا گیا۔ — فوٹو: اے ایف پی
2000 سیکنڈز کے بعد شیجیان 20 سیٹلائٹ کو اپنے پہلے سے طے شدہ مدار میں بھیج دیا گیا۔ — فوٹو: اے ایف پی

بیجنگ: چین نے 2020 میں اپنے مریخ مشن کو آگے بڑھانے کے لیے دنیا کا سب سے طاقت ور راکٹ لانچ کردیا۔

ڈان اخبار مین شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی پر دکھائی گئی براہ رست نشتریات میں شی جیان 20 ٹیسٹ سیٹلائٹ پے لوڈ پر مشتمل بھاری لانگ مارچ 5 راکٹ کو جنوبی جزیرے ہینان میں واقع لانچ سائٹ سے رات 8 بج کر 45 منٹ پر خلا میں بھیجا گیا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زن ہوا کے مطابق ’2000 سیکنڈز کے بعد شیجیان 20 سیٹلائٹ کو اپنے پہلے سے طے شدہ مدار میں بھیجا گیا‘۔

مزید پڑھیں: چین کا جی پی ایس سسٹم منصوبہ اگلے سال مکمل ہوجائے گا

رپورٹ کے مطابق ’راکٹ لانچ مستقبل کے خلائی مشنوں سے متعلق کلیدی ٹیکنالوجیز کی جانچ کرے گا‘۔

یہ کامیاب لانچ آئندہ سال ریڈ سیارے کے مشن اور 2022 تک عملے پر خلائی اسٹیشن بنانے کی امید سے متعلق چین کے منصوبوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے نائب سربراہ ینہوا نے گزشتہ ہفتے نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے ذریعے جاری ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ ’لانگ مارچ کے راکٹ کو اہم مشنز کی ذمہ داری سونپی گئی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسے مریخ کی چین کی پہلے تحقیقات، چانگ ای 5 قمری تحقیقات اور انسان دوست خلائی اسٹیشن کے لیے ایک بنیادی ماڈل کی لانچنگ سمیت اہم مشنوں کی ایک سیریز کی ذمہ داری سونپی جائے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: چین سمندر سے خلا میں راکٹ بھیجنے والا تیسرا ملک بن گیا

چین کے طاقت ور راکٹ لانچ کا آن لائن براہ راست نشریات 10 لاکھ سے زائد افراد نے دیکھی اور رات کو آسمان پر راکٹ لانچ کرنے کے منظر کو دیکھتے ہوئے جزیرے کی لانچ سائٹ کے قریب جمع ہجوم نے خوشی کا اظہار کیا جسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا۔

راکٹ کا نِک نیم (عرفی نام) ’فاسٹ فائیو‘ چین کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ویبو پر ٹرینڈنگ میں رہا۔

جولائی 2017 میں اس راکٹ کی لانچنگ کی ناکام کوشش کے بعد گزشتہ روز کی کامیابی کی وجہ سے چین کا خلائی پروگرام واپس اپنی سمت میں لوٹ گیا ہے۔

واضح رہے کہ بیجنگ نے اپنے حریف امریکا سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنے خلائی پروگرام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور خود کو ایک بڑی عالمی طاقت ظاہر کرنے کی تصدیق کی ہے۔