لندن: عبادت گاہ پر یہود مخالف چاکنگ پر تحقیقات کا آغاز

اپ ڈیٹ دسمبر 30 2019

ای میل

شمالی لندن کے ہیمپسٹڈ اور بیلسیز پارک علاقوں میں ہفتے اور اتوار کی شب واقعہ پیش آیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
شمالی لندن کے ہیمپسٹڈ اور بیلسیز پارک علاقوں میں ہفتے اور اتوار کی شب واقعہ پیش آیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

برطانوی پولیس، لندن میں ایک یہودی عبادت گاہ اور متعدد اسٹورز پر 'یہودیوں سے متعلق نفرت انگیز' جملے لکھنے کی تحقیقات کررہی ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق شمالی لندن کے ہیمپسٹڈ اور بیلسیز پارک کے علاقوں میں ہفتے اور اتوار کی شب یہودیوں کی مقدس علامت کے ساتھ '11 9' تحریر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یہودیوں کی مذہبی علامت کے ساتھ 9/11 درج کیا گیا جو اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ امریکا میں نائن الیون کے دہشت گرد حملوں میں یہودی ملوث تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکا کی ریاست نیو یارک میں یہودی ربی کے گھر پر چاقو کے حملے میں 5 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ رات 10 بجے ہوا جب ربی کے گھر پر روشنیوں کا تہوار حنوکاہ کی تقریبات جاری تھیں جس میں درجنوں افراد شریک تھے۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس سروس کے انسپکٹر کیو ہیلس نے کہا کہ 'ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'مختلف انکوائری جاری ہے کہ کون ذمہ دار ہے'۔

اس ضمن میں لیبر پارٹی کے رہنما جریمی کوربین نے کہا کہ 'مقامی افراد کو سیکیورٹی کے حوالے سے مطمئن رکھنے کے لیے اہلکار پورے علاقے میں گشت پر مامور ہوں گے'۔

واضح رہے کہ جریمی کوربین پر الزام ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں یہودی مخالف جذبات کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے لندن اور امریکا میں پیش آنے والے مذکورہ واقعے کے بعد یہودی برادری کے لیے 'محبت اور یکجہتی' کا پیغام بھیجا۔

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ کتنا خوف ناک ہے کہ ایک طرف روشنیوں کا تہوار حنوکاہ کی تہوار امید کے پیغام سے شروع ہوا اور ساتھ ہی امریکا اور لندن میں افسوس ناک واقعات پیش آئے۔

جریمی کوربین نے کہا کہ 'ہم نفرت کا سامنا کرنے والی تمام برادریوں کے ساتھ کھڑے ہیں'۔

خیال رہے کہ 26 مئی کو جرمنی کی حکومت نے یہود مخالف واقعات میں اضافے کو روکنے کے لیے مقامی یہودیوں کو ان کی روایتی مذہبی ٹوپی ’کیپا‘ پہننے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا تھا۔

حکومتی کمشنر فلیکس کیلین نے کہا تھا کہ ’یہودیوں کو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے باعث زیادہ نقصان پہنچا جو ہماری ثقافت کے منافی ہے‘۔

خیال رہے کہ اس سے قبل برلن کے معروف ماہر قانون کلوڈیا ونونی نے کہا تھا کہ ’جرمن سوسائٹی میں یہودیوں کے خلاف نفرت گہری ہے‘۔

واضح رہے کہ جرمنی میں گزشتہ برس یہودیوں کے خلاف واقعات میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔