’گینگ ریپ‘ کا ڈراما رچانے پر 19 سالہ لڑکی کو سزا

07 جنوری 2020

ای میل

لڑکی کو چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی — اسکرین شاٹ یوٹیوب
لڑکی کو چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی — اسکرین شاٹ یوٹیوب

مشرق وسطیٰ کے جزیرہ نما ملک قبرص کی مقامی عدالت نے 19 سالہ برطانوی لڑکی کو ’گینگ ریپ‘ کا ڈراما رچانے پر 4 ماہ قید کی سزا سنادی۔

قبرص کی عدالت نے جس لڑکی کو ’گینگ ریپ‘ کا ڈراما رچانے پر قید کی سزا سنائی اسے قبرص کی پولیس نے جولائی 2019 میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب لڑکی نے پولیس کو بتایا تھا کہ انہوں نے ’گینگ ریپ‘ سے متعلق جھوٹی رپورٹ درج کروائی تھی۔

اس سے قبل مذکورہ لڑکی نے قبرص میں 2019 کے وسط میں ’گینگ ریپ‘ کی شکایت درج کرواتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سیاحتی مقام ’آیا ناپا‘ پر 12 اسرائیلی لڑکوں نے ان کے ساتھ زبردستی کی تھی تاہم بعد ازاں وہ اپنے بیان سے پھر گئی تھیں جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس نے لڑکی کو گرفتار کرکے معاملے کی مزید تحقیقات کی تو پولیس کو معلوم ہوا کہ لڑکی نے رضامندی کے ساتھ ایک لڑکے کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’گینگ ریپ‘ کا ڈراما رچانے پر 19 سالہ لڑکی کو سزا کا سامنا

بعد ازاں پولیس نے لڑکی کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اسے عدالت میں پیش کیا اور گزشتہ ماہ دسمبر 2019 میں عدالت نے انہیں پولیس کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کی بنا پر مجرم قرار دیا تھا۔

عدالت نے 31 دسمبر 2019 کو سماعت کے دوران لڑکی کو ایک ہفتے کے لیے پولیس کے حوالے کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ 7 جنوری کو سنانے کا اعلان کیا تھا اور اب لڑکی کو سزا سنادی گئی۔

قبرص کی عدالت نے 31 دسمبر 2019 کو لڑکی کو مجرم قرار دیا تھا—فوٹو: اے ایف پی
قبرص کی عدالت نے 31 دسمبر 2019 کو لڑکی کو مجرم قرار دیا تھا—فوٹو: اے ایف پی

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق قبرص کی عدالت نے ’گینگ ریپ‘ کا ڈراما رچانے پر 19 سالہ برطانوی لڑکی کو 4 ماہ قید کی سزا سنائی تاہم بعد ازاں عدالت نے لڑکی کی سزا کو تین سال کے لیے معطل کردیا۔

رپورٹ کے مطابق جج نے دوران سماعت کہا کہ پولیس اور پروسیکیوشن کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کی بناء پر لڑکی کو مجرم قرار دیا اور انہیں ان ثبوتوں کی بناء پر ہی سزا سنائی گئی تاہم عدالت لڑکی کو دوسرا موقع دینا چاہتی ہے۔

سماعت کرنے والے ایک جج کا کہنا تھا کہ عدالت کو دوران سماعت معلوم ہوا کہ لڑکی کے خاندان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں جب کہ ان کے جھوٹے الزام کی وجہ سے 12 افراد کو گرفتار کیا گیا جو 10 دن تک جیل میں رہے علاوہ ازیں لڑکی اس وقت زیر تعلیم بھی ہے اس لیے عدالت اسے دوسرا موقع دیتے ہوئے اس کی سزا تین سال کے لیے معطل کر رہی ہے۔

لڑکی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کے موقع پر عدالت کے باہر خواتین نے مظاہرہ کیا—فوٹو: ای پی اے
لڑکی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کے موقع پر عدالت کے باہر خواتین نے مظاہرہ کیا—فوٹو: ای پی اے

عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے اور سزا کی معطلی کے حکم کے بعد قبرص پولیس نے لڑکی کو رہا کردیا اور اسے پاسپورٹ بھی دے دیا جس کے بعد اب لڑکی اپنے ملک برطانیہ واپس جا رہی ہیں۔

لڑکی کو عدالت کی جانب سے ’گینگ ریپ‘ کا ڈراما رچانے جانے کا مجرم قرار دیے جانے پر عدالت کے باہر درجنوں خواتین نے مظاہرہ کیا اور مظاہرے میں شریک ہونے والی خواتین میں 50 اسرائیلی خواتین بھی شامل تھیں۔

عدالت کی جانب سے لڑکی کو سزا سنائے جانے کے بعد ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں اور وہ جلد ہی سزا دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

لڑکی نے اسرائیلی لڑکوں پر الزامات لگائے تھے تاہم اسرائیلی خواتین نے ان کےحق میں مظاہرہ کیا—فوٹو: رائٹرز
لڑکی نے اسرائیلی لڑکوں پر الزامات لگائے تھے تاہم اسرائیلی خواتین نے ان کےحق میں مظاہرہ کیا—فوٹو: رائٹرز

مذکورہ کیس کے حوالے سے گزشتہ ہفتے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بتایا تھا کہ 19 سالہ برطانوی لڑکی نے ’گینگ ریپ‘ کے مؤقف سے اس وقت انکار کیا تھا جب ان کی چند ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانوی لڑکی نے قبرص کے دورے کے دوران ایک اسرائیلی لڑکے کے ساتھ رضامندی کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کیے اور جب وہ دونوں کمرے میں تھے تو اسرائیلی لڑکے کے مزید دوست بھی آگئے۔

لڑکی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دیگر 12 اسرائیلی لڑکوں نے ’گینگ ریپ‘ کا نشانہ بنایا اور جس وقت واقعہ پیش آیا اس وقت لڑکی کی عمر 18 برس جب کہ لڑکوں کی عمریں 15 سے 18 کے درمیان تھیں۔

لڑکی نے واقعہ پیش آنے کے بعد پولیس میں ’گینگ ریپ‘ کی رپورٹ درج کروائی تھی، بعد ازاں مذکورہ واقعے کی اسرائیلی لڑکوں نے ویڈیوز جاری کیں جن میں الزام لگانے والی لڑکوں کو لڑکوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

لڑکی کو سزا سنائے جانے کے خلاف سماجی رہنماؤں نے مظاہرے بھی کیے—فوٹو: سی این این
لڑکی کو سزا سنائے جانے کے خلاف سماجی رہنماؤں نے مظاہرے بھی کیے—فوٹو: سی این این