’نیب کا قانون اوپر سے نیچے تک بدلنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں‘

31 جنوری 2020

ای میل

سپریم کورٹ کی جانب سے نیب آرڈینینس 1999ء میں ترمیم کے لیے ملنے والی مہلت کسی غنیمت سے کم نہیں، کیونکہ ہم اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قانون کو معقول اور مؤثر ترین بنا سکتے ہیں۔

اس آرڈینینس کے نافذ ہونے کے بعد سے ہی اس میں نقائص نظر آنے لگے تھے۔ 2001ء اور 2002ء میں کی جانے والی بڑی بڑی ترامیم بھی اسے ایک غیر امتیازی قانون میں نہ بدل سکیں۔

دراصل جنرل مشرف کو بلاامتیاز احتساب سے متعلق تحفظات تھے جس کی تصدیق اس وقت ہی ہوگئی تھی جب نیب کے پہلے چیئرمین بننے والے ایک دیانتدار فوجی افسر نے مخصوص افراد کی تفتیش اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے عہدے سے مستعفی ہونے کو ترجیح دیں۔

اب چونکہ نیب کی اکثر کارروائیاں مخصوص ذرائع سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں، اس لیے نیب کارروائیوں میں پسند اور ناپسند کے عنصر کو خارج نہیں کیا جاسکتا ہے۔

یہ امید کی جاتی ہے کہ حکومت قانون کو مکمل طور پر تبدیل کرنے پر راضی ہوگی کیونکہ اگر اس سے کچھ بھی کم ہوا تو وہ اس قانون میں اصلاحات لانا تو دُور کی بات، اس حوالے سے معمولی پیشرفت بھی شاید نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ اس قانون میں کی جانے والی ترامیم کو تنقید و تضحیک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مجوزہ ترامیم کی منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجی جانے والی سمری میں صرف ان سرکاری عہدیداروں اور سرکاری ملازمین کا حوالہ دیا گیا تھا جن کے خلاف ’ضابطوں کی کوتاہی کے نام پر تفیتش کا آغاز کیا گیا تھا جس کا حقیقی کرپشن سے کوئی تعلق نہیں۔ ان ذمہ داریوں نے نیب پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور وفاقی حکومت کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، نیب نے ان معاملات کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کرلیا ہے جس کا تعلق دیگر اداروں سے ہے اور احتساب بیورو محصول کاری، محصول عائد کرنے وغیرہ جیسے معاملات کی تفتیش کر رہا ہے، لہٰذا نیب محصول کاری کے ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کر رہی ہے‘ ۔

یوں گزشتہ ماہ نیب آرڈینینس کی 2 شقوں (4 اور 9) میں کی جانے والی ترامیم صرف ان چند (دوست) سیاستدانوں اور سول سرونٹس کے خدشات کو دُور کرنے کی ایک کوشش نظر آئی۔ تاہم کوئی بھی فریق ان سے خوش نہیں تھا۔

مثلاً، سول سرونٹس نے کم سے کم 13 تبدیلیوں کی تجویز دی تھی، جن میں سے چند معقول ہیں اور ان پر اعتراض کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ ان کی چند نہایت اہم تجاویز یہ تھیں:

  • جسمانی ریمانڈ کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 90 سے گھٹا کر 15 دن کیا جائے۔
  • ملزم کی کرمنل پروسیجرل کوڈ کی دفعہ 497 کے تحت ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔
  • نیب کے کام کے طریقوں اور ملزم کی گرفتاری یا ریفرینس کی منظوری جیسے اہم مسائل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک نگران باڈی وجود میں لائی جائے۔
  • آخری ریفرینس گرفتاری کے بعد 75 دنوں سے پہلے پہلے داخل کروایا جائے اور آخری ریفرینس داخل کیے جانے کے بعد ہی مقدمے کا آغاز کیا جائے۔
  • نیب کی تمام تر بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں۔
  • واضح تحریری احکامات کے تحت گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔
  • اثاثوں کے انجماد کے لیے عدالتی حکم نامہ لازمی قرار دیا جائے تاکہ اثاثوں کا انجماد ناجائز فائدوں میں اضافے کا ذریعہ نہ بن سکے۔
  • مجسٹریٹ کی نگرانی میں چھاپے مارے جانے چاہئیں۔
  • مجسٹریٹ باقاعدگی کے ساتھ نیب ملزمان سے ملاقاتیں کریں۔

اس کے علاوہ نظرثانی عمل میں شامل کوئی بھی شخص سپریم کورٹ کی جانب سے آرڈینینس کے ان حصوں کو مسترد قرار دیے جانے کو نظر انداز نہیں کرسکتا جو پلی بارگین کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت رضاکارانہ طور پر واپس کرنے یا آزادی خریدنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

احتساب آرڈینینس چیئرمین نیب کے عہدے کے ساتھ بڑی زیادتی کرتا ہے کیونکہ انہیں ایسی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جنہیں ایک شخص کے لیے سنبھالنا آسان نہیں ہے، اور اسے ایسے اختیارات سے نوازا ہے جنہیں کوئی بھی ایسا شخص تسلیم کرنا نہیں چاہے گا جو اپنی صحت اور ساکھ کی پرواہ کرتا ہو۔

چیئرمین نیب اسٹاف کا ہر لحاظ سے آقا ہے۔ وہ چاہے کسی کو بھی اپنی مرضی کی مدتوں کے لیے نیب میں مقرر کرسکتا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی بذریعہ صدر ہوتی ہے، مگر اس میں بھی چیئرمین کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔ (2002ء میں پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی کے معاملے میں چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت کی ضرورت کو ختم کردیا گیا تھا۔)

چیئرمین اگرچہ احتساب عدالتوں کے ججوں کو تو منتخب نہیں کرتا لیکن یہ عدالتیں ان کی جانب سے ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد ہی کسی ملزم کے خلاف کارروائی کا آغاز کرسکتی ہیں۔

نیب چیئرمین اپنے غیر معمولی اختیارات کی بنیاد پر (حاضر سروس یا ریٹائرڈ) سرکاری عہدیداروں اور سول سرونٹس کے خلاف تفتیش کا حکم دے سکتا ہے۔ وہ ملزم کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ ان کے اختیارات میں جو سب سے زیادہ متنازع پہلو ہے وہ یہ کہ لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد ایسے قید خانوں میں رکھنے کا حکم دیا جاسکتا ہے جو جیل حکام یا جیل کے پرزن رولز کے ماتحت نہیں ہوتے ہیں۔

شق 24 کے تحت کسی بھی ملزم کو 90 روز تک نیب کی تحویل میں رکھنے کی اجازت مانگنے کے لیے اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی سے متعلق قوانین میں 90 روزہ کا ہندسہ 9/11 کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے دوران شامل کیا گیا تھا، لیکن نیب قوانین میں اس ہندسے کی شمولیت ایسے بہت سے لوگوں کے لیے بے سبب تکالیف کا باعث بنی ہے جنہیں اعترافِ جرم یا وعدہ معاف گواہ بننے کی ہامی بھرنے تک تنگ جگہوں اور نہایت ناگوار حالات میں رہنا پڑتا ہے۔

یہ عمل اس قدر سخت ہے کہ جس کی آئین کی شق 14 (2) میں ممانعت ہے۔ عدالتوں نے اس قسم کے مقدمات پر سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور فواد حسن فواد کی 18 ماہ قید کے بعد ضمانت کی منظوری کے وقت ان کے مشاہدات کا حوالہ نیب سے منسوب کرتے ہوئے پیش نہیں کیا جاسکتا۔

نیب کی جانب سے اپنے ٹارچر نما طریقہ کار کو درست ٹھہرانے کے لیے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا ادارہ لگ بھگ 153 ارب روپے کی ری کوری کرچکا ہے اور اس کارنامے پر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل بھی ان کی معترف ہے، لیکن احتساب کے اس رکھوالے کو ریاست کے ٹیکس اور ریونیو وصول کرنے والے اداروں کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

احتساب آرڈینینس میں سب سے بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ نیب کو تفتیش کرنے، ریفرنس کی تیاری، ملزم کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور متعدد کیسوں میں سزا دینے سے متعلق زبردست اختیارات بخشتا ہے۔

فردِ واحد کو بے پناہ اختیارات سونپنا انصاف اور بلاامتیاز عمل کے چھوٹے سے چھوٹے تقاضوں کے بھی برعکس ہے۔ سول سرونٹس کی یہ تجویز قابلِ غور اور ٹھیک ہے کہ مذکورہ کاموں کو نیب سے باہر کمیشن تشکیل دے کر اسی میں بااختیار اداروں کے درمیان تقسیم کیا جانا چاہیے۔

قومی احتسابی نظام کا جائزہ لینے پر کہیں بھی کرپشن سے بچاؤ کا کوئی حوالہ نہیں ملتا جبکہ کرپشن کے خلاف اقوامِ متحدہ کے کنوینشن میں اس موضوع پر پورا ایک باب شامل ہے۔

اگر احتسابی آرڈینینس کرپشن کے بچاؤ کا ایک مناسب ذریعہ نہیں ہے تو نیب کو ایک کمیشن کی حیثیت میں دوبارہ تشکیل اور کرپشن سے بچاؤ کا ذمہ اسی کی ایک شاخ کو دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔


یہ مضمون 30 جنوری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔