بھارت: ہندو قوم پرست نے 'یہ لو آزادی' کہہ کر مظاہرین پر فائرنگ کردی

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2020

ای میل

پولیس نے فائرنگ کرنے والے ہندو قوم پرست نوجوان کو گرفتار کرلیا —فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
پولیس نے فائرنگ کرنے والے ہندو قوم پرست نوجوان کو گرفتار کرلیا —فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک ہندو قوم پرست نے انٹرنیٹ پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلبہ پر فائرنگ کرکے ایک طالبعلم کو زخمی کردیا۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے ہندو قوم پرست نوجوان کو گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص نے نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر متنازع قانون کے خلاف سراپا احتجاج طلبہ پر یہ کہہ کر فائرنگ کردی کہ 'یہ لو آزادی' اور 'نئی دہلی پولیس زندہ باد'۔

واضح رہے آج ہی کے دن 1948 میں ایک واقعہ پیش آیا تھا جب مہاتما گاندھی کو ایک ہندو انتہا پسند نے قتل کردیا تھا۔

وائرل ویڈیو اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح شخص مجمع پر پستول تانے ہوئے ہے اور پس منظر میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کانگریس پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ جامعہ ملیہ کے باہر طلبہ پر فائرنگ کا واقعہ نفرت کا شاخسانہ ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمران جماعت یہ ہی چاہتی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ نفرت کی آگ گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔

علاوہ ازیں بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زخمی طالبعلم شاداب فاروق سے ہسپتال میں ملاقات کی۔

دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جامعہ ملیہ کے باہر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری سی پی دہلی پولیس کے سپرد کردی۔

پولیس نے ڈاکٹروں کا حوالہ دے کر بتایا کہ شاداب فاروق کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعہ چند سیکنڈ میں پیش آیا لیکن پھر ملزم کو فوراً قابو میں کرلیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس کرائم برانچ کو منتقل کردیا گیا۔

اسی دوران فیس بک کمپنی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے رام بھکت گوپال کا اکاؤنٹ منسوخ کردیا۔

فیس بک کے ترجمان نے کہا کہ 'ایسے کسی بھی عمل کے لیے فیس بک پر کوئی گنجائش نہیں جس میں تشدد شامل ہو، ہم نے مسلح شخص کا فیس بک اکاؤنٹ منسوخ کردیا'۔

جوائنٹ کمشنر آف پولیس دیویش شریواستو نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا و طالبات راج گھاٹ (مقتول مہاتما گاندھی کی آخری آرام گاہ) پر سی اے اے کے خلاف احتجاج کی اجازت چاہتے تھے اور پولیس انہیں روک رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 'فائرنگ کرنے والے نوجوان کے خلاف انڈین پینل کوڈ اور اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 307 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

عام آدمی پارٹی (اے پی پی) نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ نئی دہلی میں 'پرتشدد ہنگامے' کی خواہش مند ہے۔

اے پی پی نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فائرنگ کرنے والا لڑکا نابالغ ہے اور اس کی تعلیمی اسناد میں تاریخ پیدائش 8 اپریل 2002 درج ہے۔

یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں بھارتی شہریت کے حوالے سے متنازع بل منظور کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل پڑوسی ممالک (بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان) سے غیرقانونی طور پر بھارت آنے والے افراد کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔

اس بل کی منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کے بعد بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اہم شہروں میں انٹرنیٹ کی معطلی اور کرفیو بدستور نافذ ہے۔

شہریت ترمیمی قانون ہے کیا؟

شہریت ترمیمی بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت فراہم کرنا ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل کےخلاف احتجاج، کرفیو نافذ، درجنوں گرفتار

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاست آسام میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔