’کورونا وائرس‘ دانش اور مہوش کی کہانی نہیں جو آپ مذاق کررہے ہیں!

04 فروری 2020

ای میل

گزشتہ کچھ ہفتوں سے ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ڈرامہ چھایا ہوا تھا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب محسوس ہوا کہ ہمارے پاس شاید اس ڈرامے کے اختتام کے علاوہ بات کرنے کو اور سوچنے کو کچھ ہے ہی نہیں۔

لیکن جب اس ڈرامے کی گرد تھم گئی تو کچھ نہ کچھ کرنے کو چاہیے تھا، اس لیے ہم نے ایک نیا موضوع ڈھونڈ لیا اور اپنی عادت کے مطابق ٹرولنگ شروع کردی، لیکن افسوس کی بات یہ کہ یہ موضوع کسی بھی طور پر طنز یا مذاق اڑانے کے قابل نہیں تھا۔

اگر آپ بات نہیں سمجھے تو میں یہاں بتانا چاہوں گی کہ میرا اشارہ ’کورونا وائرس‘ کی جانب ہے۔ معاملے کی سنگینی، کسی ملک کی ساکھ اور پوری انسانیت کا مشترکہ مسئلہ ہونے کے باوجود ہم نے ’کورونا وائرس‘ کو اپنا پسندیدہ موضوع بنا لیا اور دن رات اس حوالے سے ’میمز‘ بناتے رہے اور افواہیں پھیلانے میں مصروف رہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نیا نہیں ہے اور یہ وائرس کی وہ قسم ہے جو عموماً میملز میں پائی جاتی ہے، مگر جنوری 2020ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چین کے صوبے ووہان میں کورونا کی ایک نئی قسم دریافت کی جسے ’نوول کور نائن‘ کا نام دیا گیا۔ انسان سے انسان میں منتقل ہونے والا یہ وائرس ووہان میں اس تیزی سے پھیلا کہ اس نے 2002ء سے 2004ء میں چین میں پھیلنے والے سارز وائرس کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔

اموات کی شرح بڑھنے اور دوسرے صوبوں اور ممالک سے کورونا کے کیسز سامنے آتے ہی چین کی حکومت نے تیزی سے اقدامات کرتے ہوئے ووہان کو 'قرنطینہ‘ کردیا اور ساتھ ہی غیر معمولی طور پر ووہان میں محض 10 دن میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بھی تعمیر کرلیا، جہاں اب صرف اس بیماری کے شکار مریضوں کا ہی علاج ہوگا تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔

مگر ان ہنگامی اقدامات کے باوجود عالمی میڈیا کا پسندیدہ موضوع یہی وائرس ہے۔ چلیے اگر یہ ساری کوریج اس لیے ہورہی ہوتی کہ بیماری کے حوالے سے چین کی مدد کی جائے یا یہ کوریج وہاں پھیلنے والی بیماری سے متعلق آگاہی کے لیے ہوتی تو بات ٹھیک بھی تھی، مگر اس پوری کوریج کو دیکھ کر تو واضح طور پر ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے چین کے خلاف باقاعدہ ایک انفارمیشن وار شروع کی جاچکی ہے۔

ہمارا میڈیا اس معاملے میں حقائق سے اس لیے بھی بے خبر ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے پاس ’ایک نمبر‘ سائنسی صحافیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور ہر خبر یا بلاگ کو معلومات کی تصدیق کیے بغیر ہی شائع کیا جارہا ہے۔

اس کی مثال یوں بھی لی جاسکتی ہے کہ جیسے ہی عالمی میڈیا نے ووہان کے لیے لفظ ’لاک ڈاؤن‘ کا استعمال کیا تو ہم نے ذرا بھی غور و فکر نہیں کیا اور متبادل لفظ تلاش کیے بغیر لاک ڈاؤن کا ہی استعمال شروع کردیا۔

آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں کہ ہم کس طرح بغیر تحقیق کیے عالمی میڈیا کے پیچھے چلتے چلتے چین کے خلاف اس انفارمیشن وار کا حصہ بن گئے اور شاید ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوا۔

لاک ڈاؤن اور قرنطینہ میں فرق

ووہان میں وائرس کے نئے کیسز سامنے آتے ہی چین کی حکومت حرکت میں آچکی تھی اور روس کی سرحد کے ساتھ واقع صوبے ووہان میں اس وائرس کے کیسز سامنے آتے ہی یہاں سے دوسرے علاقوں میں سفر پر پابندی لگادی اور گزشتہ ایک ہفتے سے ووہان میں لوگ گھروں میں محصور ہیں۔

عالمی میڈیا کی نقل کرتے ہوئے ابتدا میں ہی ہمارے میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اس صورتحال کے لیے لفظ ’لاک ڈاؤن‘ استعمال شروع کردیا، جو عموماً جنگی صورتحال میں اس وقت کیا جاتا ہے جب بڑے پیمانے پر محاذ آرائی کا خطرہ ہو۔ اس کے برعکس چین میں ووہان کو ’قرنطینہ‘ کیا گیا تھا جو ایک طبّی اصطلاح ہے اور ماضی میں بھی جب بڑے شہروں میں طاعون یا اسی طرح کے دیگر وبائی امراض پھیلتے تو وبا کو روکنے کے لیے شہروں کو قرنطینہ کردیا جاتا ہے۔

مگر میڈیا میں مستند سائنسی صحافیوں کی کمی کے باعث کئی روز تک ووہان کے لیے لفظ لاک ڈاؤں استعمال کیا جاتا رہا۔ جو لوگ مناسب سائنسی معلومات رکھتے ہیں وہ یقیناً جانتے ہوں گے کہ سائنس میں پیمائش یا بیان کی معمولی غلطی بھی نتائج، پوری تحقیق بلکہ ایک مکمل سائنسی دور کا دھارا تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور سائنسی تاریخ میں اس طرح کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہ تو پھر باقاعدہ عالمی میڈیا میں ایک سنگین صورتحال کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح تھی، جس کے اثرات اور مضمرات سے جان بوجھ کر پہلو تہی کی جارہی ہے۔

چینیوں کی خوراک کے حوالے سے رویہ

ووہان وائرس کے بارے میں ہمارا مجموعی بیان یہ ہے کہ چونکہ چینی سانپ، چمگادڑ اور اسی طرح کے دیگر جانور شوق سے کھاتے ہیں اسی لیے وہاں یہ وائرس پھیلا جبکہ سوشل میڈیا ٹرولرز اس سے کچھ ہاتھ آگے جاتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کا عذاب اور ناجانے کیا کچھ قرار دے چکے ہیں۔ میری نظر سے بہت ہی کم ایسے کالمز یا بلاگ گزرے ہیں جن میں حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔

ووہان وائرس کے حوالے سے پہلے پہل یہ کہا گیا یہ سانپوں سے انسان میں منتقل ہوا ہے کیونکہ اس کے ابتدائی کیسز ان لوگوں میں سامنے آئے تھے جو ووہان کی مشہور گوشت مارکیٹ میں کام کرتے تھے جہاں سے جانوروں کا گوشت ہوٹلوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ مگر جینیاتی ٹیسٹوں کے بعد ماہرین یہ تصدیق کرچکے ہیں کہ ووہان وائرس پھیلنے کا سبب عام افواہوں کے برعکس سانپ یا چمگادڑوں کا گوشت نہیں تھا بلکہ سانپوں سے یہ وائرس کسی دوسرے جانور اور پھر اس سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

اگرچہ ابھی تک حقیقت کی پوری تصویر سامنے نہیں آئی مگر جس طرح ہمارے میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر چینیوں کی خوراک کے حوالے منفی رویے کا مظاہرہ کیا گیا وہ شاید کسی بھی طور پر درست عمل نہیں قرار دیا جاسکتا۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ دانش، مہوش یا شہوار کا اسکینڈل نہیں تھا جس پر ہم اپنی مرضی سے کوئی بھی رائے دے سکتے ہیں۔ وبائی امراض دنیا بھر کا مشترکہ مسئلہ ہیں اور پاکستان میں حفظانِ صحت کے اصول کے ساتھ صحت و صفائی کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کورونا کی کوئی اور قسم یا کوئی اور وائرس کسی بھی وقت پاکستان میں بھی تباہی پھیلا سکتا ہے مگر ہم ہیں کہ خود پر آنے والی اس صورتحال سے بچنے اور اس سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنے کے بجائے دوسروں پر ہنس رہے ہیں۔

انفلوئنزا وائرس کی تباہ کاریاں کیا ہم بھول گئے؟

اگر اس وقت بھی عالمی میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو گنے چنے مستند سائنس چینلز کے علاوہ سب کی خبروں اور پروگراموں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ’کورونا وائرس‘ کے نتیجے میں اس قدر ہلاکتیں ہوچکی ہیں جتنی عالمی جنگوں میں ہوئیں۔ دیکھیے، ویسے تو کسی بھی وبائی مرض کا کسی دوسرے مرض سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن چونکہ کورونا وائرس سے متعلق غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، اس لیے صرف معلومات کے لیے یہاں ماضی قریب اور بعید میں دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلنے والی وبائی امراض اور وائرس جیسے ایبولا، سار، کانگو وغیرہ کا ذکر ضروری ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں۔

اگر زیادہ دُور نہیں جانا چاہتے تو امریکا سمیت پوری دنیا میں انفلوئنزا وائرس کی وبا کا ذکر کرتے ہیں، جس سے متعلق امریکا کے سینٹر فار ڈیسز کنٹرول اینڈ پری ونشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ اموات کی شرح بھی 8 ہزار سے زائد ہے۔

لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اتنی زیادہ ہلاکتوں کے باوجود امریکہ کی صورتحال پر عالمی میڈیا خاموش ہے۔ اب چونکہ پاکستان میں سائنس، تعلیم اور صحت کی اہمیت سب سے کم ہے، اس لیے ہم اس پر اپنی عقل لڑانے کے بجائے وہی سب کچھ کہنا شروع کردیتے ہیں جو عالمی میڈیا میں کہا جارہا ہوتا ہے۔

اگر غیر جانبداری سے چین کے ووہان اور امریکا کے انفلوئنزا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایسا گمان ہوتا ہے جیسے چین کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔

قدرتی آفات دنیا کے کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر میں جو لوگ بھی ووہان وائرس کو عالمی وبا کے طور پر اچھال رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ وہ محض ایک ہی ملک میں محدود رہے گا، وہ اس امر سے یا تو ناواقف ہیں یا جان بوجھ کر پہلو تہی کر رہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب دنیا کے ہر خطے کا صدیوں پرانا ایکو سسٹم تبدیل ہو رہا ہے۔

اگر چین میں اس وقت ایک وائرس تباہی پھیلا رہا ہے تو دوسری جانب آسٹریلیا کی ہلاکت خیز جنگل کی آگ کسی طور پر تھمنے کا نام نہیں لے رہی جس کی لپیٹ میں محض آسٹریلیا ہی نہیں آیا بلکہ نیوزی لینڈ اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ماحول اور آب و ہوا پر بھی اس سے منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے اور ماہرین کے مطابق شاید اب آسٹریلیا کا ایکو سسٹم ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوجائے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے سیاسی، سماجی، مذہبی یا معاشرتی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کرۂ ارض پر انسانیت اور جنگلی حیات کی بقا کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں جس کی اہم ترین ذمہ داری حکومتوں اور پھر میڈیا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام میں اس حوالے سے شعور اور آگاہی پیدا کریں تاکہ عملی طور پر مناسب اقدامات اٹھائے جاسکیں۔

یہاں ایک بار پھر اس اہم اور سنجیدہ ترین پہلو کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ دنیا کا ماحول اور یہاں پھیلنے والی بیماریاں کسی کو بھی سکون سے بیٹھنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ اگر آج ہم محفوظ ہیں تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل کورونا جیسا کوئی وائرس، کوئی اور قدرتی آفت یا وبا پاکستان کا راستہ نہ دیکھ لے؟ اس لیے ہر بات پر طنز، ٹرولنگ یا غیر سنجیدہ رویہ اپنانے کے بجائے مشکل وقت کی تیاری کرنا ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے پاس چین جیسے وسائل نہیں کہ وہ اس قدر بڑی آفت پر بھی سارے کام اپنے طور پر کررہا ہے۔