ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹو ٹاک‘ جاسوسی کرتی ہے، گوگل کا انتباہ

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

گوگل نے پہلے بھی اس ایپ کو اسٹور سے ہٹا دیا تھا — اسکرین شاٹ
گوگل نے پہلے بھی اس ایپ کو اسٹور سے ہٹا دیا تھا — اسکرین شاٹ

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے ایک بار پھر انتباہ جاری کیا ہے کہ مشکوک ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹو ٹاک‘ نہ صرف صارفین کی جاسوسی کرتی ہے بلکہ یہ ایپ فون میں موجود ڈیٹا بھی چرا لیتی ہے۔

اس سے قبل بھی گزشتہ برس کے اواخر میں ’گوگل‘ نے مذکورہ ایپ کے حوالے سے ایسا ہی انتباہ جاری کرتے ہوئے ایپ کو اسٹور سے ہٹادیا تھا۔

تاہم بعد ازاں ایپ بنانے والے ماہرین نے گوگل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر ’ٹو ٹاک‘ ایپ کو گوگل کے پلے اسٹور پر اپ لوڈ کیا تھا۔

مذکورہ ایپ کے حوالے سے ’ایپل‘ سمیت دیگر ادارے بھی انتباہ جاری کر چکے تھے اور انہوں نے بھی اپنے اسٹورز سے اسے ہٹادیا تھا تاہم ایپ کے مالکان نے پھر سے مذکورہ ایپ کو اسٹورز پر اپ لوڈ کردیا تھا۔

مالکان کی جانب سے ’ٹو ٹاک‘ کو دوبارہ اسٹورز پر اپ لوڈ کیے جانے کے بعد ایک بار پھر گوگل نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مذکورہ ایپ نہ صرف لوگوں کی جاسوسی کرتی ہے بلکہ ان کے موبائل میں موجود تمام ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کرلیتی ہے۔

ٹیکنالوجی ادارے ’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق گوگل نے ایک بار پھر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے ’ٹو ٹاک‘ ایپ کو اسٹور سے ہٹادیا تاہم اب تک مذکورہ ایپ کئی ممالک میں گوگل اسٹور پر موجود ہے۔

جاسوس ایپ کا نام چینی ایپ ٹک ٹاک سے ملتا جلتا ہے — فوٹو: ٹیک کرنچ
جاسوس ایپ کا نام چینی ایپ ٹک ٹاک سے ملتا جلتا ہے — فوٹو: ٹیک کرنچ

تاہم گوگل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایپ کو ہٹا دیا ہے لیکن پھر بھی اگر گوگل پلے اسٹور پر ایپ نظر آ رہی ہے تو اس کے ساتھ انتباہی پیغام بھی ہوگا جس میں صارفین کو ایپ ڈاؤن لوڈ نہ کرنے کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی ادارے کے مطابق ابتدائی طور پر ’ٹو ٹاک‘ کے حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے گزشتہ برس ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں امریکی خفیہ اداروں کے ذرائع سے بتایا گیا تھا کہ مذکورہ ایپ جاسوسی کے لیے بنائی گئی ہے۔

رپورٹ میں ذرائع سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’ٹو ٹاک‘ خاص طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت کے لیے جاسوس کر رہی ہے تاہم یہ ایپ امریکا اور چین کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

تاہم یو اے ای کی حکومت نے ’ٹو ٹاک‘ کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

رپورٹس ہیں کہ اب تک اس ایپ کو یورپ، افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں 10 کروڑ افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔

مذکورہ ایپ نہ صرف ویڈیوز بنانے اور انہیں شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے بلکہ یہ ویڈیو کال اور پیغامات کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔

رپورٹس تھیں کہ اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے والے صارف کی تصاویر، ویڈیوز، فون نمبرز، پیغامات اور موبائل میں موجود ہر طرح کے ڈیٹا تک ایپ انتظامیہ کو رسائی حاصل ہوجاتی ہے تاہم ایپ کو بنانے والے افراد نے گزشتہ برس ہی ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔