افغان امن عمل میں رخنہ ڈالنے والوں سے امریکا کو آگاہ کردیا، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 23 فروری 2020

ای میل

وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے ٹرمپ بھارت سے متنازع شہریت قانون پر بات کریں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے ٹرمپ بھارت سے متنازع شہریت قانون پر بات کریں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کچھ طاقتیں خطے میں استحکام کی خواہش مند نہیں ہیں اسی لیے امریکا اور طالبان کے مابین افغان امن معاہدے کی راہ میں 'رخنہ ڈالنے' کی کوشش کررہی ہیں جن کے حوالے سے واشنگٹن کو آگاہ کردیا ہے۔

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'وہ طاقتیں چاہتی ہیں کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ نہ ہو اور بم دھماکے اور خون ریزی ہوتی رہے'۔

سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ 'ہم نے ان اسپوائلرز (رخنہ ڈالنے والوں) کے بارے میں امریکا کو آگاہ کردیا کہ ہمیں ان سے بچنا ہے'۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'پاکستان نے دنیا کو قائل کیا کہ افغان مسئلے کا حل صرف مذاکرات ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات میں پاکستان نے پوری دیانت داری اور نیک نیتی سے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

'امید ہے ٹرمپ بھارت سے متنازع شہریت پر بات کریں گے'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت سے متعلق ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ 'امید ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نئی دہلی سے کشمیر میں مظالم اور متنازع شہریت پر بھی گفتگو کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جلد پاکستان کا بھی دورہ کریں گے۔

تحریک انصاف کی حکومت 6 ماہ میں چلی جائے گی؟ سے متعلق بیان پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'یہ بات پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ذاتی رائے ہے لیکن حکومت گرانے کی ڈیڈ لائن دینے والے اپنے گریبان میں جھانکیں'۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک عشرے سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، پنجاب سے میڈیا جائے اور سندھ کے دیہی اضلاع کے حالات پیش کرے تو سندھ حکومت کی گورننس کا پول کھل جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی'۔

'4 ماہ میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال لیں گے'

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کروانا چاہتا تھا لیکن وہ اپنے عزائم میں ناکام رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی خواہش رکھنے والا بھارت، فرانس میں منعقدہ اجلاس میں موجود نہیں تھا'۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ 'ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھارت کے سوا تمام فریقین نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ '4 ماہ کی مزید کوششوں کے بعد ہم پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال لیں گے'۔

'چینی کی برآمد پر پابندی لگا دی گئی'

آٹے کے بحران اور چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے آٹے کے بحران پر انکوائری کمیٹی بنائی ہے جو جلد ہی ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 15 ارب روپے کی گرانٹ دے دی گئی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ حکومت نے گندم کی درآمد پر پابندی ہٹا کر چینی کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔