کورونا وائرس سے جسم کے مختلف حصوں پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

04 مارچ 2020

ای میل

— اے ایف پی فوٹو
— اے ایف پی فوٹو

نئے کورونا وائرس اور اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے بارے میں اب بھی بہت زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہے جس سے اب تک دنیا بھر میں 92 ہزار سے زائد افراد بیمار جبکہ 31 سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

مگر ایک بات واضح ہے کہ سنگین کیسز میں یہ وائرس جسم پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے اور صرف پھیپھڑے ہی متاثر نہیں ہوتے۔

اس نئے نوول کورونا وائرس کے جسم کے مختلف حصوں پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس بارے میں اب تک حاصل ہونے والی معلومات درج ذیل ہیں۔

یہ پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے

دیگر کورونا وائرسز بشمول سارز، مرس اور عام موسمی نزلہ زکام کی طرح کووڈ 19 بھی نظام تنفس کی بیماری ہے، تو پھیپھڑے ہی عموماً سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ ابتدائی علامات جیسے بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل، وائرس کے شکار ہونے کے 2 سے 14 دن کے اندر نظر آنے لگتی ہیں۔

چین میں 17 ہزار سے زائد کیسز کے ڈیٹا سے ثابت ہوا کہ 81 فیصد کیسز کی شدت معتدل ہوتی ہے جبکہ باقی کی شدت زیادہ یا سنگین ہوتی ہے، معمر افراد اور سنگین امراض کے شکار افراد میں اس کی شدت بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

مگر یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے، کچھ افراد میں نظام تنفس کی علامات معمولی ہوتی ہے، جبکہ دیگر میں نمونیا نظر آتا ہے مگر کچھ افراد کے پھیپھڑوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

اس وائرس سے پھیپھڑے سے متاثر ہونے والے اہم ترین عضو ہیں مگر سنگین کیسز میں باقی جسم بھی متاثر ہوتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی سنگین انفیکشن میں ایسا ہوتا ہے اور اکثر یہ نقصان انفیکشن کا براہ راست اثر نہیں ہوتا بلکہ جسم کے ردعمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

معدہ اور آنتیں

کووڈ 19 کے شکار کچھ افراد نے معدے سے متعلق علامات جیسے قے یا ہیضہ کو رپورٹ کیا ہے، مگر یہ علامات پھیپھڑوں کو ہونے والے مسائل کے مقابلے میں بہت کم عام ہیں۔

کورونا وائرسز کے لیے پھیپھڑوں کے راستے جسم میں داخل ہونا آسان ہوتا ہے مگر آنتیں بھی ان وائرسز کی رسائی سے دور نہیں۔

مزید پڑھیں : وفاقی کابینہ نے کورونا وائرس کے خلاف ایمرجنسی ڈیکلیئر کرنے کی تجویز مستردکردی

2 حالیہ تحقیقی رپورٹس جن میں سے ایک نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئی جبکہ دوسری medRxiv میں پری پرنٹ شکل میں ہے، جن میں نئے نوول کورونا وائرس کے کچھ مریضوں کے فضلے میں یہ وائرس دریافت ہوا، تاہم محققین ابھی اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ فضلے سے بھی وائرس ایک سے دوسرے انسان تک پھیل سکتا ہے یا نہیں۔

دل اور خون کی شریانیں

واشنگٹن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر لورا ای ایوانز کے مطابق یہ وائرس دل اور خون کی شریانوں پر بھی ممکنہ طور پر اثرانداز ہوسکتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوسکتی ہے، ٹشوز کو خون کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے یا بلڈ پریشر کم ہوسکتا ہے، مگر تاحال ابھی تک یہ عندیہ نہیں ملا کہ یہ وائرس براہ راست دل کو نقصان پہنچاتا ہے۔

جگر اور گردے

جب جگر کے خلیات ورم کے شکار یا ان کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ معمول سے زیادہ مقدار میں انزائمے دوران خون میں خارج کرتے ہیں، ان انزائمے کی زیادہ مقدار ہمیشہ کسی سنگین مسئلے کی نشانی نہیں ہوتی، مگر یہ سارز یا مرس کے شکار افراد کے لیبارٹری ٹیسٹوں میں نظر آیا۔

ایک حالیہ رپورٹ میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کے ایک مریض کے جگر کو نقصان پہنچنے کی علامات دریافت ہوئیں، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ وائرس یا اس مریض کے علاج کے لیے دی جانے والی ادویات اس نقصان کا باعث بنی۔ کووڈ 19 کے شکار ہوکر ہسپتال داخل ہونے والے کچھ افراد میں گردوں کے نقصان کو بھی دیکھا گیا، ایسا سارز اور مرس میں بھی دیکھنے میں آیا تھا۔

مگر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں جن سے ثابت ہو کہ یہ وائرسز براہ راست گردوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن سے آنے والی دیگر تبدیلیاں ممکنہ طور پر گردوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں، یعنی جب نمونیا ہوتا ہے یا جسم میں آکسیجن کی گردش کم ہوتی ہے تو گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مدافعتی نظام

کسی بھی انفیکشن پر جسمانی مدافعتی نظام بیرونی وائرس یا بیکٹریا پر حملہ آور ہوکر ردعمل ظاہر کرتا ہے، ویسے تو یہ ردعمل عمل جسم سے انفیکشن کو نکالتا ہے مگر کئی بار اس سے جسم کو بھی نقصان پہنچ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں کورونا وائرس کے پانچویں کیس کی تصدیق

اس سے شدید ورم جیسا ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کووڈ 19 سے جسم کو ہونے والا بہت زیادہ نقصان پیچیدہ مدافعتی ردعمل کا نتیجہ ہوتا ہے، جس سے جسم میں شدید ورم جیسا ردعمل بنتا ہے جو مختلف جسمانی نظاموں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔