ٹک ٹاک ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران پولیس کانسٹیبل کی موت، 3 مشتبہ ملزمان گرفتار

اپ ڈیٹ 07 مارچ 2020

ای میل

ایک شخص اور 2 لڑکیوں سمیت 3 افراد کو گاڑی سے نکلتے ہوئے اور بس میں سوار ہوتے ہوئے 
دیکھا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
ایک شخص اور 2 لڑکیوں سمیت 3 افراد کو گاڑی سے نکلتے ہوئے اور بس میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

گجرات: پولیس کانسٹیبل مبینہ طور پر ایک خاتون کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیو کی ریکارڈنگ کے دوران اپنی ہی پستول سے چلنے والی گولی سے جاں بحق ہوگیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ واقعے میں ملوث یونیورسـٹی آف گجرات کے 2 طالبات سمیت 3 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

بھاگووال گاؤں سے تعلق رکھنے والے گجرات کے اے ڈویژن پولیس کانسٹیبل حسن شہزاد گزشتہ روز گجرات-جلال پور جٹاں روڈ پر بیوالی کے علاقے کے قریب ایک گاڑی میں زخمی حالت میں پائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک پر نامناسب ویڈیو اپ لوڈ کرنے والی طالبہ اور استاد پر پابندی عائد

اس کے ساتھ ہی ایک شخص اور 2 لڑکیوں سمیت 3 افراد کو گاڑی سے نکلتے ہوئے اور بس میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

صدر پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر حسن شہزاد کو شدید زخمی حالت میں عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا جہاں وہ بعد ازاں انتقال کرگئے۔

پولیس نے جائے وقوع سے فرانزک شواہد جمع کیے اور کانسٹیبل کے موبائل فون کا کال ریکارڈ بھی جمع کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیٹا کے ذریعے تینوں مشتبہ افراد کا پتہ لگایا اور انہیں گرفتار کرلیا۔

مشتبہ افراد میں کانسٹیبل کا قریبی دوست بھاگووال کا محمد ولید، یونیورسٹی آف گجرات کی طالبات گوجرانوالہ کی لائبہ زاہد اور منڈی بہاؤالدین کی رئیسہ جاوید شامل ہیں، جو یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں مقیم تھیں۔

ادھر سینئر پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مرحوم کانسٹیبل نے محمد ولید کے ہمراہ یونیورسٹی آف گجرات کے حافظ حیات کیمپس سے اپنی دوستوں کو جمعرات (5 مارچ) کو پِک کیا تھا اور انہوں نے لاہور میں ایک رات گزاری تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'ٹک ٹاک' پر پابندی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

تاہم سینئر پولیس افسر نے کہا کہ یونیورسٹی واپسی پر ایک لڑکی نے حسن شہزاد کی پستول لی اور ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانی شروع کردی۔

کانسٹیبل کی جانب سے روکنے کے باوجود لڑکی اس پستول کے ساتھ کھیلتی رہی اور اسی دوران پستول سے گولی چلی اور حسن شہزاد کے سر میں لگ گئی۔

واقعے کے بعد مشتبہ ملزمان جائے وقوع سے فرار ہوگئے جنہیں بعد میں گرفتار کرلیا گیا۔

صدر پولیس نے کانسٹیبل کے والد محمد افضل کی رپورٹ پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 304 کے تحت مشتبہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردیں۔

علاوہ ازیں پوسٹ مارٹم کے بعد کانسٹیبل حسن شہزاد کی لاش ان کے گھر والوں کے حوالے کردی گئی۔


یہ خبر 7 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی