ڈالر کی قدر 158 روپے 60 پیسے تک پہنچ گئی

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2020

ای میل

انٹربینک میں روپے کی قدر کاروباری ہفتے کے آخری روز بہتر ہوئی تھی—فوٹو:رائٹرز
انٹربینک میں روپے کی قدر کاروباری ہفتے کے آخری روز بہتر ہوئی تھی—فوٹو:رائٹرز

انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر محض ایک روز پہلے قدرے بہتری کے بعد ایک مرتبہ پھر گرگئی اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر 158 روپے 60 پیسے ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں مقامی کرنسی 2 روپے بہتر ہوئی اور 156 اعشاریہ 50 پر کھڑی ہے جو کاروباری ہفتے کے آخری روز 158 اعشاریہ 50 پر بند ہونے کے برعکس ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آغاز میں روپے کی قدر میں گراووٹ شروع ہوئی تھی اور جمعرات کو ڈالر کی قدر 159 اعشاریہ 30 روپے تک پہنچ گئی تھی جبکہ پہلے 154 اعشاریہ 25 تھی جو مجموعی طور پر 5 روپے 5 پیسے یا 3 اعشاریہ 27 فیصد کمی ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں:12 روز کے دوران ملک سے 60 کروڑ ڈالر کی ’عارضی سرمایہ کاری‘ خارج

کاروباری ہفتے کا اختتام 2 اعشاریہ 6 روپے کی بہتری کے بعد 156 اعشاریہ 7 روپے پر ہوا تھا جو نئے ہفتے کے پہلے روز جاری نہیں رہ سکا۔

فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ڈالر کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث ہوئی ہے کیونکہ ہفتہ وار چھٹیوں کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں۔

روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے تازہ صورت حال پر وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ٹریژری بل کی غیر یقینی صورت حال کے باوجود غیر ملکیوں کو سرمایہ واپس لینے کی اجازت دی گئی تھی جس سے ڈالر کی قیمت میں دباؤ واپس آگیا ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 2400 سے زائد پوائنٹس گرگیا

انہوں نے کہا کہ ‘یہ انٹربینک کے معاملات ہیں اس کا اسٹیٹ بینک کے ذخائر سے تعلق نہیں ہے اس لیے یہ عارضی معاملہ ہونا چاہیے’۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کی ایک وجہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مندی بھی ہے جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس 2400 پوائنٹس سے بھی زیادہ نیچے آگیا تھا جبکہ اسٹاک مارکیٹ بھی روپے کی قدر کی طرح جمعے کو مثبت رجحان پر بند ہوئی تھی۔