عبدالقادر جونیجو: سندھی ادب کی چھوٹی سی دنیا کے بڑے لکھاری

01 اپريل 2020

ای میل

سندھ کے بیشتر ادیب و شعرا انہیں ’گرو‘ کہا کرتے تھے، اور سچ یہ ہے کہ وہ اس لقب کے مستحق بھی تھے۔ ایسا اس لیے کہا جارہا ہے کہ ان کے ساتھ رہتے ہوئے بہت سے ادیب ان سے فیضیاب ہوئے اور انہوں نے اپنی ادبی تخلیقات کے ذریعے سندھی ادب میں بے تحاشہ اضافہ کیا۔

ان کی بظاہر ادبی شناخت تو افسانہ نگار ہی تھی مگر جب سے انہوں نے سندھی اور اردو زبان میں ڈرامے لکھنے کی ابتدا کی تو ان کی افسانہ نویس والی شناخت پر ڈراما نگار کی چھاپ ایسی لگی کہ آخری دم تک وہ ڈراما نگار کے طور پر ہی پہچانے گئے۔

مگر کہانی بیان کرنے کے حوالے سے انہیں خاص ملکہ حاصل تھا، وہ جب بھی اپنی اس خاصیت کی بات کرتے تو وہ ان بوڑھے بوڑھیوں کا ذکر لازمی کرتے تھے، جنہوں نے انہیں بچپن میں کہانیاں سنائی تھیں۔

ان کی کسی بھی تحریر میں 2 عناصر نمایاں ہوتے تھے۔ ایک ان کے لکھنے کا اسلوب اور دوم ان کا اندازِ بیان۔

انہوں نے سندھی زبان میں اپنا منفرد اسلوب متعارف کروایا تھا، جسے پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ پڑھ نہیں رہے بلکہ کسی کو سن رہے ہیں۔ سندھی زبان میں لکھنے والے بیشتر ادبیوں نے ان کے اس انداز کو کاپی کیا۔

عبدالقادر جونیجو
عبدالقادر جونیجو

عبدالقادر جونیجو یکم نومبر 1945ء ضلع تھرپارکر کے گاؤں جنہان جونیجو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پولیس عملدار تھے اور اسی وجہ سے ان کو بھی پولیس میں نوکری کرنے کا شوق تھا۔ پھر والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد عبدالقادر صاحب کو کوٹے پر اے ایس آئی کی نوکری بھی مل گئی، مگر ان کے والد نے یہ ملازمت کرنے سے منع کردیا اور یوں وہ اپنے ہی گاؤں میں استاد بن گئے۔

مگر ایک افسانہ نویس ایک چھوٹے سے پرائمری اسکول میں کب تک بچوں کو زور زور سے سبق یاد کرنے کے لیے کہتا، لہٰذا وہ اس ملازمت کو ترک کرکے جامشورو کوچ کرگئے جہاں انہوں نے سندھیالوجی میں بلیکیشن آفیسر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی اور پھر ڈائریکٹر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔

عبدالقادر جونیجو کی تحریروں میں جہاں ہمیں سماج کے دیگر مسائل نظر آتے ہیں وہیں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ انہوں نے لوک ذہانت، دیہات کے لوگوں کی عقل بھری باتیں اور ان کے فطرت کے ساتھ تعلق کو بہت ہی بہتر انداز سے پیش کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تخلیقی کام کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ 'تخلیقی کام جبلت کی پیداوار ہے لیکن میں نے اپنا یہ اسلوب چرواہوں سے سیکھا ہے خاص طور پر میری دوستی بکریاں اور گائے چرانے والوں سے رہی'۔

سندھی افسانوی ادب میں ایک تو وہ پہلو ہے جو شہری معاشرے میں رہنے والے انسانوں اور ان کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کو بیان کرتا ہے مگر عبدالقادر جونیجو کے افسانوں کے کردار اور ہیروز دیہاتی لوگ ہیں، جن کے ہاں اس جہاں اور دنیاداری کو سمجھنے کے اپنے نطریات ہیں۔ مثلاً ان کے ہاں پیری (چوروں کے پیر کی پہچان کرنے والا) جیسا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ پیر نہ صرف ان کی کہانیوں میں ملتے ہیں بلکہ ان پر وہ پروفائل بھی لکھتے رہے ہیں۔ وہ درحقیقت ان گمنام کرداروں کو اپنے تخلیقی ادب میں متعارف کرانے کے ماہر تھے اور اس کی اہم ترین وجہ یہ بھی تھی کہ ان کا بچپن اور جوانی کا زمانہ انہی لوگوں کے ساتھ گزرا تھا۔

اردو ڈرامے نے انہیں اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا جب انہوں نے سندھی میں لکھے کھیل ’رانی جی کہانی‘ کو اردو میں ’دیواریں‘ کے نام سے لکھا۔ مگر ان کا اس سے بھی اہم ترین کھیل ’چھوٹی سی دنیا‘ تھا جس کا کردار جانو جرمن ہمارے سماج میں ایک استعارہ بن گیا۔

اپنے اس کھیل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دراصل مغربی ملک سے بابو بن کر لوٹ آنے والے ایک مس فٹ انسان کی کہانی تھی جو جب اپنے گاؤں لوٹتا ہے تو اپنی اقدار کو فراموش کرکے مغربی طور طریقے اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور انہیں دیگر گاؤں والوں پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ نہ صرف اپنے کلچر کو یاد رکھنے کی تلقین کرتا ہے بلکہ اپنے ورثے کو بھی فراموش نہ کرنے کا درس دیتا ہے‘۔

اس کے علاوہ انہوں نے سندھی میں عالمی ادب میں شائع ہونے والے ناولوں اور دیگر کتابوں پر بھی تبصروں کا جو سلسلا شروع کیا وہ بھی خاصہ مقبول رہا، کیونکہ ایک جانب تو اس کے ذریعے وہ نئی نئی کتابوں سے اپنے پڑھنے والوں کو متعارف کرواتے رہے، تو دوسری جانب ان کے مطالعے کے رجحانات کا بھی پتہ چلتا گیا۔ نئی کتابوں کے بارے میں نہ صرف وہ نوجوانوں کو پڑھنے کے لیے کہا کرتے تھے بلکہ اپنی لائبریری سے وہ کتابیں ان کے حوالے بھی کرتے تھے۔

سندھی زبان کے افسانہ نویس و ناول نگار اکبر سومرو کا کہنا ہے کہ ’عبدالقادر جونیجو مسلسل کامیابی کے ساتھ لکھتے رہے، ان کی تحریروں میں سندھ کے دیہات اور تھر کی مٹی کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ ان کی تحریروں میں عام دیہاتی لوگوں کے معاشی و معاشرتی مسائل سے لیکر دیگر چوروں کے کردار بھی ملیں گے۔ ان کا ناول ’سو دیس مسافر منہنجو ڑے‘ یقینی طور پر سندھی ادب کے شاہکار ناولوں میں شامل ہوتا، لیکن بدقسمتی سے زندگی نے انہیں اسے مکمل کرنے کی مہلت نہیں دی۔ ان کی تحریروں میں زبان سہل تھی۔ ان کی ایک زبردست عادت یہ تھی کہ وہ پڑھنے والوں کو نئی نئی کتابیں پڑھنے کا مشورہ بھی دیتے تھے۔ ان کی سندھی اور اردو میں لکھی گئی تمام تر تخلیقات شاندار ہیں۔ عبدالقادر جونیجو کی وفات سندھی زبان اور ادب کا بڑا نقصان ہے‘۔

ان کی لکھی کتابوں میں

  • واٹوں راتیوں رول،
  • شکلیوں،
  • ویندڑ وہی لہندڑ سج،
  • وڈا ادیب وڈیوں گالہیوں،
  • سونو روپو سج،
  • ایورسٹ تے چڑہائی،
  • کرسی،
  • چھو چھا ائیں کئین،
  • خط بن ادیبن جا،
  • در در جا مسافر،
  • ون ون جی کاٹھی،
  • چھا لکھاں،

اور اس کے علاوہ ان کے 2 انگریزی ناول

  • دی ڈیڈ ریور اور
  • رسٹکس شامل ہیں۔

ان کا لکھا ہوا ناول ’دی ڈیڈ ریور‘ سندھ میں کسی زمانے میں بہتے ہوئے ہاکڑو دریا اور اس سے منسلک تہذیب کے حوالے سے ہے، جس میں تھر اور کس کے علاقے کی کہانی کو بیان کیا گیا، جہاں آج صرف اس دریا کے بس تھوڑے بہت نشانات ہی رہ گئے ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے اس ناول ’دی ڈیڈ ریور‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نہ فرشتہ اور نہ ہی شیطان، بلکہ ایک انسان ہوں، اور ظاہر ہے کوشش کروں گا کہ کسی نئے موضوع پر لکھوں۔ ہوسکتا ہے کوئی ایسا ناول لکھوں جو مجھے دنیا میں شہرت دلا دے، اگر ’دی ڈیڈ ریور‘ جرمن میں ترجمہ ہوگیا تو شاید میں دنیا میں مشہور ہوجاؤں۔

اگرچہ یہ ناول جرمن زبان میں ترجمہ نہیں ہوسکا مگر اس کے باوجود شہرت تو ان کے حصے میں پھر بھی رہی، کیونکہ ان کا لکھا ہوا ڈرامہ ’دیواریں‘ بی بی سی کے چینل 4 پر انگلش سب ٹائٹل کے ساتھ نشر ہوا جبکہ ڈرامہ ’چھوٹی سے دنیا‘ پر جرمن ڈاکٹر ہیلنی باسو نے جرمن زبان میں برلن یونیورسٹی میں تھیسز بھی لکھی۔

سندھی زبان کے افسانہ نویس و ادیب حفیظ کنبھر اپنے کالم میں قادر جونیجو کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’عبدالقادر جونیجو نے ڈراموں میں چار دیواری کے تاثر کو ختم کرتے ہوئے کرداروں کو گھر سے باہر لانے کا کام کیا اور پھر کرداروں کو کرتا پاجاما پہنانے کی بجائے اس کلچر کو متعارف کروایا جسے قومی کے بجائے مقامی کا نام دے کر مسلسل نظر انداز کیا جارہا تھا‘۔

یہ گزشتہ ماہ کی بات ہے جب ان سے فون پر رابطہ ہوا اور وہ اپنا علاج کروانے کے حوالے سے مجھے بتارہے تھے کہ انہیں آپریشن کے لیے اسکاٹ لینڈ جانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار طبیعت سنبھل جائے تو پھر دوبارہ لکھنے کے کام کا آغاز کروں گا، تب تک میری غیر حاضری کو قبول کرو، مگر گرو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ غیر حاضری اتنی طویل ہوجائے گی کہ آپ کے ہاتھ اب کبھی اس قلم کو جنبش نہیں دے پائیں گے جس سے آپ نے نئے نئے خیالات اپنے پڑھنے والوں تک پہچائے۔

قادر جونیجو 30 مارچ کو جگر کے عارضے کی وجہ سے ہم سے بچھڑ گئے مگر ان کے لکھے ہوئے ڈرامے اور افسانے ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے کہ وہ سندھی ادب کی چھوٹی سی دنیا کے بڑے لکھاری تھے۔