چین کا وہ فیصلہ جس نے کورونا کے لاکھوں کیسز سے اسے بچالیا

06 اپريل 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی وبا سب سے پہلے چین میں پھیلی تھی اور اس کے بعد دنیا بھر میں اس کے مریض سامنے آچکے ہیں۔

چین نے حیران کن طور پر اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی، جہاں مجموعی کیسز کی تعداد 82 ہزار 602، صحت یاب افراد 77 ہزار 202 اور ہلاکتیں 3333 ہیں۔

یعنی اس وقت وہاں مریضوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے تھوڑی زیادہ ہے یعنی پاکستان سے بھی کم۔

مجموعی کیسز کی تعداد بھی اب امریکا، اٹلی، اسپین، جرمنی اور فرانس سے بھی کم ہے اور اس کی وجہ چین کا ایک اہم فیصلہ تھا۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کووڈ 19 کی وبا کے ابتدائی مرحلے پر چین کا ہنگامی ردعمل ووہان سے باہر 7 لاکھ سے زائد کیسز کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ چین میں وبا کے 50 ویں دن (19 فروری) کو مصدقہ کیسز کی تعداد 30 ہزار تھی اور ووہان پر سفر پابندیوں اور قومی ایمرجنسی ردعمل کو اختیار نہ کیا جاتا تو ووہان سے باہر چین میں کیسز کی تعداد 7 لاکھ سے زیادہ ہوسکتی تھی۔

چینی حکومت کی جانب سے 23 جنوری 2020 کو ووہان میں ملک گیر سطح پر سخت گیر سفری پابندی کا اطلاق کیا گیا تھا، مختلف شہروں میں وبا کی صورتحال کے مطابق مختلف اوقات میں مختلف اقدامات کیے گئے۔

محقق پروفیسر کرسٹوفر ڈائی نے بتایا کہ چین کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں وائرس پھیلائو کی لڑی کو توڑنے میں کامیابی ملی، کیونکہ اس سے وائرس کے شکار افراد اور صحت مند لوگوں کے درمیان تعلق کی روک تھام ہوئی۔

سخت اقدامات انتہائی ضروری

جریدے جرنل سائنس میں شائع تحقیق میں سائنسدانوں نے کیسز کی رپورٹس، چین کے اندر انسانی نقل و حمل کے ڈیٹا بیس کا تجزیہ اور دیگر اقدامات کے ریکارڈ کو دیکھا۔

سائنسدان نے ووہان سے 11 جنوری سے 23 جنوری کے دوران 43 لاکھ افراد کی امدورفت کا تجزیہ بھی کیا، یعنی اس دن تک جب چین کی جانب سے سفری پابندیاں لگائی گئیں۔

اس کے علاوہ دیگر چینی شہروں میں انتظامی اقدامات کی اقسام کو بھی دیکھا گیا اور ان کا موازنہ روزانہ کی بنیاد پر نئے کیسز کی تعداد سے کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمارے کام کا ایک حیرت انگیز پہلو ڈیٹا اسٹریم جیسے موبائل فون کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کی طاقت کا اظہار ہے، ہم جس وقت پر تحقیق کررہے تھے اس میں موسم بہار کا میلہ اور چینی نئے سال کا آغاز بھی شامل تھا، ہم ووہان سے آنے اور جانے والوں کے سفری رجحانات کا موازنہ وبا کے دوران کرنے میں موسم بہار کے 2 سابقہ میلوں کے موبائل ڈیٹا کی مدد سے کرنے میں کامیاب رہے۔

اس ڈیٹا کی مدد سے محققین یہ تعین کرنے کے قابل ہوسکے کہ ملک گیر سفری پابندی ممکنہ طور پر ووہان سے باہر لاکھوں کیسز کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکی۔

محققین کے مطابق تجزیے سے انکشاف ہوا کہ 23 جنوری کو عائد کی جانب والی پابندیوں کے نتیجے میں نقل و حرکت میں ڈرامائی کمی آئی، اس ڈیٹا کی بنیاد پر ہم یہ تخمینہ لگانے میں کامیاب ہوسکے کہ ووہان سے باہر کیسز کی تعداد میں کتنی ممکنہ کمی آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ چونکہ چینی حکام نے ووہان کو وبا کی ابتدا پر بند کردیا تھا، جس کی بدولت دیگر شہروں کو اتنا وقت مل سکا کہ وہ آبادی میں اس وائرس کے بتدریج پھیلائو کے خلاف مناسب اقدامات کرسکیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی بدولت 130 سے زائد شہروں میں کووڈ 19 کی آمد کو التوا میں ڈالنے میں مدد مل سکی۔

چینی حکومت کے اقدام سے دیگر شہروں کو مختلف اقدامات جیسے عوامی اجتماعات پر پابندی، پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش اور عوامی مقامات بند کرنے کی منصوبہ بندی کا وقت مل سکا۔

مجموعی طور پر ووہان سے باہر دیگر شہروں میں منظم ردعمل کے نتیجے میں ہر جگہ پہلے ہفتے میں کووڈ 19 کے مصدقہ کیسز کی تعداد 33 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

تاہم محققین نے اتباہ کیا کہ چین میں وبا دوبارہ پھیلنے کا بھی امکان ہے کیونکہ چین کی بہت کم آبادی اس وائرس کا شکار ہوئی، اب بھی بڑٖی تعداد میں لوگ اس کے خطرے سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا بھی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں یہ کورونا وائرس عالمی سطح پر فلو کی طرح پھیلے یعنی سیزنل وائرس بن جائے گا۔