کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے ہم کہاں غلطی کررہے ہیں؟

09 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جن باتوں پر سب سے زیادہ زور دیا جارہا ہے ان میں سے ایک قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ اگرچہ مختلف سطحوں پر کسی حد تک اتحاد نظر بھی آتا ہے لیکن قومی فیصلہ سازی میں اس کی غیر موجودگی بے چینی کی وجہ بن رہی ہے کیونکہ قومی اتحاد کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے تمام کاموں پر پورا ملک سرِخم تسلیم کرے بلکہ اس سے مراد تو یہ ہے کہ فیصلہ سازی میں قومی اتفاق رائے پایا جائے۔

جس زبردست انداز سے مسلح افواج سول انتظامیہ کی پشت پناہی کر رہی ہے وہ حکومتی اداروں میں اتحاد کی ایک مثال ہے۔

ایک ایسی ہی مثال وزارتِ اطلاعات، آئی ایس پی آر، وزارتِ صحت اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مابین پایا جانے والا تعاون ہے۔ ہر جگہ ہر طرف بُری طرح سے متاثر ہونے والی برادریوں میں راشن کی تقسیم میں مصروف افسران اور سول سوسائٹی کی ٹیموں کے درمیان تعاون کے کچھ شواہد ملے ہیں۔ لیکن اس طرح قومی اتحاد کا سوال ختم نہیں ہوجاتا۔

کورونا وائرس کے بحران کو جنگی حالات سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہم جنگ کے دوران مختلف ریاستوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو ذہن میں لاسکتے ہیں۔

مثلاً بیٹل آف برٹن کے آغاز پر برطانوی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی نے 200 سے زائد نشستوں کے ساتھ ہاؤس آف کامنز میں اپنی اکثریت کے باوجود حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیبر پارٹی نے اس پیش کش کی قبولیت نیول چمبرلن کی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے برطرفی سے مشروط کردی تھی۔ لہٰذا چمبرلن نے عہدے سے استعفیٰ دیا جبکہ قیادت کنزرویٹو پارٹی کے پاس ہی برقرار رہی۔ تب ونسٹن چرچل نے بڑی کابینہ کے بجائے چھوٹی جنگی کابینہ تشکیل دی جس میں 3 کنزرویٹو اور 2 لیبر اراکین جبکہ ایک لبرل رکن پر مشتمل تھی۔

اپنے یہاں کی بات کی جائے تو ذرا یاد کیجیے کہ جب پاکستان اور بھارت میں آزادی کے بعد پہلی حکومتوں کا قیام عمل میں آیا تھا تب ان دونوں ملکوں کے لیڈران نے کیا کچھ کیا تھا؟

بھارت میں مالیات، منصوبہ بندی اور قانون کا قلمدان ان ممبران کو سونپا گیا جن کا تعلق پارلیمنٹ کی اکثریتی (کانگریس) جماعت سے نہیں تھا۔ اسی طرح پاکستان میں مالیات اور امورِ خارجہ کی وزارتیں انہیں ملیں جن کا قانون ساز ادارے میں مسلم لیگ سے تعلق ہی نہیں تھا۔

یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ وقت کے اس موڑ پر وفاقی اتحاد میں حزبِ اختلاف کو بھی شامل کرلیا جائے۔ حکومت کافی حد تک مستحکم ہے اور وزیرِاعظم نے چینی بحران پر ایف آئی اے کی رپورٹ جاری کرکے اور چند وزرا/مشیران اور بیوروکریسی میں ان کے کنٹرولر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کا ثبوت دے دیا ہے۔

قومی سطح پر سیاسی قوتوں کے مابین اتحاد کے پرچار کا مقصد دراصل اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اعلیٰ سطح پر ہونے والے پالیسی فیصلے حتیٰ الامکان ملک کے سیاسی گروہوں کے درمیان اتفاقِ رائے کی بنیاد پر مبنی ہوں۔

حکمراں جماعت فیصلہ سازی کے عمل میں حزبِ اختلاف کی شمولیت کی ضرورت سے مکمل طور پر لاعلم بھی نہیں ہے، جس کا کسی حد تک اندازہ گزشتہ پیر کو ملاقات کرنے والی اسپیکر قومی اسمبلی کی تشکیل کردہ 25 رکنی کُل جماعتی پارلیمانی کمیٹی سے لگایا جاسکتا ہے۔ پھر یاد رہے کہ اسی روز اسی طرز پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ لیکن جلد ہی یہ واضح ہوجائے گا کہ ایوانوں میں پارٹی رہنماؤں کو بریفننگ دینے اور قومی اتفاقِ رائے کے قیام کے لیے مطلوب بین الجماعتی مشاورت میں فرق ہوتا ہے۔

اس وقت مختلف معاملات پر فعال قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، انہی میں سے ایک وجہ بین الصوبائی تعاون بھی ہے۔ وزیرِاعظم کا یہ خیال قابلِ تعریف ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد مرکز وفاقی اکائیوں پر اپنی مرضی نہیں چلاسکتا لیکن اس طرح بین الصوبائی مشاورت کی ضرورت ختم نہیں ہوجاتی۔ حکومت کو مشترکہ مفاداتی کونسل کا اجلاس بلانے میں بھلا کیا قباحت ہوسکتی ہے جس کا مطالبہ سندھ کرتا رہا ہے۔

عالمی وبا کے خلاف مہم میں حائل کمیوں کو دُور کرنے کے لیے بھی قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ باضابطہ ترجمان یہ تو بتا رہے ہیں کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے لیکن یہ بتانے کو تیار نہیں کہ کیا کچھ کرنا باقی رہ گیا ہے۔

زیادہ سے زیادہ لوگوں کا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بہت ہی کم ہے، اس بات پر عطا الرحمٰن جیسی شخصیت زور دیتی آرہی ہے جو بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے عادی نہیں۔ کوئٹہ میں ڈاکٹروں نے جب حفاظتی سامان مانگا تو پہلے ان پر بے رحمی سے لاٹھی چارج کیا اور جیل میں ڈال دیا، اور پھر بعد میں اب سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔

وسائل سے عاری لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ریلیف فراہمی کا بندوبست قومی اتفاقِ رائے کے بغیر ممکن نہیں ہوسکے گا، اور اس کام کو انجام دینے کا سب سے بہترین طریقہ مقامی اداروں کی بحالی ہے۔

اب اس تجویز کو محض اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس بات کو اٹھانے میں قمر زمان قائرہ اور ایچ آر سی پی نے پہل کی ہے۔

میڈیا کو لاحق پریشانیوں کو دُور کرنے کے لیے بھی قومی یکجہتی درکار ہے اور اس کام کی شروعات اہم اخبارات کی تقسیم کے عمل میں غیر قانونی مداخلت اور اشتہارات کی بندش کے خاتمے سے کی جانی چاہیے۔

ان سب باتوں سے بڑھ کر لوگوں کو علما کی جانب سے نماز پڑھنے اور سماجی فاصلہ رکھنے سے متعلق تجویز پر عمل کی ترغیب دینے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت پڑتی ہے۔

یہاں بات کرنے کا جو بنیادی مقصد ہے وہ یہ کہ کورونا کی عالمی وبا سے لڑنے کے لیے ہر ہر سطح پر سیاسی جماعتوں کے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، یہی وہ عمل ہے جو جمہوریت کی مضبوطی کا سبب بنے گا۔

اب یہ بات کون نہیں جانتا کہ تحریک انصاف کی قیادت کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کے خیال سے بھی الرجی ہے لیکن اگر یہ اتنے اچھے نہیں ہیں تو اپنے ان سابقہ ساتھیوں سے زیادہ بُرے بھی نہیں ہیں جو اس وقت پی ٹی آئی کی پارلیمانی جماعت کا اہم حصہ ہیں۔

ایک آخری بات: حالیہ چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ کے اجرا کا سہرا وزیرِاعظم کے سر باندھا جاتا ہے۔ مگر یوں لگتا ہے کہ انہوں نے سبسڈی اور برآمدات سے حاصل ہونے والے منافع کی صورت میں دسیوں لاکھ روپے اکٹھا کرنے والوں کے خلاف ایکشن پر اٹھنے والے شور پر کچھ ضرورت سے زیادہ ہی اپنا ردِعمل دے دیا ہے۔

کیا ان لوگوں نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی؟ سرمایہ دارانہ نظام میں کسی بھی وقت اور کسی بھی طرح منافع خوری کے ملنے والے موقعے سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے اور ہم تو ویسے ہی اس نظام کی بھرپور انداز میں پیروی کرتے ہیں۔ پیسے سے ہی پیسہ جنم لیتا ہے۔ امیر کو زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اگر دولت سمیٹنے کی وجہ سے غریب شہری پکارے جانے والے ’نیچ اور حقیروں‘ کو کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ان پر یہ فرض ہے کہ وہ اسے خاموشی سے برداشت کریں۔

آخر 25 اپریل سے پہلے وزرا کے قلمندانوں میں تبدیلی کی اتنی کیا جلدی پڑی تھی؟ یا پھر یہ ایسا منصوبہ ہے جو ایک عام شہری تصور بھی نہیں کرسکتا؟


یہ مضمون 9 اپریل 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔