ڈی آئی خان جیل پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 ہلاک، 248 قیدی فرار

30 جولائ 2013

ای میل

عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد جیل کا بیرونی منظر۔ تصویر ظاہر شاہ
عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد جیل کا بیرونی منظر۔ تصویر ظاہر شاہ

پشاور: کل بروز پیر 29 جولائی کو پولیس یونیفارم میں ملبوس اور مارٹر گولوں سے مسلح حملہ آور دہشت گردوں نے پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جیل پر حملہ کیا اور اُس جیل میں قید سینکڑوں شدت پسندوں کو آزاد کروا کر لے گئے۔ اس سے پہلے سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان کافی دیر تک لڑائی جاری رہی جس میں دہشت گردوں کی جانب سے بھاری ہتھیار اور راکٹوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو طالبان شدت پسندوں کے مسلح حملے کے نتیجے میں203 سے زیادہ قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن میں انتہائی خطرناک سمجھے جانے والے دہشت گرد بھی شامل تھے۔

اے ایف پی کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے ایک سینیئر اہلکار مشتاق جدون نے ایک نجی پاکستانی ٹی وی چینل اے آر وائی کو بتایا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل پر کیے جانے والے اس شدید حملے میں تقریباً 12 افراد جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے، جبکہ سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”کل 243 قیدی فرار ہوئے تھے، جن میں چھ قیدیوں کو بعد میں پولیس نے گرفتار کرلیا۔ فرار ہونے والے ان قیدیوں میں سے تیس انتہائی خطرناک دہشت گرد ہیں۔“

ڈیرہ اسماعیل خان، جس کی سینٹرل جیل کو اس حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، خیبرپختونخوا صوبے کا ایک شہر ہے، جو آزاد قبائلی علاقے سے قریب ہے، ان علاقوں میں آئین و قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور یہ علاقے افغانستان کی سرحد سے منسلک ہیں، جہاں طالبان اور القاعدہ کے دہشت گرد متحرک ہیں۔

مشتاق جدون نے کہا کہ دہشت گرد درجنوں دھماکہ خیز ڈیوائسز جیل کے اندر نصب کر گئے تھے، ان میں اب تک 14 کو ناکارہ بنادیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جیل کو کلیئر کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام نے شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”میں میڈیا کے ذریعے اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔ اگر فوج، پولیس یا نیم فوجی دستے کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔“ مشتاق جدون نے کہا کہ تقریباً پچاس سے ساٹھ دہشت گرد جیل کے اندر داخل ہوئے اور دیگر نے جیل کے باہر سے جیل پر راکٹ فائر کیے ۔

مشتاق جدون نے کہا ”سب سے پہلے انہوں نے جیل کے مرکزی دروازے کے سامنے کھڑی ہوئی بکتر بند گاڑی کو راکٹ حملے سے تباہ کیا، جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔“

جیل کی سلاخیں توڑے جانے کا ایک منظر۔ تصویر ظاہر شاہ
جیل کی سلاخیں توڑے جانے کا ایک منظر۔ تصویر ظاہر شاہ

خالد عباس نے اے ایف پی سے کہا کہ سیکیورٹی فورسز جیل کے اندر داخل ہوگئی ہیں اور جیل کو محفوظ قرار دے دیا ہے، ہم فلیش لائٹ کی روشنی میں جیل میں موجود قیدیوں کی گنتی کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس کے بعد ہی ہم کہہ سکیں گے کہ کتنے قیدی فرار ہوئے ہیں، دراصل دہشت گردوں کے ساتھ مسلح تصادم  کی وجہ سے جیل میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے، اس لیے ہمیں اپنے کام میں بہت دشواری پیش آرہی ہے۔“

دہشت گردوں کے حملے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں دہشت گردوں کے فرار کا یہ واقعہ اس وقت سے چند گھنٹے قبل ہی پیش آیا ہے، جب کہ پاکستان کے اراکین اسمبلی پاکستان کے نئے صدر کا انتخاب کرنے جارہے ہیں۔

برطانوی عہد میں تعمیر کی گئی سینٹرل جیل کی یہ عمارت ڈان اخبار کے ضلعی نمائندے کے دفتر کے قریب ہی واقع ہے۔ اس جیل میں ہزاروں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، اور یہاں 250 کے لگ بھگ قیدیوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی نامی شدت پسند گروہ سے تھا۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ اس جیل میں پانچ ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے، اور تین سو کے قریب قیدیوں کا تعلق شدت پسند تنظیموں سے ہے، جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کے جرم میں ملوث ہیں۔اور گھات لگا کر جیل پر حملے کا مقصد بہت سے دہشت گردوں کو آزاد کروانا تھا۔

ڈان اخبار کے رپورٹر عرفان مغل کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردوں کے جیل پر حملے کے دوران راکٹ کے گرنے، گرینیڈ کے دھماکوں اور ہیوی مشین گنوں کی فائرنگ کی مسلسل آوازیں آتی رہیں۔کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے دھماکوں کا ایک سلسلہ جاری رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید بندوقوں سے کی جانے والی فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔اس دوران تیس سے چالیس تک دھماکے ہوئے۔

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے۔ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اے ایف پی کو بذریعہ فون بتایا ”150طالبان کے ہمراہ 60 خودکش بمباروں نے سینٹرل جیل پر حملہ کیا اور تقریباً تین سو قیدوں کو آزاد کروالیا۔“

تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ خالد عباس نے اے ایف پی کو بتایا کہ چالیس دہشت گرد جنہوں نے پولیس کی یونیفارم پہن رکھی تھی، جیل کی دیوار پر بموں سے حملہ کیا اور اس کے بعد جیل میں داخل ہوگئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا تھا کہ خودکش حملہ آور بھی اس حملے میں شریک ہیں، لیکن مسلسل دھماکوں کے درمیان بعض اوقات جیل کے محافظوں کی جوابی فائرنگ بھی ہوتی رہی، جو قیدیوں کی حفاظت کے لیے کررہے تھے۔

صوبائی جیل خانہ جات کے سربراہ خالد عباس  نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے جیل کے محافظوں پر ہینڈ گرینیڈز بھی پھینکے، اس حملے میں اب تک جیل کے عملے کے دو اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

سینئر ایڈمنسٹریشن آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان، عامر خٹک نے اے ایف پی سے کہا کہ کچھ قیدی جیل سے فرار ہوگئے ہیں، اور شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک شہری نے اے ایف پی کے نمائندے کو بتایا کہ زوردار دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، اور بجلی کی فراہمی شہر کے بہت سے حصوں میں معطل ہوگئی۔ ایک مقامی پولیس اہلکار نے کہا کہ اس نے دیکھا کہ دہشت گرد راکٹ لانچر اُٹھائے ہوئے ہیں اور جیل پر فائر کررہے ہیں۔

ڈان اخبار کے نمائندے کے مطابق بعض غیر مصدقہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ فوج جیل کے قریب پہنچنے کی کوشش کررہی تھی تاکہ اس کو محفوظ کرسکے، لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا وہ جیل کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوسکے تھے کہ نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حملے سے ایک دن پہلے کچھ قیدیوں نے جیل کے محافظوں سے رائفلز چھین لی تھی اور فرار ہوگئے تھے، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بعد میں یہ تسلیم کیا کہ قیدیوں کے فرار ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا، لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تمام دس کے دس قیدیوں کو جو فرار ہوگئے تھے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ترجمان نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ ”دہشت گردوں کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کو طلب کیا گیا تھا۔“ یاد رہے کہ پاکستان طالبان کی قیادت میں اندرونی بغاوت سے نبرد آزما ہے، 2007ء سے اب تک اس لڑائی میں ہزاروں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ صوبہ خیبر پختونخواہ، پرویز شوکت نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعہ میں جیل سے 175 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جن میں سے 35 ہائی پروفائل دہشتگرد تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کا شہر شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے کے نچلے حصے سے قریب ہے، جہاں اس نیم خودمختار علاقے کا ایک قصبہ جنڈولا واقع ہے۔

ڈان اخبار کے نمائندے عرفان مغل کا کہنا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا میں سینٹرل جیل پر دہشت گردوں کی طرف سے کیا جانے والا دوسرا بڑا حملہ ہے۔ ضلع بنوں کے قریب واقع سینٹرل جیل پر گزشتہ سال اپریل میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، اور سینکڑوں قیدوں کو آزاد کروا دیا تھا۔ ان قیدیوں میں پاکستان ایئرفورس کا ایک  سابق اہلکار عدنان رشید بھی شامل تھا،  جس نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

عدنان رشید نے بعد میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں انصارالاسیر نامی ایک گروپ کی قیادت کررہا تھا۔ اس نے اس سال کی ابتداء میں ایک وڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں اس نے پاکستانی جیلوں میں قید تمام شدت پسندوں کو رہا کروانے  اور پاکستانی جیلوں کے حکام کو ان کے قیدیوں کے ساتھ مبینہ ”غیر انسانی سلوک“ پر نشانہ  بنانے کا عہد کیا تھا۔

پی ٹی آئی میڈیا سیل

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) میڈیا سیل کے مطابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز شوکت نے حملے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔  میڈیا سیل کے مطابق پرویز خٹک نے حملے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے جیل حملے کو انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی قرار دیا۔

میڈیا سل کے مطابق جیل حملے میں غفلت کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک وفاقی حکومت ٹھوس پالیس نہیں دیتی اس وقت مکمل طور پر دہشتگردی کو روکنا ممکن نہیں۔