'اگر اولمپکس 2021 میں بھی نہ ہوئے تو دوبارہ منعقد نہیں ہوں گے'

29 اپريل 2020

ای میل

ٹوکیو اولمپکس کے سربراہ آئندہ سال اولمپکس کے انعقاد کے حوالے سے پراعتماد نظر آئے— فائل فوٹو: اے ایف پی
ٹوکیو اولمپکس کے سربراہ آئندہ سال اولمپکس کے انعقاد کے حوالے سے پراعتماد نظر آئے— فائل فوٹو: اے ایف پی

ٹوکیو اولمپکس کے سربراہ یوشیرو موری نے کہا ہے کہ اگر ٹوکیو اولمپکس 2021 میں منعقد نہ ہوئے تو پھر یہ دوبارہ کبھی منعقد نہیں ہوسکیں گے۔

رواں سال شیڈول ٹوکیو اولمپکس کو کورونا وائرس کے سبب ایک سال کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے اور اب گیمز کا انعقاد آئندہ سال 23جولائی سے 8 اگست تک ہوگا۔

ماہرین صحت نے آئندہ سال بھی اولمپکس کے انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین یا اس وائرس کے خلاف موثر کوئی دوا ایجاد ہوئے بغیر اولمپکس کا انعقاد خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔

جب ٹوکیو اولمپکس کے سربراہ یوشیرو موری سے پوچھا گیا کہ کیا اولمپکس کا انعقاد 2022 میں ہوسکے گا تو انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے اس تاثر کو یکسر مسترد کردیا۔

البتہ ٹوکیو اولمپکس کے صدر نے آئندہ سال اولمپکس کے انعقاد پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اس وائرس کے خلاف جنگ جیت کر گیمز کا انعقاد کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ماضی کے تمام اولمپکس کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر یقین رکھنا ہو گا ورنہ ہمیں اپنی سخت محنت اور کوششوں کا صلہ نہیں ملے گا۔

جاپان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر یوسی کاتے یوکو کورا نے کہا کہ ویکسین یا کسی موثر دوا کی تیاری کے بغیر اولمپکس 2021 کا انعقاد مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ جاپان کو اولمپکس کی میزبانی کرنی چاہیے یا نہیں لیکن اس طرح کی صورتحال میں ایسا ہونا مشکل ہو گا۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جاپان میں وائرس پر قابو پالیا جائے تب بھی جب تک باقی دنیا میں وائرس پر مکمل طور پر قابو نہیں پالیا جاتا، اس وقت تک گیمز کا انعقاد مشکل ہوگا۔

دوسری جانب اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ ویکسین کی تیاری 2021 کے وسط سے قبل ممکن نہیں اور اس بارے میں کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ یہ ویکسین کامیابی سے تیار کی جا سکے گی یا نہیں۔

اولمپکس کے سربراہ موری نے کہا کہ اگر گیمز کا انعقاد ہوتا ہے تو اولمپکس کی اختتامی تقریب اور پیرالمپکس کی افتتاحی تقریب ساتھ منعقد کی جا سکتی ہے تاکہ اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ صورتحال جس ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوئی ہے تو ہمیں اخراجات میں کمی کے لیے اختتامی و افتتاحی تقریب سمیت بہت چیزوں کے بارے میں سوچنا ہو گا لیکن یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔