عرفان خان اور ٹرین کا غلط ڈبا

30 اپريل 2020

ای میل

’میری امّی ہمیشہ کہا کرتی تھیں، کبھی کبھی غلط ٹرین بھی صحیح جگہ پہنچا دیتی ہے۔‘

فلم ’دی لنچ باکس‘ میں نواز الدین صدیقی کا یہ سادہ سا ڈائیلاگ درحقیقت گہری معنویت کا حامل ہے۔ انسان کتنی ہی منصوبہ بندی کر لے، اتفاقات کے آگے بندھ نہیں باندھا جاسکتا اور کبھی کبھی یہی ہماری زندگی کا رخ متعین کرنے والی قوت بن جاتے ہیں۔

جیسے فلم ’دی لنچ باکس‘ میں ایک ٹفن غلطی سے عرفان خان کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور یوں شروع ہوتی ہے کہ ایک ایسی دل موہ لینے والی کہانی، جسے بولی وڈ کی چند بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاسکتا ہے۔

دی لنچ باکس کا ٹریلر

1966ء میں جے پور میں پیدا ہونے والے عرفان خان نے ٹرین تو صحیح پکڑی، مگر ڈبا غلط تھا اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی ڈبے کے ذریعے اس نے نہ صرف بولی وڈ، بلکہ انٹرنیشنل سنیما تک رسائی حاصل کی، اور دنیا کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہاں تک کہ جب اس کی موت پر شاہ رخ خان نے تعزیتی ٹویٹ کیا، تو اسے اپنے عہد کے عظیم ترین اداکار کے طور پر یاد کیا۔ مگر کیا وہ واقعی عظیم ترین تھا؟

ایک چھوٹے سے شہر ٹونک میں شعور کی آنکھ کھولنے والے اس بچے کے ذہن میں پہلے پہل اس وقت اداکار بننے کا شوق جاگا، جب کسی نے یہ کہا کہ اس کی شکل متھن چکروتی سے ملتی ہے۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں متھن کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔

کہانیوں کا دل دادہ یہ نوجوان جب سنیما کی سمت آیا تو وہ نصیر الدین شاہ تھا جس نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ البتہ متھن اور نصیر الدین شاہ کے برعکس اس نے الگ راہ چنی یا شاید یہی تقدیر کا فیصلہ تھا۔

یہ عرفان خان ہی تو تھا، جس نے چند عشروں بعد زندگی کے حقائق کو منظر کرتی فلموں کے لیے کمرشل سنیما کے ناظرین میں حیران کن قبولیت پیدا کی اور ’سپر اسٹارز‘ اور ’ایکٹر‘ کی درمیانی خلیج بڑی حد تک پاٹ دی۔

وہ ان اداکاروں کا نمائندہ تھا، جو نہ تو سلمان خان کی طرح دبنگ تھے، نہ ہی عامر خان کی طرح خوب رو، مگر اپنے فن کا لوہا منوانے کے آرزو مند تھے۔ عرفان خان سے پہلے یہ اداکار کم بجٹ کی معیاری فلموں تک محدود تھے، یا اگر کمرشل فلموں میں دکھائی بھی دیتے تو کچھ دیر کو۔ مگر عرفان کا فن اتنا پرقوت تھا کہ وہ ناظرین کے دلوں میں گھر کر گیا اور بڑے بینر کے فلم پرڈیوسرز بھی ان کی سمت متوجہ ہونے سے خود کو نہ روک پائے۔

ایک جانب جہاں 15 کروڑ میں بننے والی اس کی فلم ’تلوار‘ 30 کروڑ کا بزنس کرکے ہٹ قرار پاتی، تو وہیں ’پیکو‘ اور ’ہندی میڈیم‘ طلسماتی جست لگا کر ’100 کروڑ کلب‘ کے نزدیک پہنچ جاتیں۔ ’ہندی میڈیم‘ نے جہاں بین الاقوامی سطح پر خوب داد بٹوری، وہیں چین کے باکس آفس پر تہلکا مچا کر فلمی پنڈتوں کو بھی حیران کردیا۔ عرفان خان کی آخری فلم اسی فلم کا سیکوئیل تھی، جس کی پروموشن میں ہم نے اس کی کینسر سے جوجھتی آواز آخری بار سنی۔

تو صاحبو، قصہ کچھ یوں ہے کہ ہولی وڈ تک رسائی کے ساتھ ساتھ اس اداکار نے بولی وڈ میں خانز کی موجودگی کے باوجود وہ کامیابی حاصل کی، جس کے طفیل پہلی بار سنجیدہ اداکاروں کو بھی ’اسٹار‘ کا درجہ حاصل ہوگیا اور ان کی فلمیں لیپ ٹاپ کے بجائے ٹکٹ خرید کر سنیما کے پردے پر دیکھی جانے لگیں۔

آج جب راج کمار راؤ اور ایوش مان جیسے محنتی اداکاروں کی فلمیں ، جن میں content کو خصوصی اہمیت حاصل ہو، وہ سہولت سے ’100 کروڑ‘ کلب کا حصہ بن رہی ہیں، اور اس کے پیچھے عرفان خان کی مسلسل محنت اور طویل جدوجہد ہے، مگر شاید یہ محنت لاحاصل رہتی، اگر وہ کمرشل فلموں کے ڈبے میں سوار نہ ہوا ہوتا۔

ہندی میڈیم کا ٹریلی

صاحبو، یہ کمرشل سنیما ہی ہے جس کے سایہ تلے متوازی یا آرٹ سنیما پنپ سکتا ہے۔ ایک کامیاب فلم انڈسٹری ہی میں، جہاں کرن جوہر اور راج کمار ہیرانی موجود ہوں، وشال بھردواج اور انوراگ کیشپ کو اپنا منفرد کام ناظرین تک پہنچانے کا موقع میسر آتا ہے۔ عرفان کی بے بدل اداکاری کو شاید ہی یہ پذیرائی ملتی، اگر اس نے عام سی کمرشل فلموں میں، معمولی کردار نہ کیے ہوتے، کیونکہ اس کے خواب بڑے تھے، اس لیے کہ وہ ان معمولی کرداروں کو جی جان سے ادا کرتا گیا اور یوں دھیرے دھیرے اس نے فلم بینوں کے دلوں تک رسائی حاصل کی اور پروڈیوسرز کو اس پر 10، 15 کروڑ لگانے کا حوصلہ دیا۔

1988ء میں اپنا کیرئیر شروع کرنے والے عرفان خان نے ابتدا میں تو وہی فلمیں کیں جنہیں کرنے والے باصلاحیت اداکاروں کو سراہا تو جاتا ہے، مگر انہیں دولت اور شہرت نصیب نہیں ہوتی۔ البتہ 2000ء کے بعد جب وہ ہمیں مہیش بھٹ کی ’قصور‘ اور ’گناہ‘ جیسی روایتی مگر کمرشل فلموں میں نظر آیا تو اسے پہلے پہل ایک ایسے اداکار کے طور پر شناخت کیا گیا، جو چھوٹے موٹے رول نبھانے کے لیے موزوں تھا۔

انسان کے ساتھ پیٹ لگا ہے۔ کبھی کبھی سطحی، بلکہ احمقانہ کردار بھی قبول کرنے پڑتے ہیں۔ جہاں ہم عرفان کو ’مقبول‘، ’پان سنگھ تومار‘، ’بلوباربر‘ کے لیے یاد کرتے ہیں، وہیں وہ کیریئر کی ابتدا میں ’دھند‘ جیسی دوسرے درجے کی فلموں میں بھی دکھائی دیا۔ اس نے یکسانیت زدہ منفی رول کیے۔ البتہ ’سپاری‘ ہو یا ’آن‘، اس نے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔

پان سنگھ تومار کا ٹریلر

2003ء میں ریلیز ہونے والی ’مقبول‘ نے داد تو بہت بٹوری، مگر باکس آفس پر یہ زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ 2005ء میں ’روگ‘ جیسی چھوٹی بجٹ کی فلموں میں عرفان خان کو ’لیڈ‘ کے طور پر کاسٹ کرنے کا ابتدائی تجربہ ہوا۔ 2006ء میں جہاں وہ ’دی نیم سیک‘ جیسی معیاری فلم میں دکھائی دیا، وہیں ہم نے اسے عمران ہاشمی کے ساتھ ’دی کلر‘ جیسی روایتی فلم میں بھی دیکھا۔ ’مائٹی ہارٹ‘ کرنے کے باوجود اس نے ’سنڈے‘، ’چمکو‘ اور ’غنڈے‘ جیسی فلمیں کیں، جن کے پوسٹرز پر بھی اسے جگہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

مقبول کا ٹریلر

مگر عرفان خان ٹرین کے اس ڈبے سے نہیں اترا۔ اس نے روایتی کمرشل فلموں میں کام جاری رکھا۔ اسی وجہ سے ایک معروف نقاد نے کرن جوہر کے پروگرام میں اسے ایک ’اوور ریٹڈ‘ اداکار قرار دیا تھا، جسے غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اور شاید ایک حد تک ایسا تھا بھی۔ عرفان نے اپنے تاثرات اور عوامی ڈھب پر ادا کردہ مکالموں سے ہمیں متاثر ضرور کیا، مگر اپنی ٹون (لہجہ) وہ فقط تب ہی تبدیل کرسکا، جب اسے اچھے ہدایتکار میسر آئے۔ ’عاشقی‘ کی لازوال کامیابی کے بعد راہول رائے سے ایک ہی طرز کے کرداروں کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ یہی مسئلہ ’گینگ آف واسع پور‘ کے بعد نواز الدین صدیقی کو بھی درپیش رہا۔ سبب، کمرشل تقاضے۔ البتہ عرفان اور نواز الدین راہول رائے کے مقابلے میں خوش قسمت رہے۔ پھر وہ اداکار بھی بہتر تھے۔

2012ء میں عرفان کو اس کی تپسیا کے پھل ملنے لگے۔ ’پان سنگھ تومار‘، ’لائف آف پائی‘ اور ’دی امیزنگ اسپائیڈر مین‘ اسی سال ریلیز ہوئیں۔ بعد کی کہانی تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ شخص، جس کے پاس کبھی فلم ’دی جراسک پارک‘ کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے نہیں تھے، 2015ء میں اسی فرنچائز کی فلم میں وہ جلوہ گر ہوا۔

لائف آف پائی

آج سوچتا ہوں، اگر عرفان خان کمرشل سنیما کے ڈبے میں سوار نہ ہوتا اور متوازی سنیما تک ہی محدود رہتا تو کیا اس کے کریڈٹ میں وہ شاندار فلمیں ہوتیں، جنہوں نے ایک زمانے کو دیوانہ بنایا، باکس آفس پر جھنڈے گاڑے اور جن کے طفیل، اپنی کربناک موت کے بعد اس نے امتیابھ بچن سے رجنی کانت تک، سب کو سر جھکانے پر مجبور کردیا۔

آج عرفان کو کنگ، پرفیکشنسٹ یا بھائی جان جیسے سابقوں لاحقوں کی ضرورت نہیں۔ اس کی مسلسل محنت، جدوجہد اور لچک (لچک، جو اس نے روایتی فلموں کے انتخاب میں دکھائی) نے اسے بولی وڈ کی جدید تاریخ کا وہ پہلا اداکار بنا دیا، جس نے مسالا اور متوازی سنیما کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا، اور پھر زندگی کے آخری برسوں میں بیماری سے برسرِ پیکار اس کے احساسات نے، جو دل میں اتر جانے والے الفاظ کے ذریعے ہم تک پہنچے، اسے اساطیری حیثیت دے دی۔

تو کبھی کبھی غلط ٹرین بھی صحیح جگہ پہنچا دیتی ہے۔ عرفان صحیح جگہ پہنچ چکا تھا اور اسے مزید آگے جانا تھا۔ ستاروں سے آگے، اور وہ خوابوں کا بستہ اٹھائے محو سفر تھا کہ (اس کے اپنے الفاظ میں) ٹکٹ کلیکٹر نے پیٹھ تھپک کر کہا: ’آپ کا اسٹیشن آگیا، اتر جائیں‘۔

تو کیا عرفان خان اِس عہد کا عظیم ترین اداکارہ تھا؟

وقت نے اپنا فیصلہ لکھنا شروع کردیا ہے اور وقت ہی کا فیصلہ حتمی قرار پائے گا۔