پاکستان میں ایک سال میں 7 صحافی قتل کردیے گئے، رپورٹ

اپ ڈیٹ 01 مئ 2020

ای میل

ملک میں 7 صحافی قتل کردیے گئے — فائل فوٹو: اے ایف پی
ملک میں 7 صحافی قتل کردیے گئے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان میں ایک سال کے دوران میڈیا کے خلاف حملوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے 91 مختلف واقعات سامنے آئے جس میں 7 صحافیوں کا قتل بھی شامل ہے۔

پاکستان میں میڈیا کے خلاف ہونے والی کارروائیاں— فریڈم نیٹ ورک رپورٹ
پاکستان میں میڈیا کے خلاف ہونے والی کارروائیاں— فریڈم نیٹ ورک رپورٹ

دنیا بھر میں تین مئی کو منائے جانے والے آزادی صحافت کے دن کے حوالے سے فریڈم نیٹ نے پاکستان پریس فریڈم رپورٹ سال 20-2019 جاری کردی جس میں ان واقعات کے بارے میں بیان کیا گیا۔

'قتل، ہراساں کیا جانا اور حملے: پاکستان میں صحافیوں کے لیے مشکلات' کے عنوان سے شائع اس رپورٹ میں مئی 2019 سے اپریل 2020 تک کے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 5 برس کے دوران 33 صحافی قتل کردیے گئے، رپورٹ

اس حوالے سے جاری ایک بیان کے مطابق رپورٹ میں ایک سال کے واقعات کے حوالے سے بتایا گیا کہ گزشتہ سال مئی سے رواں سال اپریل کے دوران 7 صحافیوں اور ایک بلاگر کے قتل سمیت میڈیا نمائندوں پر تشدد کے اور ذرائع ابلاغ کے خلاف 91 واقعات منظر عام پر آئے۔

'نمایاں خلاف ورزیاں'

مذکورہ رپورٹ کے مطابق ان واقعات سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حوالے سے صحافیوں کو مسلسل دھمکایا اور ہراساں کیا جارہا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں میں ایک سال کے عرصے میں 91 واقعات سامنے آئے، ان اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی کہ ہر ماہ اوسطاً 7 واقعات رونما ہوئے یا پھر یوں کہیں کہ ہر ہفتے میں 2 واقعات سامنے آئے۔

میڈیا کے خلاف ان خلاف ورزیوں کے واقعات میں 7 صحافیوں کا قتل، 2 کا اغوا، 9 کی گرفتاری، 10 پر حملے، 23 افراد کو دھمکانا، 8 کے خلاف قانونی کارروائی اور سینسرشپ کے 10 کیس شامل ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ خلاف ورزیوں کی تین اہم اقسام میں زبانی دھمکیوں کا شمار ہے، جس کے 23 کیس منظر عام پر آئے ہیں، ان میں سے قتل کی دھمکیوں کا شمار (25 فیصد)، آن لائن اور آف لائن ہراساں کیے جانے کے 13 کیس (14 فیصد) اور قتل کی کوششوں کے 11واقعات (12 فیصد) سامنے آئے ہیں جس کے نتیجے میں 7 صحافیوں کا قتل ہوا۔

'صحافیوں کیلئے خطرناک علاقہ'

رپورٹ میں پاکستان میں صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقہ کونسا رہا اس بارے میں جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ اسلام آباد صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک کام کرنے والی جگہ رہی اور 91 میں سے 31 واقعات وفاقی دارالحکومت میں سامنے آئے۔

پاکستان میں اسلام آباد سب سے زیادہ خطرناک علاقہ رہا— فریڈم نیٹ ورک رپورٹ
پاکستان میں اسلام آباد سب سے زیادہ خطرناک علاقہ رہا— فریڈم نیٹ ورک رپورٹ

صحافیوں کے لیے دوسرے نمبر پر سب سے خطرناک جگہ صوبہ سندھ رہا جہاں ایک سال میں 24 کیسز ریکارڈ ہوئے، اس کے علاوہ پنجاب میں 20، خیبرپختونخوا میں 13 اور بلوچستان میں 3 کیس رپورٹ ہوئے۔

'نشانہ بنایا جانے والا ذریعہ'

مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک سال کے عرصے میں پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیلی ویژن میڈیا کے صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ٹی وی میڈیا کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا— فریڈم نیٹ ورک رپورٹ
ٹی وی میڈیا کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا— فریڈم نیٹ ورک رپورٹ

ایک سال کے رپورٹ 91 کیسز میں سے 63 ٹیلی ویژن میڈیا کے صحافیوں کے خلاف تھے جبکہ پرنٹ میڈیا کے بھی 25 افراد کے خلاف کیس سامنے آئے، مزید یہ کہ آن لائن صحافیوں کے 3 جبکہ ریڈیو سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا کوئی کیس درج نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2019، صحافیوں، سیاستدانوں اور ایکٹویسٹس کے لیے مشکل ثابت ہوا، رپورٹ

'دھمکیاں دینے والے عناصر'

فریڈم نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں میڈیا کو سب سے زیادہ دھمکیاں دینے والے عناصر کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ 91 میں سے 42 فیصد کیس میڈیا کے افراد کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں پر درج کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ان نشانہ بنانے والے میڈیا کارکنان کے خاندان کے افراد کا ماننا تھا کہ اس میں ریاست، اس کے ادارے، سیاسی پارٹیاں، مذہبی اور مجرم گروہ سمیت بااثر افراد اور نامعلوم ذرائع شامل تھے۔

دھمکیاں دینے والے عناصر—فوٹو: فریڈم نیٹ ورک رپورٹ
دھمکیاں دینے والے عناصر—فوٹو: فریڈم نیٹ ورک رپورٹ

علاوہ ازیں اس حوالے سے جاری بیان میں فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں صحافت کو کنٹرول کرنے کی غرض سے سینسرشپ کے مختلف طریقے استعمال کیے جارہے ہیں جن میں صحافیوں کا قتل، انہیں دھمکیاں دینا اور ہراساں کرنا شامل ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں میں کوئی بھی جگہ صحافیوں کے لیے محفوظ نہیں۔