ایک بے ترتیب مقدمے کی رُوداد

اپ ڈیٹ 16 مئ 2020

ای میل

جیل میں آتے ہی اس نے انسپکٹر صاحب کو بتایا تھا کہ کچھ دنوں سے اسے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے اس کی زندگی ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے، وہ ذہن پر زور دے کر سوچتا ہے لیکن کوئی بھی منظر مکمل نہیں ہوتا۔

61 سال گویا دانے دانے ہوگئے ہوں، گزشتہ 2 سال سے اسے یہ مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے وہ بھول جاتا ہے کہ 5 منٹ پہلے کیا ہوا تھا اور بعض اوقات اسے بچپن کی کوئی بات یاد آجاتی ہے۔ اسے اپنی یادداشت پر بالکل بھی بھروسہ نہیں تھا، وہ وثوق سے نہیں بتا سکتا کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط۔

ٹکڑا نمبر ایک

اوپر بیان کیا گیا کردار جو ایک بوڑھا مالدار شخص ہے، 10 روز سے جیل میں قید ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے پڑوسی ہارون کمال کے گھر داخل ہوکر ان کے چوکیدار کو قتل کردیا ہے۔ وہ جیل کی کوٹھڑی کی چھت کو گھورتا رہتا تھا، سلاخوں کے پار موجود کانسٹیبل دن میں 4 دفعہ ایک جملہ ضرور دُہراتا ہے۔

’اس عمر میں قتل کرنے کی کیا ضرورت تھی، جب کہ آدمی کے پاس اتنی دولت بھی ہو۔‘

ٹکڑا نمبر دو

یہ ایک کمرہ عدالت ہے اور بوڑھے حمید احمد کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ اس کا پڑوسی عدالت میں موجود تھا، ساتھ چوکیدار کی بیوی بیٹھی تھی جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے دوپٹے سے آنسو پونچھ لیتی۔ جج نے ملزم سے سوال کیا کہ وہ 3 اپریل کو ہونے والے واقعے کی ساری صورتحال بیان کرے۔

بیان نمبر 1

’میں اس دن اپنے گھر پر موجود تھا، میں عموماً اپنے گھر پر ہی رہتا ہوں، مجھے ریٹائرڈ ہوئے ایک سال ہوگیا ہے، بیوی فوت ہوگئی ہے اور میرا بیٹا انگلینڈ میں رہتا ہے، یا شاید وہ کینیڈا میں رہتا ہے، نہیں آسٹریلیا میں رہتا ہے۔ دراصل میری یادداشت اب بالکل کام نہیں کرتی اس لیے میں گھر ہی میں رہتا ہوں۔ معزز جج نے ڈاکٹروں کی رپورٹس بھی ملاحظہ کی ہوں گی، جو میرے ڈیمنشیا کے مرض کے متعلق ہیں، اس دن میں گھر کی پہلی منزل پر موجود کمرے میں اخبار پڑھ رہا تھا کہ مجھے چیخ کی آواز سنائی دی۔‘

بیان نمبر 2

’معذرت میں بھول گیا تھا، چیخ کی آواز 5، 6 دن پہلے سنائی دی تھی، جس دن کی آپ بات کر رہے ہیں اس دن مجھے چیخ سنائی نہیں دی تھی بلکہ اس رات مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو میں چھت پر چلا گیا۔ ایسا عموماً میرے ساتھ ہوتا ہے، رات کھانا زیادہ کھالوں تو ہضم نہیں ہوتا اور نیند نہیں آتی، سینہ جلتا رہتا ہے، تو میں کہہ رہا تھا کہ میں چھت پر چہل قدمی کر رہا تھا کہ مجھے یاد آیا کہ جہانگیر صاحب جو میرے پڑوسی ہیں، ان کے گھر 5، 6 دن پہلے کسی عورت کے چیخنے کی آوازیں آئی تھیں۔ مجھے بہت سی باتیں بھول جاتی ہیں اور کبھی کبھار بہت پرانی باتیں یاد آجاتی ہیں، تو چھت پر چہل قدمی کرتے مجھے 5 دن پہلے کا واقعہ یاد آگیا۔‘

بیان نمبر 3

’میں معزز جج کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے بتایا کہ میرے پڑوسی کا نام جہانگیر نہیں ہارون ہے، بالکل ان کا نام ہارون ہے اور یہ اکثر اپنی بیوی سے لڑتے رہتے ہیں، میں اپنی چھت سے دیکھتا رہتا ہوں۔ اس رات جب مجھے خیال آیا کہ ایک عورت کچھ روز پہلے بے تحاشا چیخ رہی تھی تو میں بہت بے چین ہوگیا، میں نے کہا مجھے خود اس بارے میں تفتیش کرنی چاہیے سو میں صحن کی دیوار پر سیڑھی رکھ کر ان کے گھر اتر گیا۔ جیسے ہی صحن میں اُترا تو ان کا کتا بھونکنے لگا اور مجھے ٹانگ پر کاٹ لیا جس کی وجہ سے مجھے 14 ٹیکے لگے تھے اور میں کئی دن سو نہ سکا۔

بیان نمبر 4

’میں معذرت چاہتا ہوں 2 مختلف واقعات آپس میں گڈمڈ ہوگئے تھے۔ کتے کے کاٹنے اور چودہ ٹیکے لگنے کا واقعہ تو میرے بچپن کا ہے، جب ہم لوگ جھنگ میں رہتے تھے۔ میرے والد کی وہاں ریڈیو کی دکان تھی۔ ہم 4 بہن بھائی تھے، انور بھائی جو مجھ سے بڑے تھے، ہائے افسوس روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگئے تھے۔ اوہ! یہ کتنا دلگداز واقعہ تھا۔ مجھے مدت بعد انور بھائی یاد آگئے۔‘

بوڑھا یہ کہہ کر رونے لگا۔

بیان نمبر 5

’آہ! میں کہاں سے کہاں نکل گیا، عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے کی معذرت چاہتا ہوں۔ وہ میں کہہ رہا تھا کہ جب میں ان کے صحن میں اُترا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کمرے کے نزدیک پہنچا جہاں سے روشنی باہر آرہی تھی تو میں نے دیکھا وہی چوکیدار جس کے قتل کا مجھ پر الزام ہے، وہ ہارون صاحب سے جھگڑا کر رہا تھا۔ مجھے یاد کرنے دیجیے، ہاں ہاں وہ ان سے اپنے حصے کی رقم کا تقاضا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ پولیس کو سب کچھ بتا دے گا۔‘

بیان نمبر 6

’جی بالکل چوکیدار انہیں یہی کہہ رہا تھا اور میں آپ کو بتاتا چلوں کئی روز سے مجھے ان کی بیوی شاہدہ، نہیں، نہیں اس کا نام شمائلہ ہے، نظر نہیں آرہی اور اس دن چیخیں بھی سنائی دے رہی تھیں، شاید انہوں نے اپنی بیوی کو چوکیدار کے ساتھ مل کر قتل کردیا ہے اور یہ سب کچھ مجھے پھنسانے کی سازش ہو۔ ابھی یہ کہہ دیں گے کہ میں نے ان کی بیوی کو بھی اغوا کیا ہے اور خود یہ اس معاملے سے آرام سے نکل جائیں گے۔ انہوں نے چوکیدار کو قتل کردیا ہے کہ کہیں وہ ان کا راز نہ فاش کردے اور یہ بھی ممکن ہے وہ راز کو چھپانے کی بہت زیادہ قیمت مانگ رہا ہو۔‘

گمشدہ شمائلہ کے شوہر ہارون صاحب کا بیان

’جس روز چوکیدار کا قتل ہوا، اس روز سے میں نے اپنی بیوی شمائلہ کو نہیں دیکھا، اس کی گمشدگی کی رپورٹ میں نے پولیس میں درج کرا دی تھی۔ ہاں میں مانتا ہوں کہ ہمارے درمیان اختلافات تھے لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا کہ میں اسے اغوا کروالوں، یہ امیر بوڑھا مجھ پر الزام لگا کر خود بچنا چاہتا ہے۔ جلد یا بدیر شمائلہ مل ہی جائے گی۔ میں نے انہیں چوکیدار پر گولی چلاتے تو نہیں دیکھا، مجھے نہیں معلوم کہ وہاں میرا پستول کیسے پہنچ گیا، ہوسکتا ہے اس بوڑھے نے پستول بھی چرایا ہو، اس روز میں نے جب گولی چلنے کی آواز سنی تو میں دوڑ کر کمرے سے نکل کر باہر آیا تو دیکھا کہ چوکیدار کی لاش کے پاس یہ بوڑھا بے ہوش پڑا تھا اور کوئی سایہ گیٹ پار کر رہا تھا۔ تبھی میں نے فوراً فون کرکے پولیس کو بلا لیا۔‘

ہارون صاحب کے مالی کا بیان

’میں اکثر دیکھتا تھا کہ ہارون صاحب اپنی بیوی سے لڑتے رہتے تھے اور بارہا انہوں نے بیگم صاحبہ کو مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔‘

چوکیدار کی بیوی کا بیان

’2 ماہ سے انہوں نے میرے شوہر کو تنخواہ نہیں دی تھی، وہ روز ان سے تنخواہ کا مطالبہ کرتا تھا، مجھے بھی ہارون صاحب پر شک ہے۔ شاید انہوں نے ہی اسے مار ڈالا ہے۔

معزز جج کا فیصلہ

’گواہان اور ثبوتوں کومدِنظر رکھتے ہوئے عدالت حمید احمد کو باعزت بَری کرتی ہے اور پولیس کو حکم دیتی ہے کہ ملزم ہارون کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمے کا چالان جمع کرایا جائے۔

کہانی سے جڑا ایک اور ٹکڑا

حمید احمد اپنے پڑوسی کے خلاف مقدمے کا فیصلہ آنے تک اپنے گھر میں ہی رہے اور وقتاً فوقتاً عدالت میں بیان دینے کے لیے بھی جاتے رہے، حتٰی کہ ایک روز عدالت نے ہارون کمال کو چوکیدار کے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزادے دی۔

اس کے بعد انہوں نے اپنی کوٹھی اور گاڑی بیچ دی اور کینیڈا کے شہر ٹورنٹو چلے گئے جہاں وہ اپنی نئی بیوی شمائلہ کے ساتھ مل کر ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں اور کوئی بھی بات نہیں بھولتے!