کورونا کے بعد بنتا نیا عالمی نظام: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

20 مئ 2020

ای میل

لکھاری فری لانس صحافی ہیں۔
لکھاری فری لانس صحافی ہیں۔

عالمی وبا تو تھمنے کا نام نہیں لے رہی مگر ہم تو ٹھہرے بے صبرے سو وبا کے بعد کا مستقبل جاننے کی تڑپ نے بے چین کیا ہوا ہے۔ جس ایک سوال نے بے چین کیا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کیا کورونا وائرس مستقبل کے عالمی نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے والا ہے؟ اگر ہاں تو وہ نیا عالمی نظام کیسا ہوگا۔

جواب جو بھی ہو لیکن ایک بات واضح نظر آرہی ہے کہ پاکستان اس نئے عالمی نظام کے لیے تیار تصور نہیں ہورہا اور اس وقت تک یہ تیار نہیں ہوگا جب تک پاکستان اپنی فرسودہ خارجہ پالیسی سے جان چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

جغرافیائی سیاست سے متعلق جنم لینے والا سوال دراصل چین اور امریکا کے درمیان تناؤ کا شاخسانہ ہے۔ وبائی حالات سے قبل ٹیرف اور تجارت پر جاری تکرار اب پروپیگنڈا جنگوں کی صورت میں شدت اختیار کرچکی ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں سپر پاور ایک دوسرے پر وائرس کے پھیلاؤ کا الزام دھرتے نظر آتے ہیں۔

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بار بار کورونا وائرس کو 'چینی وائرس' پکارے جانے پر حسبِ منشا اثرات مرتب ہوئے، جس کا اندازہ PEW کے سروے سے لگایا جاسکتا ہے۔ مارچ میں کرائے گئے سروے میں 66 فیصد امریکیوں نے چین مخالف رائے کا اظہار کیا، واضح رہے کہ PEW نے امریکیوں سے سوال پوچھنے کا سلسلہ 2005ء میں شروع کیا تھا، لیکن اس سے پہلے چین مخالف امریکیوں کی اتنی بڑی تعداد کبھی سامنے نہیں آئی تھی۔

دوسری طرف چین نے عالمی حکمرانی پر قابض ہونے کے لیے اپنی صلاحیت اور طاقت کو ثابت کرنے کی خاطر وبا سے لڑنے کے لیے امریکی کمزوریوں اور دنیا سے الگ تھلگ رہنے کی حکمت عملی کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ہے۔

جہاں امریکا اور برطانیہ کو کورونا وائرس ٹیسٹنگ کے سلسلے کو وسعت دینے میں مشکلات کا سامنا ہے وہیں چین نے ووہان کے ہر ایک شہری کا ٹیسٹ کرنے کا پلان پیش کردیا ہے۔ چینی اخبارات روزانہ ان خبروں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں کہ وائرس پر ضابطہ لانے کے لیے ان کی حکومت کے اختیار کردہ طریقے کو کس طرح پوری دنیا میں اختیار کیا گیا ہے۔

اور ایک طرف جہاں مغربی ممالک نے ایک دوسرے کو طبّی سامان کی ترسیل بند کردی ہے وہیں چین عالمی سورمہ بن کر ابھرا ہے اور چہرے کے ماسک، سانس لینے والے آلات اور وینٹی لیٹر کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور انہیں پوری دنیا میں کھلے دل کے ساتھ تقسیم کرتا جا رہا ہے۔

سربیا کے صدر نے چین کے بدلتے تاثر کو اس وقت ثابت کردیا جب انہوں نے یورپی اتحاد کو 'پریوں کی کہانی' پکارتے ہوئے مسترد کردیا اور چین کو وہ واحد ملک قرار دیا جو ان کے ملک کی عوام کی معتبر انداز میں مدد کرسکتا ہے۔

تو کیا ایک نئی سرد جنگ ہونے کو ہے؟ آئندہ ایک عرصے تک تو اس کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ دراصل امریکا اور چین اقتصادی اعتبار سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ کسی فوری بحران کا واقع ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ برآمدات کے اعتبار سے چین امریکا کی تیسری سب سے بڑی اور تیزی سے پھلتی پھولتی منزل ہے جبکہ سب سے زیادہ امریکی خزانے کی سیکیورٹیز بھی چین کے پاس ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان حال ہی میں تجارتی خسارے کو کم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے تحت چین نے امریکا سے اضافی 200 ارب ڈالر کی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکا عالمی وبا سے متعلق سپورٹ پیکجوں اور بیل آؤٹ کے لیے جس بڑے پیمانے پر پیسے خرچ کر رہا ہے ایسے میں واشنگٹن چینی مطالبے کو نظر انداز کرنے کی حالت میں نہیں ہوگا۔ (ستم ظریفی تو دیکھیے کہ امریکا بھی جلد اہم طبّی سامان خریدنے کے لیے چین کا رخ کرے گا کیونکہ اس وقت امریکا میں عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ ماسک کی تعداد کے مقابلے میں صرف ایک فیصد ماسک دستیاب ہیں اور سانس لینے والے آلات کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے، جبکہ مطلوبہ وینٹی لیٹروں کے مقابلے میں صرف 10 فیصد وینٹی لیٹر دستیاب ہیں)

دوسری طرف چین کے لیے بھی سب اچھا نہیں ہے بلکہ اس کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں چونکہ برآمدات کا حصہ 20 فیصد ہے اور عالمی وبا سے پہلے ہی اقتصادی پیداوار تنزلی کا شکار ہو رہی تھی، اس لیے وہ کبھی بھی غیر ملکی طلب کے سب سے بڑھ کر ذریعے کو گنوانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پھر امریکی ٹیکنالوجی اور جدت، ڈالر منڈیوں اور عالمی سپلائی چین، جس میں امریکا بھی شامل ہے، چین وہاں تک رسائی کا سلسلہ بحال رکھنا چاہتے ہے۔

مگر عالمی وبا نے دنیا کی تمام ریاستوں کے سامنے ان کے وجود سے متعلق چند بنیادی سوال رکھ دیے ہیں جس کے جوابات ممکن ہے کہ دو قطبی امریکا بمقابلہ چین عالمی فریم ورک کے لیے راہ ہموار کرسکتے ہیں۔

جمہوریت یا آمریت؟ تحفظِ تجارت یا آمریت؟ سرکاری یا نجی شعبہ؟ مرکزیت پسندی یا علاقائی سوچ؟ جب ممالک یہ فیصلہ کریں گے کہ عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے انہیں کون سا راستہ چننا ہے تو اس طرح وہ قدرتی طور پر کسی ایک سپرپاور کی صف کی طرف بڑھتے پائیں گے۔

چند ایسے بھی متحرک عناصر ہیں جو ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی اس قسم کی تقسیم کو متاثر یا مؤخر کرسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ (یا اس کی ذیلی عالمی ادارہ صحت) جیسے بین المملکتی اداروں کے کردار اور اہمیت آئندہ کچھ عرصے میں بحال ہوسکتی ہے کیونکہ ہم سب عالمی وبا سے نجات پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

متوسط حیثیت کے ملکوں کے درمیان، مسئلے کی بنیاد پر عارضی اتحاد قائم کرنے کی ایک نئی ریت بھی وجود میں آسکتی ہے۔ ایسے کئی ملکوں کی مثالیں سامنے آئی ہیں جو امریکا اور چین دونوں کے طرزِ عمل میں خود کو تنہا پا رہے ہیں اور مسائل کے حل کے لیے نئے اتحاد کی بنیاد ڈالی۔

مثلاً، ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد جب امریکا ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ سے الگ ہوا تو آسٹریلیا اور جاپان مشترکہ طور پر ٹی پی پی-11 تجارتی اتحاد کا قیام عمل میں لائے۔ دیگر وہ مسائل جن کی بنا پر آئندہ دہائیوں کے دوران امریکا اور چین کے اثر و رسوخ سے آزاد بین المملکتی اتحاد قائم ہوسکتے ہیں ان میں موسمیاتی تبدیلی، منظم علاقائی سپلائی چین، کارپوریٹ شفافیت اور ٹیکس چھوٹ، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور سائبر نگرانی شامل ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ بدلتی جغرافیائی سیاست کے طوفان میں اپنی کشتی پار لگا سکے۔ ایک ایسی دنیا میں بھارت مخالف روش ہمارے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی جہاں ملکوں کے درمیان اتحاد ایک ایک مسئلے کی بنیاد پر جڑتے اور ٹوٹتے ہوں۔ ہم چین کی سیٹلائٹ ریاست بن کر بھی آرام سے نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ اس طرح پھر ہمارے اوپر ایسے غیر معمولی مسائل (آئی ایم ایف قرضہ، افغانستان) کی تلوار لٹکتی رہے گی جن پر امریکا کا اثر و رسوخ غالب ہے۔

عالمی وبا نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اتحادوں، منڈیوں، سپلائی چین، اور قومی اقدار کو زیرِ غور لاتے ہوئے ابھرتے عالمی نظام کے لیے خود کو تیار کریں۔ ہمیں یہ موقع ضائع کرنے کے بجائے اپنے سفارتی حلقوں اور پالیسیوں کے معیار میں بہتری لانی چاہیے تاکہ پاکستان ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہو۔


یہ مضمون 18 مئی 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔