سات سمندر پار ایسی بھی عید ہوگی، یہ کبھی سوچا نہ تھا

اپ ڈیٹ مئ 24 2020

ای میل

آج ہم سویڈن میں عید الفطر منارہے ہیں۔ ایسی بھی عید کبھی منانا پڑے گی، یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

پاکستان سے باہر تو ویسے بھی عید زیادہ پُرلطف نہیں ہوتی کیونکہ عید منانے کا اصل مزہ تو اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، دوستوں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ ہی آتا ہے۔

پاکستان میں بھی وہ لوگ جو ملازمت یا کاروبار کی وجہ سے دوسرے شہروں میں ہوتے ہیں وہ بھی عید کے موقع پر اپنے آبائی گھروں میں واپس آجاتے ہیں لیکن جو لوگ پاکستان سے باہر آباد ہیں انہیں تو وہیں عید منانا ہوتی ہے۔

یہاں سویڈن میں نہ وہ ماحول ہوتا ہے اور نہ عید کی چھٹیاں لیکن پھر بھی ہم کئی سالوں سے عید بھرپور انداز میں مناتے رہے ہیں لیکن اس بار تو ایسی عید آئی جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

یورپ میں اگر عید ہفتہ اور اتوار کے روز آجائے تو خوشی دوبالا ہوجاتی ہے کیونکہ چھٹی کی وجہ سے نمازِ عید کی ادائیگی بھی آسان ہوجاتی ہے اور گھر پر رہ کر کسی نہ کسی حد تک یہ احساس ہوتا ہے کہ ہاں آج عید ہے۔ اس بار بھی عیدالفطر یہاں یورپ اور سویڈن میں اتوار کے روز تو ہے، لیکن چھٹی کے دن کے باوجود اب کی بار میٹھی عید بے رونق ہے اور کچھ اداس اداس سی ہے۔

سویڈن میں نماز عید کا روایتی اجتماع

سویڈن میں رہتے ہوئے ہمارا تیسری دہائی کا سفر جاری ہے۔ اس مدت میں ہم نے دنیا کے لمبے ترین اور مختصر ترین دونوں طرح کے روزے رکھے ہیں۔ سردیوں میں تو سویڈن میں محض چند گھنٹوں کا روزہ ہوتا ہے بلکہ جون اور جولائی میں شمالی سویڈن میں تو سورج طلوع ہی نہیں ہوتا۔ لیکن گرمیوں میں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے کیونکہ اس وقت سورج غروب نہیں ہوتا۔

دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بھی اس بار 20، 20 گھنٹوں کے روزے رکھے گئے۔ سویڈن میں رمضان اور عید کی تاریخیں پہلے سے طے ہوتی ہیں اور پاکستان کی طرح نہ یہاں کوئی ہلال کمیٹی ہے اور نہ ہی کسی کو چاند دیکھنے کی آرزو ہوتی ہے۔

عید کی نماز کے لیے ہال بہت پہلے ہی بک کروالیا جاتا ہے۔ چاند رات کو خواتین مہندی اور عید کی تیاری میں وقت گزارتی ہیں۔ سویڈن بھر میں عید کے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔ پاکستانی مساجد اور تنظیمیں بڑے بڑے اجتماعات کا انعقاد کرتی ہیں جہاں اکثریت پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔ امام صاحب اردو میں خطابت کرتے ہیں اور پھر عید کے بعد ہم وطن خوب عید ملا کرتے ہیں۔

سویڈن میں اس بار روایتی عید کی رونق نظر نہیں آئی

گھروں میں بھی خوب رونق اور خوشی کا ماحول ہوا کرتا تھا اور قریبی دوست اکٹھے ہوکر عید مناتے ہیں۔ پاکستانی سماجی تنظیمیں عید کے بعد عید ملن پارٹی کے صورت میں سب کو مل بیٹھ کر عید منانے کا موقع فراہم کرتی تھیں۔ پاکستان جیسی عید نہ سہی لیکن پھر بھی عید کا کچھ نہ کچھ لطف آہی جاتا تھا لیکن اس بار کی عید تو ہمیشہ یاد رہے گی کہ کسی کو گلے مل کر عید مبارک بھی نہ کہہ سکے۔

کورونا وائرس نے اس مرتبہ عید کے چاند کو گہنا دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے 50 سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی کی وجہ سے اس عید پر نماز کے اجتماعات نہیں ہوسکے۔ عید سے ایک ہفتہ قبل مختلف مساجد میں فون کرکے نمازِ عید کے اجتماعات کے بارے میں پوچھا لیکن سب نے یہی جواب دیا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر اس مرتبہ عید کی نماز نہیں ہوگی۔ ہم نے عید کی نماز پڑھنے کی خواہش پوری کرنے کا حل یہ نکالا کہ اپنے ہی گھر میں بیٹے، داماد، اہلیہ اور بیٹی کو مقتدی بنالیا اور خود امامت کرتے ہوئے عید کی نماز ادا کی۔

نمازِ عید کے بعد خطبہ بھی دیا اور پھر آپس میں ہی ایک دوسرے کو عید مبارک کہا۔ سچ پوچھیے تو یہ نمازِ عید ہمیشہ یاد رہے گی۔ اس اداس عید سے کشمیر، اویغور، روہنگیا اور دنیا کے وہ محکوم مسلمان یاد آگئے جو شاید ہر سال ایسی ہی عید مناتے ہیں۔ ہم تو شاید اگلے برس پھر سے روایتی انداز میں عید منانا شروع کردیں لیکن ان لوگوں کی معلوم نہیں کتنی اور عیدیں اسی طرح گزریں گی۔

نماز پڑھنے کی خواہش پوری کرنے کا حل یہ نکالا کہ اپنے ہی گھر میں بیٹے، داماد، اہلیہ اور بیٹی کو مقتدی بنالیا اور خود امامت کرتے ہوئے عید کی نماز ادا کی
نماز پڑھنے کی خواہش پوری کرنے کا حل یہ نکالا کہ اپنے ہی گھر میں بیٹے، داماد، اہلیہ اور بیٹی کو مقتدی بنالیا اور خود امامت کرتے ہوئے عید کی نماز ادا کی

زندگی میں نمازِ عید کے مختصر ترین اجتماع سے فارغ ہوئے تو ہماری بیگم نے گھر میں عید کا ماحول بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ میٹھی عید کے دستور کے مطابق مزے مزے کے کھانوں سے عید کا سماں پیدا کرنے کی سعی کی گئی۔ سویڈن میں طویل روزے رکھنے کے بعد عید منانا تو بنتا ہی ہے چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ رس ملائی، شیر خرما اور تیرا میسو کی مٹھاس نے میٹھی عید ہونے کا خوب احساس دلایا۔

عید پر موسم بھی مہربان رہا۔ اگرچہ ہوا میں قدرے خنکی ہے لیکن باہر کے موسم کا مزہ لینے اور عید منانے کے لیے بار بی کیو کا پروگرام بن چکا تھا۔ مزے مزے کے باربی کیو کے ساتھ عید کو پُرلطف بنانے کی پوری کوشش کی گئی۔

گھر میں رہتے ہوئے اب کچھ بوریت محسوس ہونے لگی تو یہ طے پایا کہ کہیں باہر گھومنے چلتے ہیں اور کسی اچھی سی جگہ پر جاکر کافی پیتے ہیں اور مزید دل چاہا تو کسی شاپنگ مال کا رخ کرلیں گے۔ بھئی خریداری بھی تو عید کا ہی حصہ ہوتی ہے۔

کورونا کے باعث سویڈن واحد ملک ہے جس نے لاک ڈاؤن نہیں کیا اور نہ ہی دکانیں، کاروباری مراکز اور ریسٹورنٹ بند کیے ہیں۔ اس نرمی کی وجہ سے دیگر یورپی ممالک کی نسبت سویڈن میں قدرے زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے لیکن تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ۔

شاپنگ مالز، دکانوں میں سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے اور اکثر جگہوں پر ہاتھوں کو جراثیم سے پاک رکھنے کے لیے جراثیم کش محلول بھی دیا جاتا ہے۔ ہمارا قافلہ گھر سے روانہ ہوا اور دن کا کچھ وقت گھومنے، کھانے پینے اور کچھ خریداری میں گزارنے کے بعد گھر لوٹے۔

گزشتہ برس سویڈن میں منائی گئی عید ملن پارٹی

عام طور پر تو یورپ اور پاکستان میں عید کے دنوں میں فرق ہوتا ہے، مگر اس بار اتفاق یہ دونوں ہی جگہ ایک دن عید منائی جارہی ہے اور ٹی وی چینلوں پر خصوصی پروگرام پیش کیے جارہے ہیں۔

سچ پوچھیے تو پاکستان سے باہر یہی پاکستانی ٹی وی چینل تفریح کا بڑا ذریعہ بنتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کی یاد بھی دلاتے رہتے ہیں۔

اس بار عید کے موقع پر سویڈن میں اتفاق سے 4 سرکاری چھٹیاں ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کی یاد منانے کے سلسلے میں کی جاتی ہیں۔ ہم اپنی جگہ خوش ہیں کہ عید پر 4 دن چھٹی مل گئی مگر یہ بات الگ ہے کہ عید کی رونقیں بڑی حد تک گھر تک ہی محدود رہیں۔ سب کی زبان پر یہی دعا ہے کہ اللہ کرے اگلی عید ہمیں یوں غیر روایتی انداز میں منانی نہ پڑے اور دنیا کو اس کورونا وائرس سے جلد از جلد نجات مل جائے۔ آمین۔