سعودی انٹیلی جنس کے سابق افسر کے خاندان کو نشانہ بنایا جارہا ہے، رپورٹ

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

سعد الجابری کے بیٹے نے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان دباؤ ڈال رہے ہیں—فائل/فوٹو:اے پی
سعد الجابری کے بیٹے نے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان دباؤ ڈال رہے ہیں—فائل/فوٹو:اے پی

سعودی انٹیلی جنس کے سابق طاقت ور افسر کے بیٹے نے کہا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان ان کے والد کو ملک میں واپس لانے کے لیے خاندان کے افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کئی برسوں تک سعودی عرب میں انٹیلی جنس کے افسر رہنے والے سعد الجابری زندگی کو لاحق خطرات کے باعث 2017 میں کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور مسلسل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دباؤ برداشت کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں ’سیکیورٹی کریک ڈاؤن‘ فوجی افسران تک پھیل گیا

رپورٹ کے مطابق سعد الجابری کے بیٹے خالد الجابری نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ محمد بن سلمان ان کے والد کو گھر واپس جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی، بہن اور چچا کو سعودی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا اور مارچ سے حراست میں ہیں اور اس کے بعد سے ان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

خالد الجابری نے کہا کہ 'کئی ہفتے ہوگئے ہیں لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، انہیں ان کے گھروں سے اٹھایا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ آیا وہ زندہ ہیں یا مار دیے گئے ہیں'۔

سعودی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہر سعد الجابری سعودی عرب میں کئی کلیدی عہدوں پر فائز رہے اور القاعدہ کے خلاف لڑنے اور امریکا سمیت دیگر اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے بیٹے اور سابق امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان دباؤ ڈال رہے ہیں کہ سعد الجابری وطن واپس آئیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ باہر وہ قابو میں نہیں رہیں گے جبکہ خفیہ معلومات تک ان کی رسائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اہم سعودی شہزادے کو سعودی عرب میں قید کیے جانے کا انکشاف

واشنگٹن ڈی سی میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر نائب صدر اور یمن میں امریکا کے سابق سفیر جیرلڈ فیئرسٹین کا کہنا تھا کہ الجابری کئی حساس معاملات سے واقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ تابوت کہاں دفن ہیں اور ممکن ہے کہ محمد بن سلمان کے حوالے سے بھی معلومات رکھتے ہوں۔

خیال رہے کہ سعد الجابری کا انٹیلی جنس کیرئر اس وقت ختم ہوا تھا جب محمد بن سلمان اور محمد بن نائف کے درمیان سعودی عرب کے ولی عہد بنے کی جنگ شروع ہوئی تھی اور وہ 2017 سے ملک سے باہر ہیں۔

رپورٹس کے مطابق محمد بن نائف اس کے بعد نظر بند ہیں اور اطلاعات آئی تھیں کہ رواں برس مارچ میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا کہ کیونکہ ذاتی ملاقاتوں میں محمد بن سلمان کی حکمرانی کے انداز پر تنقید کررہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق سعد الجابری نے امریکا میں گہرے تعلقات ہونے کے باجود وہاں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ محمد بن سلمان کی درخواست بھی واپس سعودی عرب بھیج دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سعد الجابری نے جب سعودی عرب چھوڑا تو حکام کی جانب سے ان کی 20 سالہ بیٹی سارہ اور 21 سالہ عمر پر پابندیاں عائد کرنے آغاز کیا گیا جو اب بھی سعودی عرب میں ہیں۔

خالد الجابری کا کہنا تھا کہ دو بچے تعلیم کے لیے امریکا جانے کو تیار تھے لیکن محمد بن سلمان نے حکومت میں آتے ہیں انہیں باہر جانے پر پابندی لگادی، ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کردیا گیا اور مختلف تفتیشی سوالوں کے لیے طلب کیا جانے لگا۔

مزید پڑھیں:امریکا میں 'سعودی شہزادہ' 30 برس بعد گرفتار

سعودی حکام ان پر دباؤ ڈال رہے کہ وہ اپنے والد کو وطن واپسی کے لیے قائل کریں۔

سعودی سیکیورٹی فورسز نے سعد الجابری کے دونوں بچوں کو 16 مارچ کو دارالحکومت ریاض میں واقع ان کے گھر سے علی الصبح اٹھایا جس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں۔

گزشتہ ہفتے حکام نے سعد الجابری کے بھائی عبدالرحمٰن الجابری کو بھی گرفتار کرلیا جو امریکا سے تعلیم یافتہ الیکٹریکل انجینئر ہیں۔