’ عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو صورتحال بہت زیادہ بگڑ سکتی ہے‘

اپ ڈیٹ 22 مئ 2020

ای میل

معاون خصوصی کا کہنا تھا  کہ  ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال تشویشناک ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال تشویشناک ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم کے معان خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ عوام نے اگر احتیاطی اقدامات پر عمل نہیں کیا تو ملک میں وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال بگڑنے کا اندیشہ ہے اور اس کے ذمہ دار بھی وہ خود ہوں گے۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے جتنے کیسز گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آئے وہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اموات کی تعداد بھی ایک روز میں سامنے آنے والے سب سے بڑی تعداد ہے جو 50 ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں اب تک کورونا وائرس سے 51 ہزار 653 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد ایک ہزار 71 تک پہنچ گئی ہے جبکہ وائرس سے 15 ہزار سے زائد افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیسٹنگ کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے اور اب تک کے سب سے زیادہ ٹیسٹ بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز 51 ہزار سے تجاوز کرگئے، اموات 1071 ہوگئیں

تاہم اگر صورتحال کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال تشویشناک ہے اور یہ ایک ایسے موقع پر ہورہا ہے جب حکومت نے تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ نمازوں اور مساجد کے حوالے سے ایس او پیز تیار کیے ہیں انہیں جمعتہ الوداع کے موقع پر بھی اختیار کریں اور کوشش کریں کہ جمعہ کی نماز گھر میں ادا کریں لیکن جانا ضروری ہے تو احتیاطی اقدامات کریں۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد آج جمعہ کے موقع پر اور دیگر نمازوں کے ساتھ عید کی نماز کے اجتماع میں جانے سے گریز کریں اور کوشش کریں گھر میں نماز ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اس لیے کی گئی تا کہ غریبوں کو روزگار کے حوالے سے پریشانی نہ ہو لیکن اس کے ساتھ بیماری بڑھ رہی ہے پھیل رہی ہے اور اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 90 فیصد مریضوں میں وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا، رپورٹ

گفتگو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تا کہ عوام احتیاطی تدابیر مدِ نظر رکھتے ہوئے عید کے سلسلے میں خریداری کرسکیں اسی طرح عید کے موقع پر سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کھولی گئی اور اس کے لیے تفصیلی ایس او پیز بھی جاری کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم مشاہدے میں یہ بات آئی کہ گزشتہ کچھ ہفتوں میں جو صورتحال سامنے آئی وہ انتہائی غیر تسلی بخش ہے لوگ ہجوم کی صورت میں باہر نکلتے ہیں خاص کا افطاری سے قبل یہ صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو یہ صورتحال بہت زیادہ بگڑ سکتی ہے اور اس کے لیے کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ عوام خود اس کے ذمہ دار ہوں گے کیوں کہ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے بار ہا یہ بتایا جارہا ہے کہ اس وبا کو صرف سماجی فاصلے سے روکا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ زندگی کے معمولات جاری و ساری رکھیں لیکن ساتھ ہی ساتھ تمام احتیاطی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کیلئے 10فیصد رعایت کی اعلان

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو شاپنگ اور پر ہجوم مقامات پر جانے سے قبل ماسک پہننے کی ہدایت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لے کر اب ماسک کو ہر ایک کے لیے لازم قرار دے دیا گیا ہے۔

یوں پبلک ٹرانسپورٹ، عوامی مقامات، بازاروں میں جاتے ہوئے عوام کو لازمی ماسک پہننا ہوں گے اور یہ کوئی انتخاب نہیں بلکہ لازم ہوگا تا کہ آپ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں اور دوسرے بھی آپ سے محفوظ رہیں۔

عید کی نماز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں دیگر پنجگانہ اور نماز تراویح کے لیے جو ہدایات جاری کیں تھیں نماز عید کے لیے بھی ان پرعمل کیا جائے اور بہتر ہے کہ گھروں میں نماز عید ادا کریں۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ صاحبِ حیثیت لوگ لاک ڈاؤن سے متاثر افراد کی اس طرح مدد کریں کہ ان کی عزت نفس متاثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ عید بالکل مختلف ہے اور اس عید پر ایک دوسرے کے گلے نہیں ملنا بلکہ فاصلہ رکھ کر مبارکباد دیں اور فاصلہ برقرار رکھیں کیوں کہ گلے ملنے سے بہت تیزی سے وبا پھیلنے کا امکان ہے۔