جہاز گرنے پر غم و غصہ کیسا؟

23 مئ 2020

ای میل

لکھاری اسلام آباد میں ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔
لکھاری اسلام آباد میں ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔

ایک لمحے میں سب کچھ فنا ہوگیا۔ اُمیدوں، منصوبوں اور خوابوں سے سرشار متعدد خوبصورت قیمتی جانوں کے چراغ گُل ہوگئے۔

کس لیے؟ کیا صرف اس لیے کہ ان خوبصورت قیمتی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جو ذمہ داری جس کسی ایک شخص کو سونپی گئی تھی وہ اس نے پوری نہیں کی؟

اس لیے کہ کہیں کوئی شخص اس قدر نااہل، خود غرض اور لاپرواہ تھا کہ اس نے وہ تمام معاملات ٹھیک کرنا گوارہ نہ کیے جو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پروازوں کو بحفاظت اتارنے اور رن وے سے چند سو میٹر دُور ایک لمحے میں گر کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ امیدوں، منصوبوں اور خوابوں سے سرشار ان لوگوں کو اس طرح تو نہیں مرنا چاہیے تھا۔ اس کا کہیں کوئی ذمہ دار تو ضرور ہے۔

کیا یہ سوال پوچھنے کا صحیح وقت ہے؟ بے شک، یہی وقت ہے ببانگِ دہل اعلان کرنے کا کہ اگر کہیں کسی شخص نے اپنی ذمہ داری کو نبھایا ہوتا تو یہ لوگ لقمہ اجل نہ بنتے۔

قوم صدمے میں ہے۔ مگر ان کا خون بھی کھولنا چاہیے۔ غصے اور تڑپ کے ساتھ اس مجرمانہ غفلت پر خون کھولنا چاہیے جس کے باعث جمعے کے روز پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا شکار بنا۔

ان سارے افراد پر خون کھولنا چاہیے جو قومی ایئرلائن پر سوار مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار تمام اداروں کی خرابی کے حصہ دار ہیں، ہمارا ان سب پر خون کھولنا چاہیے جو اس خرابی کو پالتے ہیں، سنگین تر بناتے ہیں اور اس خرابی کی بُو کو باہر نکلنے نہیں دیتے۔ حالانکہ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کرتوت کسی دن خوبصورت اور قیمتی جانوں کے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں یا بن جائیں گے۔

فی الحال تو چہار سوں لال جھنڈیاں لہراتی نظر آ رہی ہیں۔ روشنیاں مدھم ہیں۔ سائرنوں کی آوازیں دھیمی ہوگئی ہیں۔ لوگوں کی چیخ و پکار کی شدت کم پڑ گئی ہے۔ یہ جو ہم لوگ کر رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے، یہ روشنیاں، سائرن اور چیخ و پکار کی آوازیں ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کررہی ہیں۔

جب آپ کسی ادارے کی ذمہ داری لیتے ہیں اور پھر اس میں میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر پیشہ ورانہ افراد کو بھرتی کریں گے تو یہی نتیجہ نکلا گا جو ابھی نکل رہا ہے۔

انسانی وسائل کی بات کریں تو وہاں سمجھوتہ، نظام کو چلانے سے متعلق معیارات کی بات کریں تو وہاں سمجھوتہ، حفاظتی اقدامات کا تذکرہ کریں تو وہاں سمجھوتہ، ہمارے گرد سست رفتار لیکن یقینی بگاڑ کا جو عمل جاری ہے وہ دراصل رفتہ رفتہ سر پر ٹوٹنے والا ایک ناگزیر سانحہ ہے۔

سب کچھ تو ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ معیارات، توقعات اور حتمی نتائج۔ دہائیوں پرانے بگاڑ کے اوپر سڑتے گلتے نظام کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسا بگاڑ ہے جو مجرمانہ غفلت کی آڑ لیتا ہے اور ذمہ داری سے پلو جھاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ فضائی حادثے میں لوگ مارے جاتے ہیں، ان کی زندگی رائیگاں جاتی ہیں، ان کی موت رائیگاں جاتی ہے اور جو زندہ رہ جاتے ہیں ان کو حادثے کے بعد شاید زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اسی لیے مُردوں کے کفن دفن اور غم منانے سے بھی پہلے اس بگاڑ کو متحرک دیکھنے کے لیے تیار رہیے۔ بگاڑ کو حفاظتی گھیرے میں لینے کے لیے نظام کے بازوؤں کو آگے بڑھتا دیکھنے کے لیے تیار رہیں۔ دیکھیے گا کس طرح دوسرے پر انگلی اٹھانے، ٹال مٹول کرنے اور متاثر کو مجرم قرار دینے کا ایک چکاچوند سلسلہ شروع ہوگا اور اس انسانی ساختہ آفت کو تقدیر کا فیصلہ مان لیا جائے گا، یوں دھیرے دھیرے جمعے کے روز پیش آنے والے فضائی حادثے کا صدمہ بھی ٹھنڈا پڑجائے گا۔

یہاں آپ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ غم و غصہ کیوں ہو بھلا؟ فضائی حادثے تو پوری دنیا میں پیش آتے ہیں اور اس میں لوگ مرتے بھی ہیں۔ یہ سچ ہے لیکن پورا سچ نہیں۔

دنیا میں حادثات کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ سب ہمارے ہاں نہیں ہوتا، اور اصل غصہ اسی بات پر ہے۔ حادثات کے بعد جس طرح ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے، اس طرح ہمارے ہاں نہیں ہوتا، اس بات پر غم و غصہ ہے۔ حادثے کے بعد جس طرح سبق حاصل کیا جاتا ہے اس طرح ہمارے ہاں سبق حاصل نہیں کیا جاتا، اس بات پر غم و غصہ ہے۔ حادثات کے بعد جس طرح نظام میں بہتری لانے کے لیے کوششیں کی جاتی ہیں، اس طرح ہمارے ہاں نہیں لائی جاتیں اس بات پر غم و غصہ ہے۔

اس غم و غصے کو اب زندہ رکھنا اور قوت میں بدلنا ہوگا تاکہ یہ قوم کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ یہ سوال پوچھے، یہ وہ سوال ہیں جو بار بار پوچھنے چاہیے تھے اس وقت تک جب تک جواب نہیں مل جاتا ہے: کیا پی آئی اے اب بھی فعال رہنے کی مستحق ہے؟

اب جب یہ زندگیوں، اربوں روپوں اور اپنے وجود کی ساری وجہوں کو آگ میں جھونک رہی ہے تو ایسے میں کیا یہ فعال رہنے کی مستحق ہے؟ آئیے یہ سوال پوچھتے ہیں اور پھر فیصلے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

فیصلے سے ذمہ داری کا دائرہ وسیع ہوجائے گا۔ اس دائرہ میں کون ہوگا؟ حتمی فیصلے میں کس کا نام سرِفہرست ہوگا؟ کون اپنے ضمیر پر حادثے کا بوجھ برداشت کرے گا؟

ایسے فیصلوں کے نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔ کمزور افراد ان نتائج سے نمٹ نہیں سکتے۔ وہ نتائج سے نمٹنا ہی نہیں چاہتے۔ اسی لیے اپنے گند پر پردہ ڈال دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حادثے کے وقت جب تک وہ جہاز کے بجائے اپنے شاندار دفاتر میں بیٹھے ہیں تب تک ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا۔

مگر صرف پی آئی اے سے ہی سوال کیوں پوچھا جائے؟ ان سارے اداروں سے کیوں نہیں پوچھا جائے جو قومی ایئر لائن کے تحفظ یا اس میں کوتاہی برتنے میں برابر کے حصہ دار ہیں؟ انہیں کٹھہرے میں کیوں نہ لایا جائے اور ان خوبصورت اور قیمتی جانوں کے نقصان کا حساب مانگا جائے؟ کیوں نہ ان کو بھی احتساب کے دائرے میں لایا جائے ان سوالوں کے جواب مانگے جائیں جن کا وہ جواب نہیں دیا کرتے؟

حسبِ معمول یہ سب کچھ ہوگا۔ البتہ اپنا دل تھامنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یقین جانیے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سوالات تو پوچھے جائیں گے، لیکن زیادہ مشکل سوالات نہیں۔ تحقیقات کا تو حکم دیا جائے گا مگر گہری تحقیقات کا نہیں۔ لوگوں کو سزائیں تو ہوں گی مگر بڑے لوگوں کو نہیں، اور اقدامات تو کیے جائیں گے مگر زیادہ اہم اقدامات نہیں۔ پھر ہم وہی کریں گے جس کے ہم عادی ہیں یعنی آگے چل بڑھ جائیں گے۔

مطلب یہ کہ حادثات کے بعد صورتحال پر اس وقت تک کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک کہ دوسرا حادثہ نہ ہوجائے۔

تو چلیے اس وقت تک اسی طرح اپنا غم اور غصہ پیتے جاتے ہیں جب تک غم ایک دائمی درد کی صورت اختیار نہیں کرلیتا اور غصہ ہوا میں اڑ کر فنا نہیں ہوجاتا۔

جنازے، آہ و بکا، تصاویر کھچوانے اور کھوکھلے الفاظ بولنے، شہ سرخیوں اور خصوصی رپورٹیں اور حادثے پر مباحثے میں مصروف چند ٹی وی شوز کے سلسلے کو آرام سے دیکھنے اور اس پر چھائے احساس جرم کی طرح اپنے اوپر ان سب کے اثرات کو غالب آنے دیجیے۔

خرابیوں کی مٹی سے جڑے اس نظام سے توقعات وابستہ کرنا فضول ہے اور یہ بات یہاں کی زندگی کا اب تو ایک فطری حصہ بن چکی ہے۔ درویشانہ دیوانوں کو یہ بات دوسری طرح بتانے مت دیجیے۔

ٹکٹ کے پیسے ادا کریں اور معجزے کی دعا کریں۔


یہ مضمون 23 مئی 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔