ٹڈی دِل لکھنے اور کہنے والے اپنی غلطی ٹھیک کرلیں، یہ دِل نہیں دَل ہے

09 جون 2020

ای میل

ٹڈی دل نے پاکستان میں تباہی مچا دی ہے۔ اس کا حملہ زبان پر بھی ہوا ہے۔ اخبارات میں کئی جگہ ’ٹڈی دل کا لشکر‘ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، جب کہ ’دَل‘ تو کہتے ہی لشکر، فوج، انبوہ کو ہیں۔

ٹی وی چینلز پر کچھ لوگ بڑی دل جمعی سے اسے ’ٹڈی دِل‘ (’د‘ بالکسر) کہہ رہے تھے۔ سیاست دان احسن اقبال بھی ٹی وی پر ’دِل‘ ہی کہہ رہے تھے۔ گزشتہ جمعرات کو ایک ٹی وی چینل کے بہت شریف اینکر بھی ’ٹڈی دِل‘ کہہ رہے تھے، جبکہ این ڈی ایم اے کے جنرل صحیح تلفظ ادا کررہے تھے۔

’دَل‘ ہندی کا لفظ ہے اور اس کے اور بھی کئی معانی ہیں مثلاً جسامت، مٹائی، جیسے شیشے کا دَل، پھوڑے کا دَل۔ ایک شعر ہے

دَل فوجِ ستم کا جو اِدھر سے اُدھر آیا

بدلی میں چھپا چاند اندھیرا نظر آیا (مونسؔ)

اس کا مطلب پتّا برگ بھی ہے جیسے تلسی دل۔ ایک چیز دل بادل بھی ہے یعنی بہت سی فوج، درباری خیمہ۔ نواب آصف الدولہ کے ایک ہاتھی کا نام ’دل بادل‘‘ تھا۔ دَلدار صفت ہے یعنی موٹا، دبیز جیسے دَلدار پان، دَلدار تختہ۔ یاد رہے کہ دِل دار الگ چیز ہے۔

جسارت کی 23 مئی کی اشاعت میں طیارہ حادثے کے حوالے سے ایک سرخی میں ہے ’پرندوں کے غول‘ لکھا تھا۔ پرندوں کے غول نہیں جُھنڈ ہوا کرتے ہیں جسے عربی میں ’ابابیل‘ کہتے ہیں جیسا کہ سورۃ الفیل میں ہے ’طیراً ابابیل‘ یعنی پرندوں کے جُھنڈ۔ ہم نے ایک چھوٹے سے پرندے کو ابابیل بنا لیا، ورنہ اس کا مطلب جُھنڈ ہے۔

غول عام طور پر خوں خوار جانوروں کا ہوتا ہے جیسے بھیڑیوں کا غول، گیدڑ کا، کتوں کا غول۔ غول کے اور بھی کئی معانی ہیں مثلاً دیو، شیطان، ساحر۔ فارسی میں بمعنی کان بھی ہے جیسے اسپغول (معروف دوا)، اس کے پتّے گھوڑے کے کان سے مشابہ ہوتے ہیں۔

(گاؤ زبان، جس کا خمیرہ مشہور ہے، اس کے پتّے گائے کی زبان کی طرح ہوتے ہیں) عربی میں غُوِل واؤ معروف سے ہے۔ ترکی میں غول فوج کا وہ حصہ جس میں بادشاہ یا سپہ سالار رہے۔ اردو میں واؤ مجہول سے بروزن گول، بول ہے۔ اس کا مطلب انبوہ، بھیڑ، گروہ، جمعیت بھی ہے، یعنی انسانوں کا غول بھی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں چھلاوا، اگیا بیتال، بھوت، پریت وغیرہ۔ ایک چیز غولِ بیاباں بھی ہوتی ہے یعنی صحرا میں پھرنے والا چھلاوا، بھوت پریت وغیرہ۔ ایک شعر

میری وحشت نے چراغِ راہ جو سمجھا اسے

آنکھ دکھلا کر مجھے غولِ بیاباں رہ گیا

اسی سے غول بیابانی ہے، کنایتہً وحشی، جاہل۔

رات بھر دشت میں پھرتا ہے جو آہیں بھرتا

تیرا وحشی بھی مگر غولِ بیابانی ہے

خیال رہے کہ پریت میں ’ر‘ پر زبر ہے بروزن ڈکیت۔ جبکہ پریت میں ’را‘ بالکسر ہے بروزن نفیس۔ اس کا مطلب سب ہی جانتے ہیں۔ ہندی کا لفظ ہے جس سے پریتم بنا ہے۔ ہندی میں ’را‘ حذف کرکے اسے ’پیت‘ اور ’پیتم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک گانے کے بول ہیں’پریتم آن ملو، دکھیا جیا بلائے‘۔ لوگ پَریت کو بھی پریت کہہ دیتے ہیں۔ ویسے دونوں میں زیادہ فرق بھی نہیں۔ پِریت بھی پَریت کی طرح چمٹ جاتی ہے۔ بقول امجد اسلام امجد ’دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم‘۔ دونوں کے لیے ‘سیانوں‘ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

جھنڈ ہندی کا لفظ ہے اور لغت کے مطابق حیوانات کی جماعت کو کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں آدمیوں کی بھیڑ، بہت سے درخت جو ایک جگہ اُگے ہوں۔ گھاس کا پولا، کھڑے ہوئے اور بڑے بڑے بال۔ نوراللغات کے مطابق ’جھنڈ کے جھنڈ‘ کا مطلب ہے ’غول کے غول‘۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پرندوں کے بھی غول ہوسکتے ہیں۔

ایک کالم نگار نے لکھا ہے کہ لوگوں کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ دھیلا کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے احتیاطاً اس کا املا دھیلہ بھی لکھ دیا کہ جسے جو پسند ہو۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک پیسے میں دو دھیلے ہوتے تھے اور یہ کسی رقم کی سب سے کم اکائی ہے ۔ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ایک پیسے میں دو دھیلے تو ہوتے تھے لیکن تین پائیاں بھی ہوتی تھیں، اور یہ پائی سب سے کم اکائی سمجھی جاتی تھی۔ اگر یہ چار ہوں تو آرام کے لیے چارپائی بن جاتی ہے۔ پائی اب بھی محاورے میں موجود ہے یعنی پائی پائی کا حساب، پائی پائی کو محتاج ہوجانا۔ روپیہ، آنہ، پائی وغیرہ۔ ایک شعر عرض ہے

دام مانگے ہے مصور جیب میں پائی نہیں

اس لیے تصویر جاناں ہم نے کھنچوائی نہیں

دھیلے کو چھ دام (چھدام) بھی کہتے ہیں۔ دلالوں کی اصطلاح میں کبھی 50 روپے کو دھیلا کہتے تھے، جیسے بدمعاشوں کی زبان میں پیٹی اور کھوکھا کہا جانے لگا ہے، یعنی لاکھوں کا حساب۔ ’دھیلی‘ آدھی سے نسبت رکھنے والا یعنی آدھا روپیہ، اٹھنّی۔ ایک ضرب المثل ہے ’جیب میں نہیں دھیلا، کردی میلہ میلہ‘۔

پائی سے چھوٹا بھی ایک سکہ ہوتا تھا یعنی کوڑی۔ یہ بھی محاورے میں رہ گئی ’کوڑی کوڑی کو محتاج ہونا’، ’کوڑیوں کے دام بکنا‘۔ ایک چیز جھنجھی کوڑی ہوتی تھی جس میں سوراخ ہوتا تھا۔ شاید اس کو پھوٹی کوڑی کہتے تھے۔ بہرحال دھیلا کسی رقم کی سب سے کم اکائی ہرگز نہیں تھی۔ صاحبِ مضمون کی معلومات نامکمل ہیں۔ دمڑی پر ایک مثل یاد آئی ’دمڑی کی بڑھیا، ٹکا سر منڈائی‘۔

ڈپٹی نذیر احمد کی معروف کتاب ’مراۃ العروس‘ میں بچیاں ہنڈکلیا بنا رہی تھیں، اس میں بھی دھیلے کا ذکر ہے۔ شاید زردے کا رنگ ایک دھیلے میں منگوایا تھا۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر فرائیڈے اسپیشل میں شائع ہوا اور با اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔