بجٹ 2020: عوام کے لیے کیا اچھا رہا اور کیا بُرا؟

اپ ڈیٹ 13 جون 2020

ای میل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنا دوسرا بجٹ پیش کردیا۔ پاکستان میں یہ عام رواج ہے کہ حکومتیں اپنی غلطیوں یا خامیوں کو چھپانے کے لیے ماضی کی حکومتوں پر ملبہ ڈال دیا کرتی ہیں، مگر اس بار حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ ساتھ کورونا کا آسرا بھی تھا۔

حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ کورونا وائرس نے کس بُری طرح معیشت کو متاثر کیا ہے، یعنی اگر پاکستان کو اس بیماری کا سامنا نہیں ہوتا تو سب اچھا تھا، سب شاندار تھا، سب بے مثال تھا۔

اس بجٹ کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ حکومت اور حکومت کے چاہنے والوں کو کبھی اس میں کچھ بھی خراب نظر نہیں آتا، جبکہ اپوزیشن اور اس کے حمایتیوں کو کبھی اس میں کچھ اچھا نظر نہیں آتا۔

پھر اس بجٹ کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جس عوام کے لیے یہ ساری محفل جمائی گئی ہوتی ہے اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے یہی پوچھ رہا ہوتا ہے کہ بھائی کوئی تو بتاؤ کہ آخر ہوا کیا ہے۔

اسی پریشانی اور مشکل کو سمجھتے ہوئے ہم نے کوشش کی کہ معاشی معاملات کو سمجھنے والے اور اس کو رپورٹ کرنے والے کچھ صحافیوں سے آسان الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ اس بجٹ میں عوام کے لیے آخر کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔

امید ہے کہ کچھ بات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

عامر سیال، اب تک نیوز

اس بجٹ کے جو 3 مثبت پہلو ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ پراپرٹی پر کیپیٹل گین ٹیکس کی مدت 4 برس تک بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کی شرح میں کمی ہے۔ اصل میں معاملہ یہ ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر پورے پاکستان کو چلاتا ہے۔ یہ چلے گا تو ساتھ 40 صنعتیں بھی چلیں گی، اور موجودہ حالات میں یہ سیکٹر ہی بحران سے ہمیں نکال سکتا ہے۔

دوسرا مثبت پہلو یہ ہے کہ زراعت کے شعبے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد اس حوالے سے کام بالکل رک گیا تھا جس کے باعث زرعی پیداوار بھی کافی متاثر ہوئی۔ لیکن اب امید ہوچکی ہے کہ ان منصوبوں سے پیداوار بڑھانے میں کافی مدد حاصل ہوگی۔

پھر آبی وسائل پر 81 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں مہمند ڈیم سمیت دیگر بڑے آبی منصوبوں پر کام چل رہا ہے۔ اکثر حکومتیں طویل المدتی منصوبوں میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں اور انہیں فوری منافع چاہیے ہوتا ہے۔ لیکن اس حکومت کی اچھی بات یہ ہے کہ ان بڑے منصوبوں کے لیے رقم مختص کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ خام مال پر کسٹم ڈیوٹی کم کردی گئی ہے جو ایک بڑا فیصلہ ہے۔ ایک بڑی عجیب صورتحال کا سامنا تھا کہ جن چیزوں پر کسٹم ڈیوٹی نہیں تھی ان پر اضافی کسٹم ڈیوٹی ادا کرنا پڑتی تھی، لیکن اب حکومت نے اس اضافی کسٹم ڈیوٹی کو ختم کردیا ہے جس کے بعد یہ امید ہوچلی ہے کہ صنعتی شعبہ فروغ پائے گا۔

اگر منفی پہلو کی بات کی جائے تو عوامی ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیسے کم مختص کیے گئے ہیں حالانکہ انہی سے معیشت پھلتی پھولتی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے 2.1 فیصد پیداوار کا ہدف رکھا ہے تو ایسے میں اس کا حصول متاثر ہوسکتا ہے اور 1.2 فیصد بھی حاصل نہیں ہو پائے گا کیونکہ حکومت کے اپنے اخراجات بہت کم ہیں۔

حکومتی اخراجات سے ہی نجی شعبے کو تحرک ملتا ہے۔ چینی، سیگریٹ اور مشروبات و دیگر ایسی صنعتوں میں چیک اور ٹریس کے حوالے سے اقدامات سننے کو نہیں ملے کیونکہ ان شعبوں میں ٹیکس چوری کا معاملہ دیکھا گیا ہے۔ اگر اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں تو ٹیکس آمدن بڑھائی جاسکتی ہے کیونکہ نئے ٹیکس حکومت نے لگائے ہی نہیں ہیں۔

تیسرا ایک خراب پہلو یہ بھی ہے کہ جو مقامی پاکستانی نئی صنعتوں پر پیسہ لگانے کے خواہشمند ہیں ان کو ترغیب دینے کے لیے مختلف مراعات کا اعلان بھی کیا جانا چاہیے تھا، ساتھ ہی ساتھ نجکاری کے عمل میں تیزی لانے کے حوالے سے بھی کچھ سننے کو نہیں ملا حالانکہ اس عمل سے بھی معاشی بحالی میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

خلیق کیانی، روزنامہ ڈان

ابتدائی طور پر جو چیزیں نظر آئی ہیں وہ ملی جلی ہیں۔ جیسے مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈیوں میں بھاری کمی ہوئی ہے۔ لگ بھگ 48 فیصد سبسڈیاں کم ہو رہی ہیں۔ اس میں کوئی ایک سیکٹر شامل نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس کے اثرات نظر آئیں گے۔

ایک منفی پہلو یہ ہے کہ پیٹرول لیوی میں 70 فیصد سے زائد کا اضافہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکار ہم عوام سے سال بھر زیادہ پیسہ لیتی رہے گی۔

پھر ترقیاتی بجٹ کو کم رکھا گیا ہے، دوسری طرف دفاعی بجٹ میں تھوڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹیکس کی صورت میں عوام پر زیادہ بوجھ تو نہیں ڈالا گیا لیکن تنخواہوں اور پینشنوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا، چنانچہ مجموعی آمدن میں کمی پیدا ہوجائے گی۔ اس بار محاصل میں صوبوں کے حصے میں کمی بھی کی گئی ہے جس کے باعث صوبوں کے وسائل میں بھی کمی ہوگی۔

محمد علی، بزنس ریکارڈر

بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے ہیں لیکن دوسری طرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ہدف میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایف بی آر یہ ہدف حاصل نہیں کر پائے گا، لیکن جب تک فنانس ایکٹ نہیں منظور ہوتا تب تک صورتحال واضح نہیں ہوسکے گی۔ اس حوالے سے ایک بات یہ ضرور ہے کہ اگر ایف بی آر کا ہدف برقرار رہا تو یہ عین ممکن ہے کہ کسی قسم کے مخفی ٹیکس رکھے گئے ہوں، لیکن وقت کے ساتھ یہ صورتحال واضح ہوجائے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اب 50 ہزار کے بجائے ایک لاکھ کی خریداری پر قومی شناختی کارڈ کی شرط کا اعلان ایک مثبت قدم ہے۔ یہاں یہ مثبت پہلو اس لحاظ سے ہے کہ تاجر حضرات غیر رجسٹرڈ شدہ افراد کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں کرتے ہیں، اب جب کسی کا شناختی کارڈ لیتے ہیں تو اس طرح آپ کے سامنے غیر رجسٹر شدہ افراد کی ایک فہرست بن جاتی ہے۔

فرض کریں کہ ایک ہول سیلر کے پاس ایک ریٹیلر آتا ہے اور اس سے 5 لاکھ روپے کا سامان خرید کر جاتا ہے اب اگر وہ غیر رجسٹرڈ ہے تو ایف بی آر اسے پکڑے گا۔ بورڈ کہے گا آپ نے 5 لاکھ روپے کی خریداری کی ہے، آپ کا سالانہ ٹرن اوور تقریباً 60 لاکھ روپے بنتا ہے، اب اگر آپ کا اتنا ٹرن اوور ہے تو اس پر نہ تو آپ ٹرن اوور ٹیکس دے رہے ہیں اور نہ ہی آپ انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔ مطلب یہ کہ ایسے افراد کی نشاندہی ہوجائے گی۔ دوسری طرف ہول سیلر کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ شناختی کارڈ طلب کرنے پر اس کا گاہک دوسری دکان پر چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاجر حضرات رقم کی کم حد کا شور مچا رہے تھے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ خام مال پر ڈیوٹی ختم کی گئی ہے۔ یعنی اب خام مال پر ڈیوٹی ختم ہونے سے تیار شدہ مصنوعات کے دام بھی کم ہوجائیں گے، جس کا براہِ راست فائدہ عوام کو پہنچے گا۔ اسی طرح برآمدات کے معاملے میں فائدہ یوں ہوگا کہ کم قیمت کی وجہ سے ہم عالمی منڈی میں دنیا کا بہت اچھے طریقے سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔

اس بجٹ میں پینشن اور تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے، اگر تنخواہوں میں اضافہ نہ بھی ہوتا تو بھی کم از کم پینشن میں اضافہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان کے پاس آمدن کا دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا۔

حکومت نے ٹرن اوور پر ریلیف صرف ہوٹل صنعت کو دیا ہے لیکن ہونا یہ چاہیے تھا کہ جتنی بھی صنعتیں ٹرن اوور ٹیکس دیتی ہیں ان سب کو اس دائرے میں شامل کیا جاتا۔

ٹرن اوور کو آسان زبان میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ مختلف صنعتوں میں سالانہ فروخت کی ایک حد مقرر کی جاتی ہے، اس حد تک جو بھی صنعت مصنوعات فروخت کرتی ہے تو اس سے حکومت 0.5 فیصد یا کہیں ایک فیصد ٹیکس وصول کرتی ہے۔ اب چونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہوٹل صنعت کے ساتھ ساتھ دیگر صنعتیں بھی شدید متاثر ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ دیگر صنعتوں کو بھی یہ ریلیف فراہم کرتی۔

گزشتہ برس انہوں نے بہت اچھے اقدامات کیے تھے، مثلاً کپڑے سمیت کئی مختلف مصنوعات ایسی تھیں جنہیں لگژری آئٹم قرار دے دیا گیا تھا۔ لگژری آئٹم پر ڈیوٹی لگائی جاتی ہے تاکہ درآمدات کو روکا جاسکے۔ تاہم معاملات کچھ الگ ہی پیدا ہوجاتے ہیں، مثلاً آپ جانتے ہیں کہ صارفین مقامی سطح پر بننے والے کپڑے سے زیادہ چینی ساختہ کپڑوں کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے ہوا یہ کہ جب حکومت نے ڈیوٹی میں اضافہ کیا تو یہ سارے آئٹم افغانستان سے پاکستان اسمگلنگ کے ذریعے آنا شروع ہوگئے، اس وجہ سے ایف بی آر کو 2 نقصانات ہوئے۔

ایک تو ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے سے درآمدات کم ہوگئی، جس کے باعث ٹیکسوں کی کمی کا سامنا رہا اور دوسرا یہ مارکیٹ میں نا چاہتے ہوئے بھی ان چیزوں کا اسٹاک پہنچ گیا، اس لیے اس بار ڈیوٹی کو کم کردیا گیا۔ اس کمی کا مقصد یہ ہے کہ درآمدات قانونی طریقہ سے جاری رکھی جائے اور آمدن کا سلسلہ بھی جاری رہے۔

تعلیم کے لیے اس بار بہت ہی کم رقم مختص کی گئی جو کہ اس بجٹ کا ایک منفی پہلو ہے۔ یہ اس حوالے سے بھی تکلیف دہ عمل ہے کہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بار بار تعلیم کے بجٹ کو بڑھانے کی بات کیا کرتے تھے، مگر ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔

راجا کامران، نیو نیوز

بجٹ تقریر میں اعلان کیا گیا ہے کہ بھاری فیس لینے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد سے زائد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں لیکن اگر ٹیکنالوجی و پروفیشنل تربیت فراہم کرنے والے اداروں پر اس کا اطلاق ہوگا تو اس سے نقصان ہی پہنچے گا۔ دوسری طرف اگر دیگر بھاری فیسیں وصول کرنے والے پرائمری یا سیکنڈری سطح کے تعلیمی اداروں کو ٹیکس لگایا بھی جاتا ہے تو یہ ادارے ٹیکس کی رقم کو فیسوں میں ہی جوڑ دیں گے جس کے باعث والدین پر فیسوں کا بوجھ بڑھ جائے گا۔

پاکستان میں موبائل فون بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے جو ایک اچھا اقدام ہے۔ پاکستان میں بننے والے موبائل کے سیلز ٹیکس میں کمی بھی ہونی چاہیے۔ صنعت کو فروغ دینے کے لیے مختلف مراعات بھی دی جائیں اور معیاری موبائل فونز مارکیٹ میں لائے جائیں۔ ڈسٹ کلین لیب کے فروغ پر بھی کام ہونا چاہیے اور موبائل فون کے علاوہ ٹی وی وغیرہ جیسے دیگر معیاری برقی آلات کے اسمبلنگ یونٹس قائم کرنے چاہئیں۔

بجٹ کے منفی پہلوؤں کی بات کی جائے تو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے 27 نکات پر عمل نہیں ہوا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے 14 نکات پر عمل درآمد مکمل کرلیا گیا ہے، یعنی 13 اب بھی باقی ہیں۔ یہ بات اس لیے پریشان کن ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے کہا تھا کہ پاکستان کو دی گئی تمام ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک اور موقع دیا گیا۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ ریویو میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

کیفین والے مشروبات پر جی ایس ٹی کی شرح 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کردی گئی ہے جو ایک اچھا اقدام ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ صحت کو مزید سخت پابندیاں لاگو کرنی چاہئیں۔ دوسری طرف سگریٹ کی درآمدی شرح 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کردی گئی، یہ اقدام ٹھیک نہیں لگ رہا کیونکہ آپ نے پہلے ہی ٹیکس بڑھا رکھیں ہیں جس کی وجہ سے سگریٹ کی بلیک مارکیٹگ اور اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایف بی آر اور کسٹم بھاری تعداد میں سگریٹ ضبط تو کرتے ہیں لیکن وہی سیگریٹ گھوم پھر کر مارکیٹوں میں آ ہی جاتے ہیں اور ضائع نہیں ہوپاتے۔

یہاں ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو مقامی برانڈ کی سگریٹ بنانے والے ہیں وہ حکومت کو کسی قسم کا ٹیکس ادا نہیں کرتے اور اس میدان میں حکومت کو لگ بھگ جو 40 ارب روپے کا ریونیو مل سکتا ہے وہ اسمگلنگ کے باعث ضائع ہوجاتا ہے، اس لیے ان مسائل پر ضابطہ لانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے تھے۔

موجودہ بجٹ کی ایک سب سے اہم بات پاکستان کی شرح نمو کا منفی ہونا ہے۔ ابھی تو حکومت اعلان کر رہی ہے کہ موجودہ سال میں شرح نمو 0.5 فیصد منفی ہوگی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے جو بجٹ پیش کیا گیا اس میں 2.1 فیصد تک لانے کی کوشش کی جائے گی۔

یاد رہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب پاکستان کی شرح نمو منفی دیکھنے کو مل رہی ہے، اس سے پہلے ایسا 1971ء میں ہوا تھا۔ پھر اگرچہ شرح نمو کو 2.1 فیصد پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن چونکہ پاکستان میں آبادی کی شرح 3 فیصد ہے اور اگر اس کو آبادی کے اضافے سے موازنہ کیا جائے تو شرح نمو منفی ہے۔

پاکستان میں چونکہ انفرااسٹریچر، نظامِ تعلیم بہت ہی کمزور ہے اس لیے 2.1 فیصد شرح نمو کسی طور پر پاکستان کے لیے بہتر نہیں ہے۔ اسے بڑھانے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں تھے، اس غرض سے حکومت کو ایک بہت بڑا ترقیاتی پیکج دینا چاہیے تھا جو کم از کم ہزار ارب کا ہوتا، مگر ایسا کوئی پیکج نظر نہیں آ رہا ہے بلکہ ترقیات کے لیے بھی 650 ڈالر ہی رکھے گئے ہیں۔ اب اگر اس کو ڈالر کے لحاظ سے حساب لگایا جائے تو اس میں ویسے ہی کمی ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ بجٹ خسارے میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگر زراعت کی بات کی جائے تو ٹڈی دَل کے خاتمے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو انتہائی کم معلوم ہورہے ہیں کیونکہ کسانوں کو ٹڈی دَل کے باعث بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے جنہیں ریلیف دینا ہوگا تاہم بجٹ میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں ملتی۔

اس بجٹ کا ایک اہم نکتہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ نہ کرنا ہے۔ اس لیے اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سرکاری ملازمین کو حکومت کس طرح مطمئن کرپائے گی کیونکہ گزشتہ 2 سال سے پاکستان میں انتہائی بلند افراطِ زر پائی جاتی ہے۔ جنوری میں 14 فیصد افراطِ زر ریکارڈ کی گئی تھی، اور لوگوں کی حقیقی آمدنی اسی تناسب سے کم ہو رہی ہے۔

اب اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں تو اس طرح مارکیٹ میں قابلِ خرچ رقم بہت کم ہوجائے گی اور یوں پہلے سے ہی کورونا وائرس سے متاثرہ کاروباری سرگرمیوں میں مزید کمی آئے گی کیونکہ لوگوں کے پاس خرچ کرنے کو پیسے ہی نہیں ہوں گے۔

اس بار دفاعی بجٹ کے لیے 1289 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل دفاعی بجٹ 1250 روپے کا تھا۔ ہمارے خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، چین اور بھارت کے درمیان کشدیگی بڑھ رہی ہے اور لائن آف کنٹرول پر بھی حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، دوسری طرف بھارت مسلسل اپنی بحریہ کی قوت بڑھا رہے ہیں ایسے میں دفاعی بجٹ میں جتنا اضافہ ہونا چاہیے تھا اتنا دکھائی نہیں دیتا۔

پھر اس کے علاوہ دفاعی بجٹ میں کمی کے ساتھ مسلح افواج کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کے ساتھ یہ بھی ایک بڑا طبقہ ہے، حکومت کو اس بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈالر کے لحاظ سے تو دفاعی بجٹ میں اضافے کے بجائے کمی کی گئی ہے۔ کم دفاعی بجٹ کے باعث مختلف دفاعی معاملات متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ دفاع میں اکثر طویل مدتی منصوبوں پر کام کیا جاتا ہے اور اخراجات زیادہ ہوتے ہیں۔

فرحان بخاری، فنانشل ٹائمز

اپنی بات شروع کرنے سے پہلے مجھے یہ کہنے دیجیے کہ اس بجٹ پر کئی سوالیہ نشان موجود ہیں، بلکہ میں تو سمجھ رہا ہوں کہ جو صورتحال بیان کی جارہی ہے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی، اور بہت جلد ایک منی بجٹ اس حکومت کو لانا ہی پڑے گا۔

اس لیے جن اچھی باتوں کا بھی ذکر کیا جارہا ہے، اس بارے میں کوئی بھی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔

لیکن ہاں میرے نزدیک اس بجٹ میں بہت ساری خامیاں ہیں جن میں سے کچھ کو بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس بجٹ میں جو 3 سب سے بڑے مسائل ہیں ان میں پہلا ٹیکس وصولی کا ہدف ہے جو پچھلے سال کی ٹیکس وصولی کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ رکھا گیا ہے۔

اگر پاکستان کے معاشی حالات کو مدنظر رکھیں تو یہ ہدف حاصل کرنے کے امکانات زیادہ نہیں دکھائی دیتے، اسی لیے مجھے منی بجٹ کے آنے کا خدشہ ہے کیونکہ اس کے بغیر تو گزارا ہوتا بالکل نظر نہیں آرہا۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں باتیں تو بہت سی ہوئی ہیں لیکن ملکی زرعی شعبے کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ پھر یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ماضی کی حکومتوں نے بھی ایسا ہی کیا، لیکن اس حکومت نے بھی اس میں کوئی تبدیلی لانے کا فیصلہ نہیں کیا۔

لیکن اس خراب رویے کے باوجود بھی ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں صرف زراعت کے شعبے میں پیداوار مثبت نظر آئی۔ اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ زراعت میں پیداوار کو ہر صورت کو بڑھایا جائے کیونکہ خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے بدترین اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے کیونکہ زراعت ہی وہ شعبہ ہے جو خوراک سے متعلق ہماری ضروریات کو پورا کرتا ہے، اگر خدانخواستہ ہمیں یہاں مسائل کا سامنا کرنا پڑا تو صورتحال بہت خراب ہوسکتی ہے۔

نمبر تین یہ کہ پاکستان کی معیشت اور پاکستان کے حالات اس وقت ایسے دہانے پر کھڑے ہوئے ہیں کہ کوئی ایک پارٹی یا کوئی ایک حکومت ان حالات پر قابو نہیں پاسکتی، اور ایک بڑا خلا یہ ہے کہ عمران خان اس وقت حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے بات کرنے کے بجائے لڑائی پر تلے ہوئے ہیں۔

ان کے حکومت میں آنے سے پہلے لوگوں کو یہ امید تھی کہ احتساب کے بعد ملک میں ایک نئی فضا قائم ہوگی جس سے عام لوگوں کی زندگیوں میں بھی بہتری آئے گی اور انہیں کرپشن سے آزاد ماحول اور نظام دستیاب ہوگا، مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ ہوا نہیں اور احتساب کے لیے کارروائیاں صرف اپوزیشن تک ہی محدود رہیں۔

چنانچہ سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس تناؤ بھرے سیاسی ماحول میں ملکی مفاد کی خاطر سب کو ساتھ لے کر چلنے کی باتوں کے زیادہ امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔