سیاحت کھلنے کے امکانات، خدشات اور احتیاطی تدابیر

24 جون 2020

ای میل

کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے طویل لاک ڈاؤن کے سبب اس وقت ہر فرد بُری طرح متاثر ہے اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

ایک طرف ان دیکھی وبا کا ڈر اور خوف، تو دوسری طرف مالی پریشانیاں، یقیناً یہ صورتحال ان تمام افراد کے لیے پریشان کن ہے جو ہمیشہ سے ہی زندگی کے مسائل سے دُور خالص قدرتی نظاروں سے بھرپور مقامات میں آسودگی ڈھونڈنے نکل پڑتے تھے۔

زندگی کی پریشانیوں سے دُور قدرتی رعنائیاں کسے نہیں بھاتی ہوں گی؟— عظمت اکبر
زندگی کی پریشانیوں سے دُور قدرتی رعنائیاں کسے نہیں بھاتی ہوں گی؟— عظمت اکبر

کورونا بحران کی وجہ سے پوری دنیا میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ کاروباری افراد کو تقریباً ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ عالمی سیاحت انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو ایک کھرب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے اور یقیناً اس بحران کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ کروڑوں افراد کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

بارسیلونا کا ساحل جہاں موسمِ گرما میں سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا ہے— عظمت اکبر
بارسیلونا کا ساحل جہاں موسمِ گرما میں سیاحوں کا رش دیدنی ہوتا ہے— عظمت اکبر

گرمیوں کے سیزن کے آغاز سے 2 مہینے پہلے ہی دنیا بھر کے سیاح اپنے ٹؤر کی منصوبہ بندی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ تاہم اس سال کورونا بحران نے سیاحوں کے لیے ایک سے دوسری جگہ کا سفر محال بنا دیا ہے۔

بہرحال ایک طویل لاک ڈاؤن کے بعد یورپ سمیت کئی ممالک نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ 15 جون سے سفری پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے یورپی ممالک میں سفر کرنا آسان ہوجائے گا۔

یورپی ممالک سمیت کئی ممالک نے 15 جون سے سفری پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے— عظمت اکبر
یورپی ممالک سمیت کئی ممالک نے 15 جون سے سفری پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے— عظمت اکبر

روبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق یورپی یونین میں شامل ممالک، شمالی آئرلینڈ کی مرکزی اور مقامی حکومتیں اور برطانیہ یہ غور کررہے ہیں کہ وہ اب وہ ان تمام مقامی سیاحوں کو قرنطینہ کریں جو کسی دوسرے ملک میں قیام کے بعد ملک واپسی آرہا ہو۔ لیکن اس کے لیے ایک شرط رکھی گئی ہے۔

یعنی اس حوالے سے کورونا وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے قائم یورپی مرکز کے اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کی جائے گی، اور صرف اسی صورت سیاحوں کو قرنطینہ کیا جائے گا جب متعلقہ ملک میں 7 دنوں کے دوران ایک لاکھ باشندوں میں سے مجموعی طور پر 50 افراد میں اس مرض کی نشاندہی ہوگی۔ اگر کورونا وائرس کی صورتحال قابو میں رہتی ہے تو قرنطینہ کی مذکورہ شرط ختم ہوسکتی ہے۔ اس خبر سے یورپی یونین اور برطانیہ کے سیاحوں میں خوشی کی لہر ضرور دوڑی ہوگی۔

سفری پابندیاں ختم ہونے پر یقیناً یورپی یونین اور برطانیہ کے سیاح خوش ہوں گے— عظمت اکبر
سفری پابندیاں ختم ہونے پر یقیناً یورپی یونین اور برطانیہ کے سیاح خوش ہوں گے— عظمت اکبر

پاکستان میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے باوجود لاکھوں سیاح عید الفطر کے موقعے پر سیاحتی مقامات کے انٹری پوائنٹس تک پہنچے لیکن وہاں موجود چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی فورسز نے انہیں واپس لوٹنے پر مجبور کیا۔

عید کے موقعے پر اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کا نکلنا یہ واضح کرتا ہے کہ ملک کے عوام اس وقت لاک ڈاؤن، بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے تعطل اور کورونا کے خوف سے تنگ آچکے ہیں اور وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ یقیناً ایسی صورتحال میں قدرت کی رنگینیوں سے خود کو محظوظ کرنے کی خواہش ہر فطرت پسند شخص کے اندر مچلنے لگی ہے۔

لاکھوں سیاح عیدالفطر کے موقع پر سیاحتی مقامات کے انٹری پوائنٹس تک پہنچے—عظمت اکبر
لاکھوں سیاح عیدالفطر کے موقع پر سیاحتی مقامات کے انٹری پوائنٹس تک پہنچے—عظمت اکبر

ڈھائی مہینے کے طویل لاک ڈاؤن کے بعد وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے حال ہی میں ملک بھر میں سیاحتی مقامات کو ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان سے جہاں پاکستانی سیاحوں کو قدرے سکون ملا وہیں سیاحت سے وابستہ افراد کو بھی امید کی کرن نظر آنے لگی۔

مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ اعلان کے اگلے ہی دن گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے سیاحتی مقامات کھولنے سے انکار کیا اور اس کی وجہ شمالی علاقہ جات میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو قرار دیا۔ تاہم پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت نے ایس او پیز کے تحت چند دن کے اندر سیاحتی مقامات کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران سیاحتی مقامات کھولنے سے متعلق نیشنل ٹؤرازم کوآرڈینیشن بورڈ (NTCB) کی طرف سے ایس او پیز کا پہلا مسودہ بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی فورسز نے سیاحوں کو واپس لوٹنے پر مجبور کیا— سیف الدین
چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی فورسز نے سیاحوں کو واپس لوٹنے پر مجبور کیا— سیف الدین

اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) ضابطہ کار کا پہلا مسودہ

ٹؤرآپریٹر کمپنیاں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں گی:

1: سیاحتی مقامات کے تمام داخلی پوائنٹس پر سیاحوں کی اسکریننگ کروائی جائے گی۔

2: فیس ماسک، دستانے، ہینڈ سینیٹائزرز سب کے پاس ہونے چاہئیں۔

3: سیاحوں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ کورونا وائرس سے بچاؤ سے متعلق بنائی گئی ایس او پیز پر عمل کرنے کے لیے بیان حلفی پر دستخط کریں اور جو سیاح ایس او پیز کی خلاف ورزی کرے گا اس کو ضرورت پڑنے پر قرنطینہ کیا جائے گا اور قید و جرمانے کی صورت میں سزا دی جائے گی۔

4: گروپ ٹؤر گائیڈ اپنے پاس تمام شرکاء کے کوائف پر مبنی پرفارمہ مرتب کرے گا۔ اس پروفارمہ میں سیاحوں کو پاسپورٹ/ شناختی کارڈ نمبر، گزشتہ 3 ماہ کی سفری تفصیلات، ایمرجنسی فون نمبر، ٹؤر کی مکمل تفصیلات (روزانہ کا شیڈول) درج کرنا ہوں گی۔

5: سفر کے دوران درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا ہوگا

  • ڈرائیور مکمل حفاظتی کٹ میں ہو (ماسک، داستانے وغیرہ)
  • گاڑی کو روانگی سے قبل اور بعد میں کلورین اسپرے سے صاف کیا جائے اور اس عمل کو بار بار دہرایا جائے
  • ٹؤر آپریٹر اور ڈرائیور کو اپنے صحت مند ہونے کی تصدیق محمکہ صحت یا کسی مجاز افسر سے کروانی ہوگی۔
  • گاڑی کے ڈیش بورڈ پر ہینڈ سینیٹائزرز کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔
  • ٹرانسپورٹر حضرات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گاڑی میں ڈرائیور والے حصے کو کسی طریقے سے الگ کردیا جائے تاکہ ڈرائیور اور مسافر حضرات کا میل جول ممکن نہ ہو اور بہتر انداز میں سفر مکمل کیا جائے۔

6: سیاحوں کے لیے دورانِ سفر حفاظتی اقدامات

  • سیاحوں کے درمیان دورانِ سفر محتاط فاصلہ یقینی بنایا جائے۔
  • فیس ماسک اور دستانے لازمی پہننا ہوں گے
  • دوران سفر اگر °68۔29 فارنہائٹ سے جسم کا درجہ حرارت زیادہ ہوجائے یا کورونا کی علامات نمایاں ہونے لگیں تو کسی بھی قریبی ہسپتال یا مرکز سے چیک اپ کروالیں۔
  • سفر سے پہلے تمام سیاح تھرمل ڈیوائس سے خود کو اسکین کروائیں، اگر درجہ حرارت زیادہ ہو تو قریب ترین صحت کے مرکز سے رجوع کریں (تھرمل ڈیوائس الیکٹرک تھرما میٹر ہوتا ہے)۔
  • دورانِ سفر کسی بھی جگہ سیاحوں کا ہجوم اکھٹا نہ ہونے دیا جائے۔
  • گاڑی میں ایک یا 2 نشستیں خالی رکھیں تاکہ دورانِ سفر اگر کسی سیاح میں وائرس کے آثار نمایاں ہوں تو اسے دوسرے سیاحوں سے الگ رکھا جاسکے۔

7: دورانِ سفر عارضی قیام و طعام

  • ٹؤر آپریٹر/کمپنیاں صرف شعبہ سیاحت (صوبائی/علاقائی محکمے) سے تصدیق شدہ ہوٹل/گیسٹ ہاؤسز میں سیاحوں کو ٹھہرا سکیں گی۔
  • تصدیق شدہ ہوٹل کی فہرست محکمہ سیاحت فراہم کرے گا۔
  • دورانِ سفر کھانے پینے اور آرام کے وقفے کے لیے رُکنا ہو تو پہلے سے طے شدہ اور تصدیق شدہ ہوٹلوں یا ریسٹورینٹ میں ہی رُکا جائے گا۔
  • سفر جاری رکھنے سے پہلے سیاحوں کے سامان کو دوبارہ صاف کیا جائے گا۔

8: سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں میں داخلے سے پہلے

  • تمام مہمانوں کا بخار چیک کیا جائے گا اور اگر کسی مہمان کا درجہ حرارت زیادہ ہو تو متاثرہ مہمان کو شائستگی سے واپس جانے کو کہا جائے گا اور قریبی ہسپتال یا طبّی سہولت سینٹر سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔
  • ہوٹل کے مرکزی دروازے پر مہمانوں کے استعمال کے لیے سینیٹائزر رکھے جائیں گے۔
  • مہمانوں کے سامنے ان کے سامان پر کلورین اسپرے کیا جائے گا۔
  • اگر کسی مہمان نے ماسک نہیں پہنا ہوا تو اسے ماسک فراہم کیا جائے گا۔
  • اگر مہمان کسی متاثرہ ملک سے آرہا ہے تو اس کی آمد سے قبل/ ریزرویشن کے وقت (کورونا وائرس سے متعلق) تمام ضروری معلومات لی جائیں گی۔
  • جن مہمانوں کی بکنگ کنفرم ہوجائے تو ان کی آمد سے متعلق تمام اہم امور کو آن لائن طے کرلیں اور غیر ضروری بالمشافہ رابطے سے ہر ممکن بچا جائے۔

9: آمد کے وقت سماجی دُوری برقرار رکھنے کے لیے استقبالیہ اور گیلری میں فرش پر مارکنگ کی جائے۔

10: اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہوٹل/ قیام گاہ پر عملے کے تمام ممبران ہر وقت ماسک اور دستانے پہنے ہوئے ہوں۔

11: سماجی دُوری کے اصولوں کی وجہ سے سیاحوں کو متبادل کمرے مختص کریں۔ یا درمیان میں ایک کمرہ چھوڑ دیں جبکہ ایک کمرے میں 2 افراد کے درمیان (6 میٹر کی) دُوری برقرار رکھنے کے انتظامات کیے جائیں۔

12: ہوٹلوں میں چیک اِن سے پہلے مہمانوں کو یہ ہدایت جاری کی جائے کہ کمرے کو کس طرح وقتاً فوقتاً صاف کیا جائے۔

13: صفائی کے حوالے سے ہدایات ہر کمرے میں موجود ہونی چاہئیں۔

14: صفائی کے عملے کو حفاظتی کٹ (فیس ماسک اور دستانے وغیرہ) پہننے کا پابند بنایا جائے۔

15: کمروں میں موجود بیڈ شیٹ، پردے اور دیگر فیبرک کو 2 دن میں ایک بار یا پھر مہمان کی درخواست پر تبدیل کیا جائے اور اس پر کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔

16: سیاحتی مقام سے واپسی کے لیے ضابطہ کار

  • اگر ممکن ہو تو ہوٹل میں واپسی کا راستہ الگ بنایا جائے یا پھر آن لائن نظام کے تحت رقوم و دیگر معاملات کو نمٹایا جائے تاکہ لوگوں کا آپس میں رابطہ کم سے کم ہو۔
  • مہمانوں کی واپسی کا پلان پہلے سے ہی طے کیا جائے تاکہ واپسی کے جملہ معاملات کو آسانی سے سر انجام دیا جاسکے۔

سیاحت کے لیے مندرجہ بالا نکات پر مبنی ضابطہ کار پر ٹؤر آپریٹروں اور ہوٹل مالکان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایس او پیز نہایت اجلت میں بنائی گئی ہیں اور سیاحت سے وابستہ سیکڑوں افراد کے ذہنوں میں ان ایس او پیز کے بارے میں درج ذیل سوالات نے جنم لیا ہے۔

  • شعبہ سیاحت کے لیے مرتب کردہ ضابطہ کار پر آخر عمل درآمد کب اور کیسے کیا جائے گا؟
  • کیا شعبہ سیاحت نے اپنے ادارے سے منسلک پیشہ ور افراد کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ورکشاپ یا ٹریننگ وغیرہ کا کوئی اہتمام کیا ہے؟
  • کیا ان کے لیے ضروری سامان خرید لیا گیا ہے؟
  • کیا ان ضابطوں کے بارے میں سیاحت کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے؟
  • کیا مشاورتی عمل میں صوبائی محکموں کو شامل کیا گیا ہے؟
  • کیا ہم دورانِ سفر کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کو نوٹ کرنے پر فوری انتظامات کرنے کی استعداد رکھتے ہیں؟
  • لاکھوں افراد کا روزگار اسی صنعت سے وابستہ ہے اور لوگوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے آخر حکومت کب اس جانب توجہ دے گی؟

ناران ہوٹل ایسوسی ایشن کے ممبر مشتاق احمد خان کے مطابق حکومت ایک طرف لاک ڈاؤن کی بات کررہی ہے جبکہ دوسری جانب بے ربط کاروبارِ زندگی چل رہا ہے اور ایس او پیز محض نوٹیفیکیشن کی صورت میں کاغذ کے ٹکڑوں کی حد تک نظر آرہی ہے۔

اس بارے میں حکومتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چونکہ سیاحتی مقامات پر موجود ہوٹل مالکان اس وقت ایک بڑے بحران سے گزر رہے ہیں لہٰذا ناران، سوات اور کمراٹ میں ہوٹل مالکان حکومتی سردمہری کے باوجود سیاحت کا پہیہ چلنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ حکومتی اعلان کے فوراً بعد ہوٹل مالکان نے ناران اور دیگر سیاحتی مقامات پر ہوٹل اور ریسٹورینٹ کی صفائی وغیرہ کے لیے عملے کو بلوالیا ہے۔

گیٹ وے ریسٹورنٹ ناران —عظمت اکبر
گیٹ وے ریسٹورنٹ ناران —عظمت اکبر

ناران میں گیٹ وے ریسٹورنٹ کو سالانہ 15 لاکھ روپے عوض لینے والے چشتیاں ضلع بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے عمر فاروق نے بتایا کہ حکومت کے اعلان کے بعد وہ اپنے عملے کے چند ارکان کے ہمراہ ناران پہنچے ہیں اور اب یہاں مہمانوں کی آمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے واضح لائحہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ مزید پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں۔

کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار وادی کمراٹ کے سب سے خوبصورت سیاحتی پوائنٹ جاز بانڈہ میں پنجاب ہوٹل کے مالک علی محمد نے کیا اور بتایا کہ حکومت کی طرف سے سیاحوں کو اجازت نہ ملنے پر وہ 3 دفعہ اپنے اسٹاف کو واپس بجھوا چکے ہیں۔

وادی کمراٹ کا سب سے خوبصورت سیاحتی پوائنٹ جاز بانڈہ— عظمت اکبر
وادی کمراٹ کا سب سے خوبصورت سیاحتی پوائنٹ جاز بانڈہ— عظمت اکبر

سیاحت کو کھولنے کے حوالے سے وزیرِاعظم کے اعلان کے باوجود صوبائی حکومتوں کی طرف سے سیاحت سے جڑے اقدامات کے معاملے پر خاموشی اور داخلی پوائنٹس پر انتظامات مزید سخت کرنے سے سیاحت سے وابستہ افراد اور سیاح شدید مایوسی اور تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں۔

اس صورتحال سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ صوبائی حکومتیں مرکزی حکومت کے فیصلے کو ہضم کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اس ہم آہنگی کے فقدان کے باعث ملک بھر میں کورونا کا موذی مرض کنٹرول میں آنے کے بجائے مزید پھیلتا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو شاید یہ خدشہ ہے کہ کہیں عید الفطر کی طرح اس بار بھی سیاحوں کی بڑی تعداد سیاحتی مقامات پر مقامی افراد میں کورونا وائرس کا موجب نہ بن جائے۔

دوسری وجہ ہمارے معاشرے میں کورونا وائرس کے معاملے میں برتی جانے والی بے احتیاطی ہے۔ عید سے پہلے عوام نے جس طرح حکومت کے مرتب کردہ ضابطہ کار کی دھجیاں بازاروں میں شاپنگ کے دوران اڑائی تھیں اسے مدِنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومتوں کے لیے سیاحت کو کھولنا ایک بڑے رسک سے کم نہیں ہوگا اور یقینی طور پر انہیں کئی خدشات لاحق ہوں گے۔

سیاحتی شعبے پر پابندی کے باعث لاکھوں افراد کو مالی مشکلات کا سامنا ہے— عظمت اکبر
سیاحتی شعبے پر پابندی کے باعث لاکھوں افراد کو مالی مشکلات کا سامنا ہے— عظمت اکبر

لیکن اس پریشانی کے باوجود سب کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سیاحت کے شعبے پر پابندی سے لاکھوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہزاروں گھرانوں کا چولہا سیاحت سے ہی چلتا ہے۔

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں تو لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے پیشِ نظر ہوٹل ایسوسی ایشنز اور سیاحت سے وابستہ دیگر افراد کی طرف سے حکومت سے مالی امداد اور سیاحتی مقامات کھولنے کے لیے احتجاج اور مطالبات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ایسے میں حکومت کے پاس بظاہر اتنے وسائل دستیاب نہیں ہیں کہ سیاحت کے شعبے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرسکے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ کار پر حکومتی ادارے، ٹؤر آپریٹر، ہوٹل و ریسٹورینٹ مالکان سر جوڑ کر بیٹھیں، متفقہ لائحہ عمل طے کریں اور پھر سیاحوں کو اس ضابطہ کار پر من و عن عمل کرنے کا پابند بنایا جائے تب جاکر سیاحت کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کو فاقہ کشی سے بچایا جاسکتا ہے۔