عمران خان نے کنٹینرز پر جو وعدے کیے شاید وہ بھول گئے لیکن عوام کو یاد ہیں، خواجہ آصف

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہمارے منصوبے کی تکمیل پر اپنے نام کی تختی لگا رہی ہے— فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہمارے منصوبے کی تکمیل پر اپنے نام کی تختی لگا رہی ہے— فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے بجلی کے ٹیرف میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین کے لیے مہنگی اور ناپید ہوتی جارہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل کنٹینرز پر کھڑے ہو کر جو وعدے کیے تھے، شاید وہ بھول گئے لیکن عوام کو سب کچھ یاد ہے۔

اسلام آباد میں احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ بجلی اور پیٹرول کے ساتھ آٹا بھی ناپید ہوتا جارہا ہے، پنجاب میں اپریل اور مئی میں گندم کی کٹائی ہوئی لیکن مارکیٹ میں آٹا مہنگا اور وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہے۔

مزیدپڑھیں: نیب نے خواجہ آصف کو 26 جون کو طلب کرلیا

خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کی سرپرستی میں مافیا پروان چڑھ رہی ہے، اگر ان کی تعداد کم تھی تو زیادہ کردی گئی، کسی کو یوٹیلیٹی اسٹور اور کسی کو ای سی سی کے ذریعے فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور اقتدار میں جتنی بجلی موجود تھی ہم نے اس کی مقدار کو دگنا کیا باوجود اس کے کہ ’وزیراعظم عمران خان نے کنٹینر کی سیاست کے ذریعے ہمارا ڈیڑھ سال ضائع کیا‘۔

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پانچ برس رہی لیکن ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا، مسلم لیگ (ن) کے منصوبے تیار ہونے پر موجودہ حکومت اپنے نام کی تختی لگا رہی ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ہماری حکومت نے فوڈ، انرجی اور واٹر سیکیورٹی کو ایک کرکے منصوبہ بنایا تاکہ متعلقہ شبعوں میں قلت پر قابو پایا جا سکے لیکن موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو تہس نہس کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کے الزامات بے بنیاد اور پروپیگنڈا ہیں، زلفی بخاری

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو مسلم لیگ (ن) کا وژن 2025 پسند نہیں تھا تو وہ اپنا منصوبہ پیش کرتی۔

احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت معیشت کو تنزلی کی طرف لے گئی جہاں سے دیگر خطوں کے مقابلے میں ہماری معیشت بتدریج مزید گرواٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نااہل شخص کے ہاتھوں پاکستان کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے جبکہ افغانستان کی کرنسی پاکستان کے مقابلے میں مستحکم ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت افغانستان کی کرنسی "افغانی" کے بمقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر کافی کم ہے۔ ایک "افغانی" کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر 2 روہے 16 پیسے ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ایم ایل ون کا منصوبہ گزشتہ برس شروع ہوجانا چاہیے تھا لیکن اس منصوبے کے لیے بجٹ میں رقم مختص نہیں کی گئی جس کی وجہ منصوبہ شروع نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 9 ارب ڈالر کے منصوبے کے لیے محض 6 ارب روپے مختص کریں گے اس رفتار سے ایم ایل ون منصوبہ 197برس میں مکمل ہوگا۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو چین کے صدر اور عوام سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ انہوں نے ماضی میں کہا تھا کہ چین کے صدر پاکستان کو مہنگے قرضے دینے کے لیے اسلام آباد آرہے ہیں جبکہ آج موجودہ حکومت کہتی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری ناگزیر ہے۔

مزیدپڑھیں: منی لانڈرنگ کا الزام: نیب کا خواجہ آصف کے خلاف تحقیقات کا آغاز

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی بیوروکریسی کو تباہ کردیا اور ان سے اعتماد چھین لیا، 6 مہینے میں تین سیکریٹری کامرس اور ایف بی آر میں پانچ چیئرمین تبدیل ہوچکے ہیں۔

صوبوں کے اندر پانچ، پانچ چیف سیکریٹریز اور آئی جی تبدیل ہوچکے ہیں، پنجاب کے ایئر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ 10 سیکریٹریز دو برس مٰیں تبدیل ہوچکے ہیں۔