سینیٹ کمیٹی نے فلم 'زندگی تماشا' ریلیز کرنے کی منظوری دے دی

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

سینیٹ کمیٹی نے زندگی تماشا کو ریلیز کرنے کی اجازت دے دی— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
سینیٹ کمیٹی نے زندگی تماشا کو ریلیز کرنے کی اجازت دے دی— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے فلم 'زندگی تماشا' پر لگائے گئے تمام تر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اس کی اسکریننگ کی اجازت دے دی ہے۔

پینل کی سربراہی کرنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سماجی رابطوں کی ویب ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں کہا کہ کمیٹی کو فلم میں کچھ بھی غلط نہیں دکھا اور سینسر بورڈ کو کورونا کے بعد اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ریلیز سے قبل ’زندگی تماشا‘ عالمی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

زندگی تماشا کا پریمیئر بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں کیا گیا تھا لیکن یہ اس وقت تنازعات کا شکار ہو گئی تھی جب تحریک لبیک پاکستان نے 24 جنوری کو فلم کی ریلیز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے توہین آمیز قرار دیا تھا۔

جنوری میں تحریک لبیک پاکستان نے ملک میں فلم کی ریلیز کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے منصوبوں کو اس وقت منسوخ کردیا تھا جب حکومت نے کہا تھا کہ فلم کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا حالانکہ سینسر بورڈ نے اسے دو مرتبہ کلیئر کردیا تھا۔

بعدازاں مارچ میں سینیٹ پینل برائے انسانی حقوق نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو فلم پر نظرثانی سے روک دیا تھا، پینل نے سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز کو ہدایت کی تھی کہ وہ کمیٹی کو مووی کی ایک نقل اسکریننگ کے لیے فراہم کریں تاکہ اراکین یہ فیصلہ کرسکیں کہ اس کا مواد قابل اعتراض ہے یا نہیں۔

اس وقت مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ اگر کمیٹی کو فلم میں کوئی قابل اعتراض چیز نظر آئی تو اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 'زندگی تماشا' کی ریلیز روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، سرمد کھوسٹ

انہوں نے مزید کہا تھا کہ کمیٹی کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور پارلیمنٹ اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔

انہوں نے فلم پر اعتراض اٹھانے والے تحریک لبیک پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ان قوتوں کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے جنہوں نے اسلام آباد کو دو مرتبہ یرغمال بنا لیا تھا۔

خیال رہے کہ 'زندگی تماشا' کی ہدایات سرمد کھوسٹ نے دی ہے جبکہ انہوں نے اپنی بہن کنول کھوسٹ کے ساتھ مل کر اس فلم کو پروڈیوس بھی کیا ہے۔

فلم کی کہانی نرمل بانو نے تحریر کی ہے جبکہ کاسٹ میں عارف حسین، سمیعہ ممتاز، علی قریشی اور ایمان سلیمان سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

یاد رہے کہ فلم کا پہلا ٹریلر گزشتہ سال ستمبر میں سامنے آیا تھا جسے دیکھ کر اگرچہ فلم کی کہانی کا اندازہ لگانا مشکل تھا تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی انتہائی حساس اور اہم موضوع کے گرد گھومتی ہے۔

مزید پڑھیں: 'زندگی تماشا' کی ریلیز روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، سرمد کھوسٹ

فلم کے ٹریلر میں عندیہ دیا گیا تھا کہ فلم میں مذہب اور سیاست کا لبادہ اوڑھے لوگ کس طرح اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں، فلم میں کچھ کرداروں کو بظاہر اچھے مگر چھپے ہوئے خراب کرداروں میں بھی دکھایا گیا تھا۔

ٹریلر کی ریلیز کے چند روز بعد ہی اسے یوٹیوب سے ہٹادیا گیا جس پر سرمد کھوسٹ نے وضاحت کی کہ اگرچہ ٹریلر میں فلم کی کہانی کو مکمل طور پر نہیں دکھایا گیا تھا اور نہ ہی فلم کی کہانی ٹریلر میں دکھائی گئی جھلک جیسی ہے تاہم کچھ لوگ فلم کی کہانی کو غلط انداز میں پیش کرکے پروپیگنڈا کر رہے ہیں اس لیے ٹریلر کو ہٹایا گیا۔

فلم نے اپنی ریلیز سے قبل ہی انٹرنیشنل ایوارڈ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا تھا۔