کیا آپ جانتے ہیں کہ ’سیلاب‘ کو سیلاب کیوں کہا جاتا ہے؟

21 جولائ 2020

ای میل

13 جولائی کے جسارت میں ایک خبر کی ذیلی سرخی ہے ’صوبوں سے دغا کیا جارہا ہے‘۔ جسارت میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ کام کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے سرخی نکالنے والے صاحب کے نزدیک ’دغا’ مذکر ہو۔ ’دغا‘ فارسی کا لفظ ہے اور بالاتفاق مونث ہے۔ مومن خان مومن کا شعر ہے

دیا علم و ہنر، حسرت کسی کو

فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی

ممکن ہے شمالی علاقوں میں ’دغا‘ مذکر ہو جیسا کہ ’قوم‘ ان علاقوں میں جاکر مذکر ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیے: جِرگہ لکھنے اور پڑھنے والے خبردار ہوجائیں، یہ اصل میں جَرگہ ہوتا ہے

’میعاد‘ بھی ’عوام‘ کی طرح ان الفاظ کی فہرست میں شامل ہوگیا جو کسی طرح صحیح نہیں ہورہے۔ کل کلاں کو شاید اسی کو فصیح قرار دے دیا جائے۔ جسارت کے 10 جولائی کے صفحہ کامرس کی سرخی ہے ’عہدے کی معیاد بڑھوانے کی کوشش‘۔ رپورٹر سے تو ایسی غلطیوں کا صدور باعثِ حیرت نہیں، لیکن اسی دن کے اخبار نوائے وقت کی سرخی ہے ’معیاد میں توسیع….‘ یہی ’معیاد‘ ٹی وی چینلز کی پٹیوں میں چل رہا ہے، حالانکہ ہر ٹی وی چینل سے اذان نشر ہوتی ہے جس کے بعد ایک دعا نشر ہوتی ہے جس میں ’لاتخلف المیعاد‘ کے الفاظ ہیں۔ اسی سے کچھ سیکھ لیا ہوتا۔

’معیاد‘ بروزن معیار کوئی لفظ نہیں، یہ ’میعاد‘ (می عاد) ہے۔ ’میعاد‘ عربی کا لفظ ہے، جمع مواعید۔ یہ مونث ہے۔ مطلب ہے وقتِ معیّنہ، ایامِ مقررہ۔ امیر مینائی کا شعر ہے

کھول کر بال جو آتے ہیں وہ زنداں کی طرف

کچھ بڑھا جاتے ہیں وہ میعاد گرفتاروں کی

’میعاد بولنا‘ کا مطلب ہے قید کا حکم لگانا، اور ’میعاد کاٹنا‘ یعنی قید کی مدت پوری کرنا۔ ہم ایک بار پھر اپنے صحافی بھائیوں سے التجا کریں گے کہ کبھی لغت بھی دیکھ لیا کریں۔ اخبار کے ہر دفتر میں ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھی شاید اس لیے نہیں دیکھتے کہ کوئی جاہل نہ سمجھے۔ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ پڑھے لکھے لوگ ہی لغت دیکھتے ہیں۔

11جولائی کے ایک بڑے اخبار کے اداریے میں پیٹرول کی فراوانی کے حوالے سے ایک ترکیب ’لہربحر‘ استعمال ہوئی ہے۔ اداریہ نویس عموماً زبان وبیان کے بارے میں عام کارکنوں سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔ ’لہربحر‘ کسی بحر یا سمندر کی لہر نہیں ہے، بلکہ یہ ’لہربہر‘ ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ کہیں ہمارے نوجوان صحافی لہربحر کو سند نہ سمجھ لیں۔ لہربہر ہندی کے الفاظ ہیں۔ کنایہ ہے خوش اقبالی، چہل پہل اور افراط سے۔ بطور سند داغ دہلوی کا شعر

یہ حسیں، یہ مہ جبیں یہ شہر ایسی لہر بہر

داغ کلکتہ سے لاکھوں داغ دل پر لے چلا

لہر بہر ہونا کا مطلب ہے کسی چیز کی کمی نہ ہونا۔ لہر چڑھتی بھی ہے۔ ایک مطلب تو یہ ہے کہ پانی کا زور پر ہونا، اور دوسرا مطلب ہے کتے یا سانپ کے کاٹے سے جسم میں زہر پھیل جائے۔ ایک مصرع ہے ’رخ پہ گیسو کی لہر آفت تھی‘۔ گیسو کو بھی سانپ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مثلاً ’چہرے پہ جوانی کے خزانے کے تھے کالے‘۔ ’کالا‘ سانپ کو کہتے ہیں۔ فارسی میں کہتے ہیں ’نے غم دزد، نے غم کالا‘۔ یعنی نہ چوری کا کھٹکا، نہ سانپ کا ڈر۔

مزید پڑھیے: سول ایوی ایشن اتھارٹی کو شہری ہوا بازی لکھنے اور کہنے میں کیا قباحت ہے؟

گزشتہ کئی دن سے اخبارات میں ایک نام ’عزیر‘ کا چرچا ہے، جسے کئی اخبارات ’عذیر‘ یعنی ’ز‘ کے بجائے ’ذ‘ سے لکھ رہے ہیں۔ عزیر ایک نبی کا نام ہے۔ سورہ توبہ (آیت:30) میں یہ نام آیا ہے ’یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘۔ اس کو ’عذیر‘ لکھنا بہت غلط ہے۔

13 جولائی کے ایک بڑے اخبار میں تو تماشا یہ ہوا کہ عزیر کو ’ذ‘ سے یعنی ’عذیر‘ لکھا گیا، مگر اسی اخبار میں ’عذر داری‘ کو ’عزرداری‘ لکھا ہے۔ جملہ ہے ’سپریم کورٹ نے انتخابی عزرداریوں سے متعلق….‘ ہمیں خدشہ ہے کہ کل کوئی ’معذور‘ کو بھی ’معزور‘ نہ لکھ دے۔ ویسے کمپوزنگ میں عموماً ’ذ‘ کی جگہ ’ز‘ کمپوز ہورہا ہے، لیکن تصحیح کرنے والے کیا کررہے ہیں؟

ایک نام شیخ زاید بھی عموماً زید لکھا جارہا ہے، شاید اس لیے کہ اردو میں زاید فالتو یا فضول کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ شیخ زاید کے نام سے اسپتال اور جامعات بھی ہیں جن پر بڑے بڑے حروف میں شیخ زاید یونیورسٹی یا اسپتال لکھا ہوا ہوتا ہے۔ ایک اور نام کلب حسین یا کلب علی ہے جسے اخبارات میں احتیاطاً ’قلب‘ کردیا جاتا ہے۔ یہ کام وہ کرتے ہیں جنہیں ’کلب‘ کا مطلب معلوم ہو۔ حالانکہ اہلِ تشیع میں یہ نام پسندیدہ ہے۔ کلب عباس ہو یا کلب صادق، ہم کون ہوتے ہیں نام بدلنے والے۔

پروفیسر وارث میر مرحوم کے برخوردار بہت سینئر صحافی جناب حامد میر ٹی وی پر تحریک عدمِ اعتماد اور عدمِ اطمینان کہتے رہتے ہیں، یعنی ’عدمے اعتماد، عدمے اطمینان‘۔ ان دونوں الفاظ میں ’م‘ ساکن ہے، اس کے نیچے زیر نہیں ہے۔

ایک ’بڑے‘ اخبار میں جید عالم کے پوتے اور بہت سینئر صحافی کے برخوردار ذرا ہٹ کے کالم لکھتے ہیں۔ انہوں نے 12 جولائی کے کالم میں لکھا ’فلاں کی مرہون منت تھا‘۔ اگر ’مرہون‘ مونث ہے تو ’تھا‘ کی کیا ضرورت؟ اور اگر مذکر ہے تو ’کی‘ نہیں لکھنا چاہیے۔ غالباً ’منت‘ کے مونث ہونے کی وجہ سے ’مرہون‘ بھی مونث ہوگیا۔ ’مرہون‘ عربی صفت اور مذکر ہے۔ اس کی مونث ’مرہونہ‘ ہے۔ مطلب ہے رہن کیا گیا۔ مرہون منت میں ’منت‘ فارسی ہے۔ احسان مند، شکر گزار۔ مذکورہ جملے میں ’کا مرہون منت تھا‘ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: ’قوس و قزح‘ کے رنگ میں ’و‘ اضافی ہے، اصل میں یہ ’قوس قُزح‘ کے رنگ ہے

اب تصحیح کا کام حضرت غازی علم الدین آگے بڑھائیں گے۔ وہ لکھتے ہیں

بھیڑ جمع ہوگئی/ مجمع جمع ہوگیا

ہمارے ہاں لکھنے پڑھنے میں حشو و زوائد کی غلطیاں عام ہیں۔ ’بھیڑ ہوگئی‘، ’مجمع ہوگیا‘ میں بات پوری ہوجاتی ہے۔

بے فضول

ہم بے خبری میں ’بے فضول‘ بول جاتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ’بے‘ کے اضافے سے اس کا معنیٰ الٹ ہوجائے گا یعنی قیمتی، گراں بہا اور اہم۔

پانی کا سیلاب

’سندھ میں پانی کے سیلاب نے تباہی مچادی‘۔ یہ جملہ لکھنے والے اخبار نویس کو علم ہونا چاہیے کہ لفظ سیلاب ’سیل’ اور ’آب‘ کا مرکب ہے۔ سَیل کے معنیٰ ریلا، بہاؤ اور رَوغیرہ کے ہیں۔ ریلا، بہاؤ اور رَوپانی ہی کے ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا سیلاب سے پہلے پانی کا اضافہ غیر ضروری اور اضافی ہے۔

’سیلاب‘ کا استعمال اس طرح ہونا چاہیے: ’سندھ میں شدید سیلاب کے سبب کئی گاؤں ڈوب گئے‘۔ مگر ہمارے بہت سے لکھنے والے یوں بھی لکھ جاتے ہیں: ’عید میلادالنبی کے جلوس میں انسانوں کا وہ سیلاب تھا کہ آدمی چل نہیں رہا تھا، بہا جارہا تھا‘۔ اس جملے میں سیلاب کا استعمال بہت کھٹکتا ہے۔ میرے نزدیک اسے یوں لکھنا چاہیے: ’انسانوں کا وہ سیل تھا کہ….‘ یا پھر سیدھے سیدھے یوں لکھا جائے: ’انسانوں کا وہ ریلا تھا‘۔

پُرکٹھن حالات میں

ایک صاحب نے ’کٹھن‘ کے ساتھ ’پُر‘ لگا کر ایک بھونڈی ترکیب وضع کردی۔ یہاں ’پُر‘ فالتو ہے۔ کٹھن ہی کافی ہے۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر فرائیڈے اسپیشل میں شائع ہوا اور با اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔